ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · businessman
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
سر عبد اللہ ہارون (1872ء – 27 اپریل 1942ء)، برطانوی ہند کے کراچی سے تعلق رکھنے والے سیاست دان اور تاجر، جنھوں نے برصغیر میں مسلمانوں کے معاشی، تعلیمی، سماجی اور سیاسی کردار کی تشکیل میں اہم حصہ لیا۔ غربت سے اٹھ کر چینی کی تجارت میں «شوگر کنگ» کہلانے والے اس تاجر نے سندھ خلافت کمیٹی اور صوبائی مسلم لیگ کی صدارت کی، 1938ء میں پہلی سندھ صوبائی مسلم لیگ کانفرنس منعقد کی اور 1940ء میں قرارداد لاہور کی تائید کی، اور وہ ہمیشہ فلاحی کاموں کے لیے مشہور رہے۔ 1 2
ابتدائی زندگی اور کاروبار
وہ 1872ء میں کراچی میں سندھی میمن خاندان میں پیدا ہوئے؛ اردو مقالہ کچھی میمن برادری اور غریب گھرانہ بتاتا ہے اور والد کا نام ہارون درج کرتا ہے۔ 1 3 چار برس کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا اور پرورش دادی نے کی، جنھیں انگریزی مقالہ «نہایت مذہبی خاتون» کہتا ہے۔ 1 ابتدا میں انھوں نے چار آنے روزانہ پر سائیکل مرمت کرنے والے کے معاون کی ملازمت کی۔ 1 1896ء میں، 24 برس کی عمر میں، کراچی میں چھوٹا کاروبار شروع کیا اور چینی کی تجارت میں اتنے کامیاب ہوئے کہ ہم عصر انھیں سندھ کا «شوگر کنگ» کہنے لگے۔ 1
سیاسی خدمات
وہ مئی 1913ء تا ستمبر 1916ء اور پھر 1 مئی 1921ء تا 21 اگست 1934ء کراچی بلدیہ کے رکن رہے۔ 1 1917ء میں انڈین نیشنل کانگریس میں شامل ہوئے اور تحریک آزادی میں حصہ لینے لگے، اور 1924ء میں مرکزی قانون ساز اسمبلی کے لیے منتخب ہوئے اور 1930ء و 1934ء میں دوبارہ منتخب ہوئے۔ 1 1919ء میں وہ سندھ خلافت کمیٹی کے صدر بنے، اور 1920ء تا 1930ء صوبائی مسلم لیگ سندھ کے صدر رہے۔ 1 کانگریس کی پالیسیوں سے مایوس ہو کر وہ آل انڈیا مسلم لیگ میں شامل ہو گئے اور وفات تک اس کے پختہ حامی رہے۔ 1
1930ء میں انھوں نے سندھ یونائیٹڈ پارٹی بنائی، جس نے سندھ کو بمبئی پریزیڈنسی سے الگ کرنے کا مطالبہ کیا، جو اپریل 1936ء میں پورا ہوا۔ 1 1937ء کے صوبائی انتخابات میں ان کی جماعت نے سب سے زیادہ نشستیں جیتیں مگر حکومت نہ بنا سکی۔ 1 1937ء میں جارج ششم نے تاجپوشی کے اعزازات میں انھیں نائٹ کا خطاب عطا کیا۔ 1
اکتوبر 1938ء میں شیخ عبد المجید سندھی اور پیر علی محمد راشدی کی مدد سے انھوں نے کراچی میں پہلی سندھ صوبائی مسلم لیگ کانفرنس منعقد کی، جس کی صدارت محمد علی جناح نے کی؛ ہارون استقبالیہ کمیٹی کے چیئرمین تھے اور انھوں نے اپنے استقبالیہ خطاب میں کہا کہ ہندوستان «راستوں کے جدا ہونے» کے قریب ہے۔ 1 عربی مقالہ اسی کانفرنس میں جناح کی صدارت میں پاکستان کی آزادی کا فیصلہ درج کرتا ہے۔ 2 انھوں نے لاہور اجلاس میں تقریر کی اور 23 مارچ 1940ء کو سندھ کے مسلمانوں کی طرف سے قرارداد لاہور کی تائید کی، اور اس قرارداد کی تدوین و منظوری دینے والی مسلم لیگ ورکنگ کمیٹی کے رکن تھے۔ 1 2
فلاحی کام
وہ تمام عمر سماجی فلاح میں سرگرم صاحب خیر رہے: نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے حوالے سے انگریزی مقالہ ان کے عطیات 88,961 روپے بتاتا ہے۔ 1 اردو مقالے کے مطابق انھوں نے بہت سے مدارس، کالج، مساجد اور یتیم خانے بنائے، اور عبد اللہ ہارون کالج اور کراچی میں عبد اللہ ہارون روڈ ان کی یادگار ہیں۔ 3 1942ء میں انھوں نے الہ آباد میں مسلم لیگ کو دس ہزار روپے عطیہ دیا۔ 1
ذاتی زندگی
ان کی اہلیہ نصرت خانم تھیں، جو «لیڈی عبد اللہ ہارون» کے نام سے مشہور ہوئیں، جن سے 1914ء میں شادی ہوئی؛ اس میوزیم میں ان کا اپنا ریکارڈ موجود ہے۔ 4 1 انگریزی مقالہ ان کے بچوں میں یوسف ہارون، محمود ہارون اور زینت ہارون راشد کے نام دیتا ہے۔ 1 کسی ماخذ میں ہارون کے اپنے لیے کوئی مذہب (مکتب) نہیں آیا — ریکارڈ میں ہر ماخذ کی بات جدا درج ہے: میمن خاندانی پس منظر، مسلم سیاسی قیادت، مساجد سازی کی سخاوت، اور ویکی ڈیٹا کی عمومی «اسلام» قدر — اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج ہے۔
وفات اور ورثہ
وہ 27 اپریل 1942ء کو کراچی میں وفات پا گئے، اور اردو مقالے کے مطابق وہیں دفن ہوئے۔ 1 3 عربی مقالہ بھی یہی تاریخ اور مقام دیتا ہے۔ 2 پاکستان پوسٹ نے «مجاہدین آزادی» سلسلے میں ان کے اعزاز میں یادگاری ڈاک ٹکٹ جاری کیا، اور کراچی صدر کی ایک بڑی سڑک — سابقہ وکٹوریہ روڈ — ان کے نام سے منسوب ہے۔ 1 انگریزی مقالہ ہارون کے بارے میں مہاتما گاندھی سے منسوب یہ جملہ نقل کرتا ہے: «میں اس آدمی پر خالی چیک کے ساتھ بھروسا کروں گا۔» 1
مآخذ
- اوپر جن مآخذ کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تعریف کردہ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعے کی تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔
تعلقات
- Spouse of
- نصرت عبداللہ ہارون
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Abdullah Haroon — English Wikipedia
- Abdullah Haroon — Arabic Wikipedia
- Abdullah Haroon — Urdu Wikipedia
- Lady Abdullah Haroon — English Wikipedia
- Abdullah Haroon — Wikidata Q8704030
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “عبد اللہ ہارون”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abdullah-haroon/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.