عبد الحفیظ بن الحسن

عبد الحفيظ بن الحسن

تقریباً 1875 عیسوی · 1292 ھ –

فاس

علوی سلسلے کے سلطانِ مراکش (دورِ حکومت 1908–1912)؛ حسن اول کے صاحبزادے، مراکش کے خلیفہ اور عالم، شاعر و مصنف تھے؛ اپنے بھائی عبد العزیز کے خلاف «حفیظیہ» کی قیادت کی، پھر 1912 میں معاہدۂ فاس پر دستخط کیے جس سے فرانسیسی زیرِ حمایت نظام قائم ہوا اور تخت سے دستبردار ہو گئے؛ آخری سال طنجہ و فرانس میں گزارے اور اینگیاں لے بان میں وفات پا کر فاس میں دفن ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan · عالم · شاعر · writer
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · عبد الکریم خان

مکان میں

فاس

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    عبد الحفیظ بن الحسن (24 فروری 1875 – 4 اپریل 1937) 1908 سے 1912 تک مراکش کے سلطان اور علوی سلسلے کے رکن تھے؛ ان کے چھوٹے بھائی عبد العزیز ان سے پہلے حکمران تھے۔ اردو مقالہ ان کی پیدائش کی تاریخ میں عدم یقین کی طرف اشارہ کرتا ہے: بعض ماخذ 1875 یا 1880 دیتے ہیں۔1 انگریزی مقالہ پیدائش کو صرف 1875 اور 1880 کے درمیان رکھتا ہے، عربی مقالہ 24 فروری 1876 دیتا ہے۔2 3

    ابتدائی زندگی اور حفیظیہ

    وہ حسن اول کے چوتھے صاحبزادے تھے؛ عربی مقالے کے مطابق 1892 کے قریب فقہ، حدیث و ادب میں ان کی ذہانت ظاہر ہوئی اور وہ عالم و شاعر شمار ہوئے۔ 1901 میں مراکش کے خلیفہ بنے تو ماء العینین سے علمی استفادہ کیا اور 1904 میں ان سے اجازہ حاصل کیا۔ پھر اپنے بھائی عبد العزیز کی یورپی رعایتوں کے خلاف بداعتمادی بڑھا کر «حفیظیہ» کی قیادت کی، فروری 1908 میں فاس میں سلطان قرار پائے اور 1909 میں مراکش کے تسلیم شدہ حکمران بن گئے۔3 2

    معاہدۂ فاس اور دستبرداری

    1911 کی بغاوت اور آگادیر بحران کے بعد انہوں نے 30 مارچ 1912 کو معاہدۂ فاس پر دستخط کیے جس سے مراکش فرانسیسی زیرِ حمایت بن گیا، پھر چند ماہ بعد بھاری وظیفے کے عوض دستبردار ہو گئے اور ان کے بھائی یوسف 13 اگست 1912 کو سلطان قرار پائے۔2 4 اپریل 1937 کو فرانس کے اینگیاں لے بان میں وفات پائی؛ جسد فاس لے جا کر مولای عبد اللہ مسجد کے شاہی مقبرے میں دفن کیا گیا۔2

    دین و تصانیف

    وہ عقیدہ و شریعت کے عالم مشہور تھے اور سلفیہ کے زیرِ اثر صوفی سلسلوں کے خلاف کتاب لکھی، مگر دستبرداری کے بعد تصوف کی طرف مائل ہو کر تیجانیہ میں شامل ہوئے اور 1922 میں سلسلے کی تاریخ و صوفیا کی مدح پر منظوم کتاب لکھی جو 1930 میں تیونس سے شائع ہوئی۔ فرانسیسی مقالہ انہیں طریقۂ تیجانیہ کا استاد (مقدّم) قرار دیتا ہے۔2 4 عربی مقالہ ان کی متعدد تصانیف گنواتا ہے، جن میں «کشف القناع» اور «براءة المتهم» شامل ہیں۔3

    حوالہ جات

    اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں محفوظ ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    فاس
    Buried in
    فاس
    Child of
    الحسن بن محمد

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الحسن بن محمد· فاس· جامع القرويين· ابن بطوطہ کی فاس واپسی· وفد مالي بالزرافة إلى فاس (762هـ)· انقسام ملك بني مرين بين فاس ومراكش (776هـ)· أبو حسون الوطاسي· ابن باجة

    ماخذ

    1. Wikipedia (Urdu): Abd al-Hafid of Morocco
    2. Wikipedia (English): Abd al-Hafid of Morocco
    3. Wikipedia (Arabic): Abd al-Hafid of Morocco
    4. Wikipedia (French): Abd al-Hafid of Morocco
    • Abd al-Hafid of Morocco — Wikidata Q276936
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “عبد الحفیظ بن الحسن”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/abd-al-hafid-of-morocco/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الحسن بن محمد

    علوی سلسلے کے سلطانِ مراکش (دورِ حکومت 1873–1894)؛ فاس میں پیدا ہوئے، والد محمد چہارم کے جانشین بنے، فوج و انتظامیہ کو جدید خطوط پر استوار کیا، ملک کو متحد رکھنے کے لیے سالانہ مہمات چلائیں، یورپی تجاوزات کے مقابل مراکش کی آزادی برقرار رکھی؛ انہی کے دور میں 1880 کی میڈرڈ کانفرنس ہوئی، اور تادلہ کی مہم کے دوران وفات پا کر رباط میں دفن ہوئے۔