شیخ عبد المجید سندھی

شيخ عبد المجيد السندي

–

شیخ عبد المجید سندھی (1889ء–1978ء)، سندھی مصنف، صحافی اور سیاست دان۔ وہ ٹھٹہ میں ایک ہندو خاندان میں جیٹھانند کے نام سے پیدا ہوئے، 1908ء میں اسلام قبول کیا، الامين اور الوحید کی ادارت سنبھالی، ریشمی رومال تحریک میں حصہ لینے پر دو مرتبہ قید ہوئے، 1937ء میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں سندھ کے وزیر بنے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · صحافی · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: محمد ادریس سنوسی · محمد الصالح بن مراد · عزير كول البشاوري · خان عبد الغفار خان · حسنین محمد مخلوف

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    شیخ عبد المجید سندھی (7 جولائی 1889ء – 24 مئی 1978ء)، سندھی مصنف، صحافی اور سیاست دان۔ وہ ٹھٹہ میں ایک ہندو خاندان میں جیٹھانند کے نام سے پیدا ہوئے، 1908ء میں اسلام قبول کیا، الامين اور پھر روزنامہ الوحید کی ادارت سنبھالی، ریشمی رومال تحریک اور تحریک خلافت میں حصہ لینے پر دو مرتبہ قید ہوئے، بمبئی سے سندھ کی علاحدگی کے بعد 1937ء میں سندھ اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے اور 1940ء میں سندھ کے وزیر بنے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور اسلام قبول کرنا

    وہ 7 جولائی 1889ء کو ٹھٹہ میں پیدا ہوئے؛ اردو مقالے میں ان کا پیدائشی نام «جیٹھا آنند» ملتا ہے۔ 1 2 انھوں نے ٹھٹہ سے میٹرک کیا۔ 1 انگریزی مقالے کے مطابق وہ بچپن سے روحانی راہ کی تلاش میں تھے، اور 10 فروری 1908ء کو حیدرآباد سندھ میں شیخ عبد الرحیم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا۔ 1 اردو مقالے میں — ڈان اردو اور پاکستان کرانیکل کے حوالے سے — یہی واقعہ یوں آیا ہے کہ انھوں نے بیس برس کی عمر میں عبد الرحیم کے ہاتھ پر اسلام قبول کیا، جنھوں نے ان کا نام عبد المجید رکھا، اور ہندوؤں کے احتجاج پر کچھ عرصہ لودھیانہ بھیجے گئے، پھر کراچی اور حیدرآباد آئے۔ 2 کسی ماخذ میں ان کے لیے کوئی مذہب (مکتب) یا سلسلہ نہیں آیا، اس لیے ان کے ریکارڈ میں صرف اسلام قبول کرنا درج ہے۔

    صحافت

    انھوں نے پہلے مشہور وکیل دی چند اوجھا کے منشی کا عہدہ سنبھالا۔ 1 رئیس غلام محمد خان بھرگڑی نے انھیں اپنے اخبار «الامين» کا مدیر اور پھر اپنا سیاسی مشیر بنایا۔ 1 اردو مقالے کے مطابق صحافت کا آغاز سکھر سے نکلنے والے ہفت روزہ «الحق» سے ہوا۔ 2 1924ء میں وہ روزنامہ «الوحید» کے مدیر بنے، جو اس زمانے میں سندھ کا واحد روزنامہ تھا، اور اس کے ذریعے سندھی مسلمانوں میں سیاسی بیداری پیدا کی؛ «سندھ آزاد» نمبر بھی اسی سلسلے کی اشاعت ہے۔ 1 2

    سیاسی خدمات

    وہ مولانا عبید اللہ سندھی کی ریشمی رومال تحریک میں سرگرم رہے اور 1919ء میں تین سال قید رہے۔ 1 1920ء میں لاڑکانہ میں انگریز مخالف جلوس سے خطاب پر مزید دو سال کی قید ہوئی؛ اردو مقالہ اس قید کو تحریک خلافت میں انگریزوں کے خلاف تقریر سے جوڑتا ہے۔ 1 2 انھوں نے 1929ء–1930ء میں آل انڈیا مسلم لیگ آلہ آباد، خلافت کانفرنس اجمیر اور سندھ آزاد کانفرنس کراچی میں شرکت کی، اور سندھ کو بمبئی سے الگ کرنے کی کوششوں میں حصہ لیا، جو 1936ء میں پوری ہوئیں۔ 1 2 1937ء میں وہ اپنے حلقے سے سر شاہ نواز بھٹو کو ہرا کر سندھ اسمبلی کے رکن بنے، اور 1940ء میں میر بندہ علی خان ٹالپر کی وزارت میں وزیر ہوئے۔ 1 1943ء میں مسلم لیگ چھوڑ دی۔ 1

    تصانیف

    انگریزی مقالے کے مطابق ان کی کتب میں «فتح اسپین»، «حضرت عمر بن عبد العزیز»، «المرتضیٰ»، «تاریخ جواہر» اور «حضرت علی و حضرت عمر» شامل ہیں۔ 1

    وفات

    وہ 24 مئی 1978ء کو حیدرآباد سندھ میں وفات پا گئے اور اپنی وصیت کے مطابق مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کے مزار کے قریب مکلی کے قبرستان میں دفن ہوئے۔ 1 2 ویکی ڈیٹا میں وفات 25 مئی 1978ء ہے؛ دونوں مقالوں کا اتفاق 24 مئی پر ہے۔ 3

    مآخذ

    • اوپر جن مآخذ کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تعریف کردہ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعے کی تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Abdul Majid Sindhi — English Wikipedia
    2. Abdul Majid Sindhi — Urdu Wikipedia
    3. Abdul Majid Sindhi — Wikidata Q24203517
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “شیخ عبد المجید سندھی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-majid-sindhi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔