عبد الرحمٰن الشہبندر

عبد الرحمن الشهبندر

–

دمشق

شامی طبیب، سیاست دان اور مصنف (1879–1940)، فرانسیسی مینڈیٹ کے دور میں دمشق کی قومی تحریک کے نمایاں رہنما؛ انہوں نے 1925 میں حزب الشعب کی بنیاد رکھی، عظیم شامی بغاوت کے پھیلاؤ میں حصہ لیا، اور 6 جولائی 1940 کو دمشق میں قتل کر دیے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
طبیب · سیاست دان · writer
خطہ
levant-iraq
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · عبد العزیز ثعالبی · مولوی عبد الحق

مکان میں

دمشق

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الرحمٰن صالح الشہبندر (1879–1940) ایک شامی طبیب، سیاست دان اور مصنف تھا، شام کے فرانسیسی مینڈیٹ کے دور میں قوم پرست تحریک کے نمایاں ترین رہنماؤں میں سے ایک۔ اس نے 1925 میں حزب الشعب کی بنیاد رکھی، عظیم شامی بغاوت کی عبوری حکومت کا ترجمان رہا، اور 6 جولائی 1940 کو دمشق میں قتل کر دیا گیا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    الشہبندر 6 نومبر 1879 کو دمشق میں پیدا ہوا؛ عربی مضمون کے مطابق اس نے بیروت میں امریکن یونیورسٹی سے طب کی تعلیم حاصل کی اور 1906 میں فارغ التحصیل ہوا، جبکہ ویکیمیڈیا ڈیٹا کا ساختی عنصر اس کی پیدائش کا ایک مختلف سال، 1880، دیتا ہے۔ وہ سلطنتِ عثمانیہ سے علیحدگی کے اولین حامیوں میں سے تھا، اخبارات میں اپنے مضامین کے ذریعے قومی شعور کو فروغ دیا، عرب قوم پرست مفکرین کی تصانیف کا عربی میں ترجمہ کیا، اور فلسفہ، تاریخ اور مذہب پر لکھا، اس یقین کا اظہار کرتے ہوئے کہ عرب اقدار اور اخلاقی فلسفہ ایک خودمختار متحد قوم کے قیام میں مددگار ہوگا۔ 1 3 4

    مینڈیٹ کے تحت

    1919 میں اس نے دمشق میں خفیہ طور پر جمعیۃ الید الحدیدیہ کی بنیاد رکھی تاکہ مغربی استعماری توسیع کے خلاف کام کرے اور قومی وحدت کی دعوت دے؛ عرب مملکتِ شام کے خاتمے کے بعد اس نے اسے ایک خفیہ تنظیم کے طور پر دوبارہ قائم کیا، جس پر 1920–1921 میں دو فرانسیسی ایجنٹوں کے قتل کا الزام لگا۔ اسے گرفتار کر کے بیس سال قید کی سزا سنائی گئی؛ ڈیڑھ سال گزارنے کے بعد اسے رہا کر کے جلاوطن کر دیا گیا۔ جلاوطنی کے دوران اس نے وسیع امریکی رابطے بنائے، قاہرہ میں شامی-فلسطینی کانگریس کی بنیاد رکھی اور اس کی ایگزیکٹو کمیٹی کا رکن رہا، اور یورپ و امریکہ میں آزادی کے مقدمے کی وکالت کی۔ 1924 میں شام واپس آ کر وہ دمشق کی حدیدی کمیٹی کا سربراہ منتخب ہوا۔ 1 3

    حزب الشعب اور عظیم بغاوت

    اس نے 1925 میں حزب الشعب کی بنیاد رکھی، مجلسِ تأسیسی کے انتخاب کے لیے عوامی حمایت پیدا کی، اور اپنی تقریروں میں فرانسیسی حکومت اور اس کی من مانی پالیسیوں کی شدید مخالفت کی۔ اگست 1925 میں عظیم شامی بغاوت پھوٹ پڑی تو اس نے اور سلطان الاطرش نے اسے پھیلانے میں مدد کی، جبل الدروز میں ایک عبوری حکومت قائم کی جس کا وہ ترجمان تھا، اور اس کے نمائندے کو شاہی اسلامی اقوام کانفرنس میں بھیجا۔ بغاوت کی ناکامی کے بعد وہ 1927 میں شرقِ اردن اور پھر مصر فرار ہو گیا اور دس سال جلاوطنی میں فرانسیسی قبضے کا بے باک مخالف رہا۔ 1 3

    واپسی اور قتل

    وہ 1937 میں شام واپس آیا اور 1936 کے معاہدے کی شدید مخالفت کی، الکتلة الوطنیہ پر الزام لگایا کہ اس نے شام کی حالت بہتر بنانے کا موقع گنوا دیا۔ 6 جولائی 1940 کو دمشق میں تین مسلح افراد نے اس کے کلینک میں یا اس کے باہر اسے قتل کر دیا؛ دمشق نے نیشنل یوتھ کے تین رضاکاروں کو موردِ الزام ٹھہرایا، جبکہ فرانسیسیوں نے الکتلة الوطنیہ کی تین نمایاں شخصیات پر بھی اس کے قتل کی سازش کا الزام لگایا۔ وہ دمشق کے باب الصغیر قبرستان میں مدفون ہے۔ 1 3

    اس کے مذہب پر ایک نوٹ

    کوئی مضمون الشہبندر کے لیے کوئی مذہب بیان نہیں کرتا: انگریزی مضمون کا متن خاموش ہے، اردو مضمون صرف دو سطروں کا خاکہ ہے، اور ویکیمیڈیا ڈیٹا میں اس کی کوئی مذہبی قدر نہیں۔ جو کچھ موجود ہے وہ صرف عربی مضمون کا معلوماتی خانہ ہے، جو اس کا مذہب اسلام اور مکتب اہل السنہ والجماعہ دیتا ہے۔ ایک واحد معلوماتی خانے کی قدر میوزیم کے اس اصول کے تحت انتماء ثابت نہیں کر سکتی جس میں دو آزاد ماخذ کا ذاتی طور پر انتماء بیان کرنا ضروری ہے، اس لیے اس کے ریکارڈ میں قدر نامعلوم رکھی گئی ہے اور خانے کی قدریں جیسی ہیں ویسی درج ہیں۔ 3 1 2 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دمشق
    Died in
    دمشق
    Buried in
    دمشق

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)· قصر هرقل (شمس الملوك)· الجامع الأموي بدمشق· فتنة الحافظ عبد الغني بدمشق سنة 595· حصر الأفضل دمشق وعوده عنها· استيلاء العادل على دمشق· قدوم الغزالي دمشق متزهداً سنة 488· ملك الملك الأشرف مدينة دمشق

    ماخذ

    1. Abd al-Rahman Shahbandar — English Wikipedia
    2. Abd al-Rahman Shahbandar — Urdu Wikipedia
    3. Abd al-Rahman Shahbandar — Arabic Wikipedia
    4. Abd al-Rahman Shahbandar — Wikidata Q4664585
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الرحمٰن الشہبندر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-al-rahman-shahbandar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الكهف بقاسيون (كهف جبريل)

    The mosque raised inside the cave of Mount Qasyun by Abu al-Faraj Muhammad ibn Abd Allah ibn al-Mu'allim beginning in 370, after a dream in which Jibril bade him build a mosque where God's name would be remembered — he called it Jibril's Cave; a broad prayer-hall floored in white marble, its columns all marble, never empty of the pious at remembrance.