عبد الرحمن ابراہیم ابن سوری

عبد الرحمن بن إبراهيم سوري

–

غنی کے فوتا جلون کے ایک شہزادے اور عسکری قائد، المامی ابراہیم سوری کے بیٹے، جنہوں نے ٹمبکٹو اور جینے میں اسلامی تعلیم حاصل کی۔ 1788 میں ایک عسکری مہم میں گرفتار ہو کر غلام فروشوں کے ہاتھ بکے اور نچز، مسیسپی کے قریب ایک کپاس کے باغ میں چالیس برس غلامی میں گزارے۔ 1828 میں سلطانِ مراکش کی درخواست پر صدر جان کوئنسی ایڈمز کی مداخلت سے آزاد ہوئے، 1829 میں لائبیریا روانہ ہوئے اور چند مہینوں میں وہیں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل
خطہ
west-africa-sahel · americas-oceania
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: الرحمتي · الشوكاني · بيرم الثاني محمد بن محمد · حمدان خوجة · سيدي بن المختار الأبيري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الرحمن ابراہیم ابن سوری (1762 – 6 جولائی 1829) غنی کے فوتا جلون سے تعلق رکھنے والے ایک فولانی شہزادے اور عسکری قائد تھے، جو 1788 میں گرفتار ہوئے، غلام فروشوں کے ہاتھ بکے، اور نچز، مسیسپی کے قریب چالیس برس غلامی میں رہے۔ ان کے مالک تھامس فوسٹر نے انہیں «شہزادہ» کہا، یہی لقب ان کی پہچان بنا۔ 1828 میں سلطانِ مراکش کی صدر جان کوئنسی ایڈمز سے ان کے حق میں سفارش کے بعد وہ آزاد ہوئے، 1829 میں اپنے بچوں کی رہائی کے لیے چندہ جمع کرنے کی غرض سے لائبیریا روانہ ہوئے اور چند مہینوں میں وہیں وفات پا گئے۔12

    فوتا جلون میں ابتدائی زندگی

    وہ ابراہیم سوری کے بیٹے تھے، وہ المامی جنہوں نے 1776 میں فوتا جلون کی اسلامی کنفیڈریشن کو متحد کیا اور ٹمبو کو اس کا دارالحکومت بنایا۔ انگریزی مضمون ایلن آسٹن کی سوانح کے حوالے سے ان کی پیدائش 1762 میں ٹمبکٹو بتاتا ہے اور کہتا ہے کہ خاندان ان کی پانچ سال کی عمر میں ٹمبو منتقل ہوا؛ عربی اور فرانسیسی مضامین اور ویکی ڈیٹا ان کی جائے پیدائش ٹمبو ہی بتاتے ہیں، اور یہ اختلاف ڈیٹا ریکارڈ میں درج ہے۔ انہوں نے جینے اور ٹمبکٹو کے مدارس میں تعلیم حاصل کی اور عربی کے علاوہ کم از کم چار افریقی زبانیں بولتے تھے۔ 1781 میں وہ اپنے والد کی فوج میں شامل ہوئے اور ایک رجمنٹ کے کمانڈر، امیر، بنے۔ 1788 میں ہیبوہ قوم کے خلاف مہم میں دو ہزار سواروں کی قیادت کرتے ہوئے وہ گھات میں پھنسے، زخمی ہوئے اور گرفتار کر لیے گئے، اور غلاموں کے جہاز «افریقہ» پر بیچ دیے گئے۔342

    مسیسپی میں غلامی

    ڈومینیکا اور نیو اورلینز کے راستے انہیں نچز میں کپاس کے کاشتکار تھامس فوسٹر کے ہاتھ بیچا گیا۔ ابتدا میں انہوں نے کھیت کا کام کرنے سے انکار کیا، بار بار کوڑے کھا کر فرار ہوئے، ہفتوں چھپے رہے، پھر اپنی مرضی سے واپس آ گئے۔ اڑتیس برسوں میں وہ باغ کے مویشیوں اور کپاس کے قابلِ اعتماد نگران بن گئے اور انہیں واشنگٹن، مسیسپی کے بازار میں اپنی سبزیاں بیچنے کی اجازت ملی۔ کرسمس 1794 کو انہوں نے آئزابیلا سے شادی کی، جو فوسٹر کی ایک اور غلام تھیں؛ ان کے نو بچے ہوئے۔ 1807 میں اسی بازار میں اتفاقاً ان کی ملاقات ڈاکٹر جان کوٹس کوکس سے ہوئی، ایک آئرش جہاز کے جراح سے، جسے کبھی ٹمبو میں ان کے والد کے گھر چھ مہینے پناہ ملی تھی۔ کوکس نے بقیہ زندگی سوری کی آزادی خریدنے کی کوشش کی، اور ان کے بیٹے نے بھی یہ کوشش جاری رکھی؛ فوسٹر نے دونوں کو انکار کیا کیونکہ وہ انہیں ناگزیر سمجھتا تھا۔3

    خط اور آزادی

    1826 میں صحافی اینڈریو مارشاک کی ترغیب پر سوری نے عربی میں افریقہ میں اپنے خاندان کو خط لکھا۔ یہ خط سینیٹر تھامس ریڈ کے ذریعے مراکش میں امریکی قونصل خانے پہنچا، جس کے قونصل نے اسے سلطانِ مراکش کے سامنے رکھا؛ سلطان نے صدر ایڈمز اور وزیرِ خارجہ ہنری کلے سے مداخلت کی درخواست کی اور بدلے میں مراکش میں قید امریکیوں کی رہائی کی پیشکش کی۔ 1828 میں فوسٹر بغیر معاوضے کے سوری کو آزاد کرنے پر راضی ہوا، اس شرط پر کہ وہ افریقہ چلے جائیں؛ آئزابیلا کی آزادی نچز میں جمع شدہ دو سو ڈالر سے خریدی گئی۔ روانگی سے پہلے میاں بیوی نے دس مہینے شمالی شہروں کا دورہ کیا تاکہ اپنے بچوں اور پوتوں کی آزادی خریدنے کے لیے رقم جمع کریں۔ وہ مطلوبہ دس ہزار ڈالر میں سے تقریباً چار ہزار جمع کر سکے اور 9 فروری 1829 کو نورفوک سے «ہیریٹ» پر سوار ہوئے، جو امریکن کولونائزیشن سوسائٹی کا لائبیریا جانے والا جہاز تھا۔ مونروویا پہنچنے کے چار مہینے بعد سوری 6 جولائی 1829 کو بخار سے وفات پا گئے، تقریباً سڑسٹھ برس کی عمر میں، بغیر فوتا جلون یا اپنے بچوں کو دوبارہ دیکھے۔ ان کی اور آئزابیلا کی جمع کردہ رقم سے ان کے دو بیٹوں اور ان کے خاندانوں کو آزادی ملی، جو ان کی وفات کے اگلے سال مونروویا میں ان کے پاس آ گئے۔34

    ان کا دین، جیسا کہ ماخذ بیان کرتے ہیں

    انگریزی، عربی اور فرانسیسی مضامین آزادانہ طور پر سوری کو مسلمان بیان کرتے ہیں: اسلامی مطالعے سے آراستہ ایک فولانی مسلمان شہزادہ، اور اردو مضمون انہیں مسلمان حکمران کہتا ہے۔ انگریزی مضمون ان کے امریکی برسوں کی کیفیت بھی درج کرتا ہے: وہ اپنے خاندان کے ساتھ بپتسمہ دینے والوں کی عبادتوں میں شریک ہوتے، آئزابیلا بپتسمہ کلیسیا میں شامل ہو چکی تھیں، جبکہ وہ تثلیث کے عقیدے پر اعتراض کرتے کہ یہ اس اسلامی ایمان کے خلاف ہے جس میں وہ پلے بڑھے؛ مضمون کہتا ہے کہ انہوں نے چندہ اس ظاہر داری سے جمع کیا کہ گویا وہ عیسائیت پوری طرح قبول کر چکے ہیں؛ اور افریقہ نظر آتے ہی وہ اسلام کی مکمل پر عمل پیرا ہو گئے۔ کسی بھی ماخذ نے ان کے لیے شخصی طور پر کوئی فقہی مذہب، فرقہ یا سلسلہ نامزد نہیں کیا، اس لیے ڈیٹا ریکارڈ میں ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے اور یہ پورا سفر محفوظ ہے۔315

    وراثت

    ٹیری الفورڈ کی سوانح «پرنس امنگ سلیوز» (1977) نے دستاویزات اور ہم عصروں کی شہادتوں سے ان کی زندگی کو از سرِ نو ترتیب دیا؛ آندریا کیلن کی اسی نام کی 2007 کی فلم، جو پی بی ایس کے لیے بنائی گئی، نے یہ قصہ آگے پہنچایا۔ ان کی اولاد مونروویا اور ریاستہائے متحدہ میں رہتی ہے اور 2006 میں انہوں نے خاندانی اجتماع منعقد کیا۔43

    ماخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ ادارے، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے، اور اس ماخذ کا نام لینا چاہیے جس نے ہر واقعہ بدلا۔

    ماخذ

    1. Abdul Rahman Ibrahima Sori — Urdu Wikipedia
    2. Abdul Rahman Ibrahima Sori — French Wikipedia
    3. Abdul Rahman Ibrahima Sori — English Wikipedia
    4. Abdul Rahman Ibrahima Sori — Arabic Wikipedia
    5. Abdul Rahman Ibrahima Sori — Wikidata Q3825124
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الرحمن ابراہیم ابن سوری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-rahman-ibrahima-sori/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔