ابو دلف مسعر بن مہلہل

أبو دلف مِسْعَر بن مهلهل

ابو دلف مسعر بن مہلہل الخزرجی، چوتھی/دسویں صدی کے معدنیات کے ماہر اور سیاح، جن کی طرف دو جغرافیائی رسالے منسوب ہیں۔ موسوعہ پہلے رسالے کے دعوائے سفر کو جعلی اور دوسرے کے راستے کو قابل تصدیق قرار دیتی ہے۔ 1

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
traveler · geographer · سائنس دان
خطہ
persia-central-asia
جائزہ

خلاصہ

ابو دلف مسعر بن مہلہل الخزرجی چوتھی/دسویں صدی کے معدنیات کے ماہر اور سیاح تھے۔ مدخل پر وی مینورسکی کے دستخط ہیں۔ ان کا سب سے قدیم سراغ بخارا میں نصر بن احمد (وفات 331ھ/943ء) کے آخری دور میں ملتا ہے، اور فارس میں ان کے سفر 331 تا 341ھ/943-952ء کے درمیان ہیں۔ 1

سرپرست اور حلقے

سجستان میں ان کے سرپرست احمد بن محمد تھے، جنہوں نے 331 تا 352ھ/942-963ء حکومت کی۔ الفہرست (377ھ/987ء میں مکمل) انہیں جہاں گرد کے طور پر ذکر کرتی ہے۔ ثعالبی نے یتیمۃ الدہر میں انہیں صاحب اسماعیل بن عباد (326-385ھ/938-995ء) کے حلقے سے جوڑا ہے۔ 1

دو رسالے

ان کی طرف دو جغرافیائی رسالے منسوب ہیں۔ پہلے میں ایک ترک بادشاہ کے قاصدوں کے ساتھ ترکستان، چین اور ہندوستان کے سفر کا بیان ہے، جسے موسوعہ بڑی حد تک جعلی قرار دیتی ہے، کیونکہ مقامات بے ترتیب آتے ہیں۔ دوسرا رسالہ مغربی و شمالی فارس اور آرمینیا کے سفر کا ہے، جس کا راستہ قابلِ تصدیق ہے۔ موسوعہ دونوں کو تصنیف کے لحاظ سے درست مانتی ہے، اس لیے جعلسازی خود ابو دلف سے منسوب کرتی ہے۔ 1

ماخذ

  1. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 135
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “ابو دلف مسعر بن مہلہل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abu-dulaf-misar-ibn-muhalhil/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔