احمد شاہ قاجار

أحمد شاه قاجار

–

تبريز → كربلاء

قاجاری ایران کے ساتویں اور آخری شاہ (دورِ حکومت 16 جولائی 1909 تا 31 اکتوبر 1925)؛ اپنے والد محمد علی شاہ کی معزولی کے بعد گیارہ برس کی عمر میں تخت پر بٹھائے گئے۔ ان کا عہد نائبین کی سرپرستی میں اور پھر 1921 کی بغاوت اور رضا خان کے عروج کے سائے میں گزرا، اور 1925 میں مجلس کے قاجاری خاندان کو معزول کرنے پر ختم ہوا؛ 1930 میں فرانس میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی1950عیسوی1960عیسوی1970عیسوی1980عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد الحميد بن باديس

مکان میں

تبريزكربلاء

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد شاہ قاجار (21 جنوری 1898 تا 21 فروری 1930) قاجاری خاندان کے ساتویں اور آخری شاہ تھے، جنہوں نے 16 جولائی 1909 سے 31 اکتوبر 1925 کو خاندان کی معزولی تک حکومت کی۔ اپنے والد محمد علی شاہ کو آئین پسندوں کے ہاتھوں معزول کیے جانے کے بعد بچپن میں تخت پر بٹھائے گئے، وہ نائبین کی سرپرستی میں، پہلی جنگِ عظیم میں اپنے ملک پر قبضے اور 1921 کی اس بغاوت کے دوران حکمران رہے جس نے رضا خان کو اقتدار میں لایا، اور اپنے آخری برس یورپ میں تاج بچانے کی ناکام کوشش میں گزارے۔ 1 2

    تخت نشینی اور نیابت

    وہ تبریز میں پیدا ہوئے؛ محمد علی شاہ اور ملکہ جہان کے بیٹے۔ جب آئین پسندوں نے جولائی 1909 میں ان کے والد کو معزول کیا تو پارلیمنٹ نے لڑکے کو تخت پر بٹھایا — انگریزی مضمون کے حساب سے گیارہ برس، انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا کے حساب سے بارہ برس — پہلے عضد الملک اور پھر ناصر الملک کی نیابت میں۔ ان کی تاجپوشی 21 جولائی 1914 کو ہوئی، پہلی جنگِ عظیم شروع ہونے سے چند روز قبل، جس میں ایران نے غیر جانبداری کا اعلان کیا مگر پھر بھی اس پر قبضہ ہو گیا۔ 1 2

    خاندان کا خاتمہ

    ان کی حکومت نے 1919 کی اینگلو-فارسی معاہدے کو قبول کیا، جس کی مجلس نے کبھی توثیق نہ کی؛ فروری 1921 کی بغاوت نے رضا خان کو پہلے سپہ سالار اور پھر وزیرِ اعظم بنایا، اور اصل اقتدار ان کے پاس چلا گیا۔ احمد شاہ 5 نومبر 1923 کو ایران سے روانہ ہوئے اور واپس نہ آئے۔ پیرس سے انہوں نے 1924 کی جمہوریت مخالف تحریک کو رضا خان کے خلاف موڑنے کی کوشش کی: جمہوری تحریک کو کچلنے کی ہدایات کے تار بھیجے، پھر وزیرِ اعظم پر عدم اعتماد کا پیغام، مگر خود وطن واپسی کے لیے جہاز نہ پکڑا۔ 31 اکتوبر 1925 کو مجلس نے قاجاریوں کی معزولی کا ووٹ دیا — اسی ارکان حق میں، بیس غیر حاضر رائے سے الگ، پانچ خلاف — اور 12 دسمبر کو ایک آئین ساز اسمبلی نے تاج رضا شاہ کو دیا اور کسی قاجاری کے تخت پر آنے پر ہمیشہ کے لیے پابندی لگا دی۔ 2 1

    وفات

    معزول شاہ مستقل طور پر فرانس میں مقیم ہو گئے۔ 21 فروری 1930 کو نیوی سور سین میں — انگریزی مضمون کے مطابق پیرس کے امریکی اسپتال میں انفلوئنزا سے — بتیس برس کی عمر میں وفات پائی، فرانسیسی اخباروں کی اطلاعات کے مطابق خاصی دولت چھوڑ کر؛ اور اپنی وصیت کے مطابق کربلا میں خاندانی سردابے میں دفن ہوئے۔ 1 2 3

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّفہ مصادر کے ادارے، data/source/ میں درج۔
    • اس مضمون کی نظرثانیاں مؤرخ ہونی چاہئیں، اور ہر واقعہ بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    محمد علی شاہ قاجار
    Successor of
    محمد علی شاہ قاجار
    Born in
    تبريز
    Buried in
    كربلاء

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد علی شاہ قاجار· مظفر الدین شاہ قاجار· كربلاء· تبريز· ملك البهلوان مدينة تبريز· ملك جلال الدين أذربيجان· عود جلال الدين إلى تبريز وملكه كنجة· بناء السور الحصين على مشهد الحائر بكربلاء

    ماخذ

    1. Ahmad Shah Qajar — English Wikipedia
    2. Ahmad Shah Qajar — Encyclopaedia Iranica
    3. Ahmad Shah Qajar — Wikidata Q317799
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد شاہ قاجار”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-shah-qajar/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد علی شاہ قاجار

    قاجاری ایران کے چھٹے شاہ (دورِ حکومت 3 جنوری 1907 تا 16 جولائی 1909)؛ مظفر الدین شاہ کے بیٹے اور اپنی والدہ تاج الملوک کی طرف سے مصلح وزیر امیر کبیر کے نواسے۔ انہوں نے آئین کو شریعت کے خلاف قرار دے کر نئی مجلس کو تحلیل کیا اور جون 1908 میں اس پر گولہ باری کرائی؛ آئینی قوتوں نے جولائی 1909 میں انہیں معزول کر کے ان کے بیٹے احمد شاہ کو تخت پر بٹھایا۔ 1925 میں سان ریمو میں جلاوطنی میں وفات پائی۔