محمد ادریس سنوسی

محمد إدريس السنوسي

–

القاهرة → المدينة المنورة

لیبیا کے بادشاہ (1889–1983)؛ جغبوب میں پیدا ہوئے، 1916 میں اپنے چچا زاد احمد الشریف کے بعد سنوسی سلسلے کے سربراہ بنے، برقہ اور پھر طرابلس کے امیر ہوئے، اطالوی دور میں مصر میں جلاوطنی گزاری، اور 24 دسمبر 1951 کو متحدہ مملکتِ لیبیا کے بادشاہ قرار پائے؛ یکم ستمبر 1969 کی بغاوت میں معزول ہو کر قاہرہ میں جلاوطنی میں وفات پائی اور مدینہ کے جنت البقیع میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · emir
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عزير كول البشاوري · خان عبد الغفار خان · حسنین محمد مخلوف · حامد الأيتاج · عبد الله الموسوي الشيرازي

مکان میں

القاهرةالمدينة المنورة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد ادریس بن محمد المہدی سنوسی (12 مارچ 1889 – 25 مئی 1983؛ عربی مقالہ 1890 دیتا ہے) 24 دسمبر 1951 سے یکم ستمبر 1969 میں معزولی تک لیبیا کے بادشاہ رہے، اور اس سے پہلے سنوسی سلسلے کے سربراہ اور برقہ و طرابلس کے امیر تھے۔1

    ابتدائی زندگی

    وہ سنوسی تحریک کے مرکز جغبوب میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد محمد المہدی سنوسی اور دادا محمد بن علی سنوسی سنوسی صوفی سلسلے کے بانی تھے۔ عربی مقالے کے مطابق وہ سنوسی سلسلے کے فرد کے طور پر پیدا ہوئے اور اپنے دادا کے منصب کے وارث بن کر اس کے زعیم ہوئے۔1

    سلسلے کی سربراہی

    1916 میں انہوں نے اپنے چچا زاد احمد الشریف کے بعد سلسلے کی قیادت سنبھالی، مصر میں برطانوی افواج پر حملے بند کیے اور اٹلی سے معاہدے کیے؛ 1920 کے معاہدۂ رجمہ نے انہیں امیرِ برقہ تسلیم کیا اور 1922 میں طرابلس کی امارت بھی پیش کی گئی۔ اٹلی کے دوبارہ قبضے پر وہ مصر میں طویل جلاوطنی میں رہے۔2

    بادشاہت

    دوسری جنگِ عظیم کے بعد اقوامِ متحدہ نے لیبیا کی آزادی کا فیصلہ کیا اور 24 دسمبر 1951 کو ادریس متحدہ مملکتِ لیبیا کے بادشاہ قرار پائے۔ انہوں نے سیاسی جماعتوں پر پابندی لگائی، 1963 میں مملکت کو وحدانی ریاست بنایا اور تیل کی ابتدائی خوشحالی کی نگرانی کی، یہاں تک کہ یکم ستمبر 1969 کو معمر قذافی کی قیادت میں فوجی افسروں نے انہیں معزول کر دیا جب وہ علاج کے لیے ترکی میں تھے۔2

    وفات

    وہ قاہرہ میں جلاوطنی میں رہے، وہیں 25 مئی 1983 کو انتقال ہوا اور مدینہ منورہ کے جنت البقیع میں دفن ہوئے۔1

    حوالہ جات

    {3} {1} {2}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Buried in
    المدينة المنورة
    Child of
    محمد المهدي السنوسي
    Predecessor of
    معمر قذافی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مسجد القبلتين· المسجد النبوي· حرم المدينة· اليهودية في جزيرة العرب قبل الإسلام· المجتمع في المدينة عند الهجرة· آطام يثرب

    ماخذ

    1. Wikipedia (Arabic): Idris of Libya
    2. Wikipedia (English): Idris of Libya
    3. Wikipedia (Urdu): Idris of Libya
    • Wikipedia (French): Idris of Libya
    • Idris of Libya — Wikidata Q116430
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد ادریس سنوسی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/idris-senussi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.