احمد تاج الدین

أحمد تاج الدين

–

برونائی کے ستائیسویں سلطان (1924ء–1950ء)، محمد جمال عالم دوم کے سب سے بڑے زندہ بیٹے۔ گیارہ برس کی عمر میں مجلسِ وصایت کے تحت تخت نشین ہوئے، 1931ء میں تنصیب اور 1940ء میں تاج پوشی ہوئی؛ ان کے عہد کے آغاز میں 1929ء میں سیریا میں تیل دریافت ہوا۔ انہوں نے برطانیہ سے زیادہ مالی و سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کیا، جاپانی قبضے (1941ء–1945ء) کے دوران سلطان رہے اگرچہ ان کا اختیار رسم و رواج اور اسلامی امور تک محدود تھا، جون 1950ء میں سنگاپور میں وفات پائی اور ان کے چھوٹے بھائی عمر علی سیف الدین سوم جانشین ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس محمود العقاد · عبد الحلیم محمود · عبد الجبار الجومرد · عبد القادر المغربي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد تاج الدین اکحاظ الخیر والدین (1913ء–1950ء) برونائی کے ستائیسویں سلطان تھے، حکومت 1924ء سے وفات تک۔ سلطان محمد جمال عالم دوم کے سب سے بڑے زندہ بیٹے، گیارہ برس کی عمر میں مجلسِ وصایت کے تحت تخت نشین ہوئے، 1931ء میں تنصیب اور 1940ء میں تاج پوشی ہوئی۔ انہوں نے سلطنت کے لیے زیادہ مالی و سیاسی خودمختاری کا مطالبہ کیا، جو اپنے دور کے لحاظ سے جدت پسندانہ تھا، اور شمالی بورنیو پر سلطنت کے زیرِ حکم سیاسی کنفیڈریشن کی حمایت نے اس عمل کی پیش گوئی کی جو 1984ء میں برونائی کی آزادی پر منتج ہوا۔ ان کے جانشین ان کے چھوٹے بھائی عمر علی سیف الدین سوم ہوئے۔ 1 2

    پیدائش اور تخت نشینی

    وہ بندر برونائی کے استانا پیکان میں سلطان محمد جمال عالم دوم اور ان کی ملکہ راجا استری پینگیران انق فاطمہ کے ہاں پیدا ہوئے؛ تخت نشینی سے پہلے پینگیران مودا بسر احمد تاج الدین کے نام سے جانے جاتے تھے۔ پیدائش کا سال متنازع ہے: ملاوی، عربی اور اردو مضامین اور ویکی ڈیٹا 22 اگست 1913ء دیتے ہیں، جبکہ انگریزی مضمون کے آغاز اور معلوماتی خانے میں 22 اگست 1912ء ہے — البتہ خود اس مضمون کے نوٹ میں برونائی تحقیقی مقالوں کا 1913ء اور مؤرخ باب ریس کا 2 ستمبر 1913ء درج ہے؛ عجائب گھر کا ریکارڈ 1913ء کو اختیار کرتا ہے اور قراءات نوٹ میں محفوظ ہیں۔ ابتدائی تعلیم محل میں ہوئی، پھر ایک مخصوص برطانوی استاد سے انگریزی سیکھی، اور 1932ء میں انگلستان گئے۔ والد کا انتقال ملیریا سے 11 ستمبر 1924ء کو ہوا اور وہ اسی دن گیارہ برس کی عمر میں جانشین ہوئے؛ دو پینگیران بنداہارا کی مجلسِ وصایت نے 19 ستمبر 1931ء تک حکومت کی۔ تاج پوشی 17 مارچ 1940ء کو ہوئی۔ 2 1 3

    دورِ حکومت

    تیل سیریا میں 1929ء میں، عہد کے آغاز میں، دریافت ہوا، اور اسی سال انہوں نے برونائی جنرل ہسپتال کھولا؛ 1927ء میں برونائی–توتونگ سڑک کھولی تھی۔ 1940ء میں برونائی میں اسلامی تعلیم کے فروغ کے لیے ان کی سرپرستی میں ایک اسلامی اسکول کھلا۔ برطانوی ریزیڈنسی سے ان کے تعلقات کشیدہ رہے: جنوب مشرقی ایشیا کے کمشنر جنرل مالکوم میکڈونلڈ نے انہیں نظر انداز کیا اور ان کے سیاسی مشیر جیرارڈ میک برائن سمیت دوسروں نے اکثر انہیں نظر انداز کیا یا ان سے بد سلوکی کی، جبکہ وہ سلطنت کے زیرِ حکم شمالی بورنیو کی نئی سیاسی کنفیڈریشن کا مطالبہ کرتے رہے۔ 1 2

    جاپان نے 16 دسمبر 1941ء کو برونائی پر قبضہ کیا۔ وہ سلطان رہے مگر ان کا اختیار برونائی رسم و رواج اور اسلامی امور تک محدود تھا، اور جاپانی انتظامیہ تعاون تک انہیں اسلامی دین اور شاہی رسوم کے سربراہ کے طور پر تسلیم کرتی رہی۔ 1945ء میں اتحادی افواج اتریں اور برونائی برطانوی فوجی انتظامیہ کے تحت آ گیا؛ مکمل حکومتی اختیار 6 جولائی 1946ء کو انہیں واپس ملا۔ 1946ء میں برونائی کا قومی ترانہ «اللہ پلیہاراکن سلطان» تیار ہوا۔ انہوں نے باریسان پیمودا (1946ء میں قائم یوتھ فرنٹ) کے پرچم کو اس کی پہلی سالگرہ 1947ء پر لہرانے کی منظوری دی — جسے انگریزوں نے انڈونیشیائی طرز کی انقلابی سوچ پھیلانے والی تنظیم کی خفیہ حمایت سمجھا۔ 1949ء میں انہوں نے تخت نشینی کی سلور جوبلی منائی اور آرڈر آف دی برٹش ایمپائر کے نائٹ کمانڈر بنائے گئے۔ 2 1

    وفات اور جانشینی

    1950ء میں انگلستان کے سفر کے دوران سنگاپور میں ٹھہراؤ پر بیمار ہوئے، سنگاپور جنرل ہسپتال لے جائے گئے اور گردوں کی ناکامی سے وہیں وفات پائی۔ وفات کا دن متنازع ہے: انگریزی، ملاوی اور عربی مضامین 4 جون 1950ء دیتے ہیں، جبکہ اردو مضمون اور ویکی ڈیٹا 3 جون دیتے ہیں، اور انگریزی مضمون کا بیان ہے کہ وہ ہسپتال پہنچنے کے اگلے دن فوت ہوئے اور جنازہ 4 جون کو ہوا۔ ان کی میت لابوان کے راستے وطن لائی گئی اور لاپاؤ میں سلامی دی گئی؛ ملاوی مضمون کے مطابق تدفین بندر برونائی کے شاہی مقبرے میں 5 جون 1950ء کو ہوئی۔ وفات سے چند دن پہلے انہوں نے ہدایت کی تھی کہ ان کی بیٹی پینگیران انق پوتری نور احسانی جانشین ہوں، مگر وفات کے بعد منعقدہ کانفرنس نے متفقہ طور پر ان کے چھوٹے بھائی پینگیران مودا عمر علی سیف الدین کو منتخب کیا، کیونکہ برونائی رسم کے مطابق مرحوم سلطان کے بھائی کے موجود ہوتے ہوئے شہزادی جانشین نہیں بن سکتی تھی۔ 2 1 4 3

    مذہب

    ان کا مذہب «نامعلوم» درج ہے اور معاملہ نشان زد ہے۔ مذہبی قراءت ایک ہی معلوماتی خانے کے خاندان میں موجود ہے: انگریزی مضمون کے معلوماتی خانے کا دینی خانہ سنی اسلام سے منسلک ہے، «اسلام» کے لفظ سے ظاہر، اور ویکی ڈیٹا کی دینی قدر بھی سنی اسلام ہے — اسی قراءت کی ساختی بازگشت۔ ملاوی مضمون کا معلوماتی خانہ اسلام عام دیتا ہے؛ عربی اور اردو مضامین کوئی دین نہیں لکھتے؛ کوئی متن مسلک نہیں بتاتا۔ اسلامی اسکول کی سرپرستی اور جاپانی انتظامیہ کی طرف سے برونائی میں اسلامی دین کے سربراہ کے طور پر تسلیم کیا جانا سرپرستی اور منصب ہے، ذاتی مسلک نہیں۔ دو ماخذوں کی حد سے ایک خاندان کم ہونے کی بنا پر سنی قراءت ریکارڈ کے نوٹ میں غیر فیصلہ شدہ کھڑی ہے۔ 1 3 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    محمد جمال عالم دوم
    Successor of
    محمد جمال عالم دوم

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ہاشم جلیل العالم اقام الدین· محمد جمال عالم دوم

    ماخذ

    1. Ahmad Tajuddin — English Wikipedia
    2. Ahmad Tajuddin — Malay Wikipedia
    3. Ahmad Tajuddin — Wikidata Q40111
    4. Ahmad Tajuddin — Urdu Wikipedia
    • Ahmad Tajuddin — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد تاج الدین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-tajuddin/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ہاشم جلیل العالم اقام الدین

    برونائی کے پچیسویں سلطان (1885ء–1906ء)، عمر علی سیف الدین دوم کے بیٹے۔ ساراواک سے چارلس بروک کی توسیع کے مقابل انہوں نے برطانوی تحفظ طلب کیا: 1888ء کا معاہدۂ تحفظ اور پھر 1905ء–1906ء کا اضافی معاہدہ ہوا جس سے برطانوی ریزیڈنٹ آیا۔ 10 مئی 1906ء کو وفات پائی اور ان کے بیٹے محمد جمال عالم دوم جانشین ہوئے۔