ایک نظر میں
- کردار
- عالم · سائنس دان
- خطہ
- south-asia
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
خلاصہ
عبد الصمد (پیدائش 1981ء، متنازع) ایک پاکستانی ماہر آثار قدیمہ اور سرکاری افسر ہیں جن کا تعلق خیبر پختونخوا کے شہر کوہاٹ سے ہے اور وہ صوبے کے ڈائریکٹر جنرل آرکیالوجی و میوزیمز ہیں۔ انھوں نے پشاور یونیورسٹی اور فری یونیورسٹی برلن سے تعلیم حاصل کی، 2014ء میں صوبائی ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی کا چارج سنبھالنے سے پہلے ہزارہ یونیورسٹی میں تدریس کی، کتاب «Emergence of Hinduism in Gandhara» لکھی، اور 2018ء میں صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی پایا۔ 1 2
تعلیم اور علمی زندگی
صمد کا تعلق کوہاٹ کے علاقے جنگل خیل سے ہے۔ انھوں نے پشاور یونیورسٹی سے آثار قدیمہ میں ایم اے اپنی جماعت میں اول آ کر طلائی تمغے کے ساتھ کیا، پھر ڈاڈ اسکالرشپ پر فری یونیورسٹی برلن گئے جہاں 2011ء میں پی ایچ ڈی مکمل کی اور گندھارا کے فن، مسکوکات اور جنوبی ایشیا کی زبانوں و ثقافتوں میں تخصص کیا؛ انھوں نے سنسکرت بھی پڑھی۔ فلبرائٹ پوسٹ ڈاکٹریٹ فیلوشپ انھیں یونیورسٹی آف وسکونسن میڈیسن لے گئی۔ سرکاری ملازمت سے پہلے انھوں نے مانسہرہ کی ہزارہ یونیورسٹی میں تقریباً دس سال آثار قدیمہ پڑھایا، اور وہ بھامالا بدھ مت کمپلیکس کی کھدائیوں سے وابستہ رہے۔ ان کی ڈاکٹریٹ تحقیق، جو «Emergence of Hinduism in Gandhara» کے عنوان سے شائع ہوئی، قدیم گندھارا میں ہندو مت کے ظہور کا آثار قدیمہ کے شواہد سے جائزہ لیتی ہے۔ 1 2
خیبر پختونخوا میں آثار قدیمہ کی قیادت
جون 2014ء میں صمد خیبر پختونخوا حکومت کے ڈائریکٹوریٹ آف آرکیالوجی اینڈ میوزیمز کے ڈائریکٹر مقرر ہوئے — اس عہدے پر فائز ہونے والے کم عمر ترین افراد میں سے ایک — اور بعد میں اس کے ڈائریکٹر جنرل اور سیکرٹری بنے، پشاور میوزیم کی سربراہی بھی کی اور عالمی بینک کی امداد سے چلنے والے کائٹ (KITE) سیاحتی منصوبے کی ہدایت بھی کی۔ صرف وادی چترال میں دو سو سے زائد نئے آثار قدیمہ مقامات کی دریافت اور صوبے بھر میں عجائب گھروں کے قیام و ترقی کا سہرا انھیں جاتا ہے۔ 2018ء میں انھیں آثار قدیمہ میں صدارتی تمغۂ حسن کارکردگی ملا۔ فروری 2019ء میں قومی احتساب بیورو نے انھیں آثار قدیمہ مقامات پر تقرریوں میں اختیارات کے ناجائز استعمال کے الزامات پر گرفتار کیا؛ پشاور ہائی کورٹ نے 15 مئی 2019ء کو انھیں ضمانت دی، اگلے دن وہ دفتر واپس آئے، اور صوبائی حکومت نے انھیں ڈائریکٹر بحال کر دیا۔ اس سجل کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ میں عبد الصمد کے لیے کوئی مذہب یا مذہبی مکتب فکر نامزد نہیں — ان کا تحقیقی موضوع، گندھارا میں ہندو مت کا ظہور، ان کا علمی میدان ہے، ان کا مذہب نہیں — اور یہ سجل بھی کوئی درج نہیں کرتا۔ 1 3
مآخذ
- اوپر مذکور ماخذ کے معرّف کيانات، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی نظر ثانیاں مؤرخہ ہونی چاہئیں اور ہر حقیقت کو بدلنے والے ماخذ کا نام دینا چاہیے۔
ماخذ
- Pakistan Tourism Portal: Dr. Abdul Samad profile
- Sangemeel: Emergence of Hinduism in Gandhara — author biography
- Lead Pakistan (2019): KP government reinstates Samad as Director Archaeology
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الصمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdul-samad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-31.