ایک نظر میں
- کردار
- جرنیل · سیاست دان
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (منقول)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
احمد عرابی (1841-1911) مصری افسر تھے جو کسان خاندان سے اٹھے اور «عرابی بغاوت» کے نام سے مشہور قومی تحریک کے قائد بنے۔ فروری 1882 میں وہ محمود سامی البارودی کی قوم پرست وزارت میں وزیرِ جنگ اور مجلسِ وزراء کے نائب سربراہ بنے، 13 ستمبر 1882 کو تل الکبیر میں فیصلہ کن شکست تک برطانوی قبضے کی مزاحمت کی، مقدمے کے بعد سزائے موت پائی جو عمر بھر کی جلاوطنی میں بدل دی گئی، اور 1882 سے 1901 تک سیلون میں رہے۔ 21 ستمبر 1911 کو قاہرہ میں وفات پائی۔ 1 2 3
انگریزی مضمون کا خانۂ معلومات انہیں جولائی تا ستمبر 1882 «مصر کا وزیرِ اعظم» بتاتا ہے، لیکن اس مضمون کا متن خود اس وصف میں تردد کرتا ہے، اور عربی مضمون و بریٹانیکا درست تر صورت دیتے ہیں — البارودی کی وزارت میں وزیرِ جنگ — جسے عجائب گھر نے اختیار کیا ہے۔ بریٹانیکا ان کی پیدائش 1839 بتاتا ہے، جبکہ دونوں مضامین اور ویکی ڈیٹا 31 مارچ 1841 پر متفق ہیں۔ 2 1 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
احمد محمد عرابی 31 مارچ 1841 کو زقازیق کے قریب حریت رزنہ میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد گاؤں کے عمدہ (مکھیا) تھے اور خاندان نسبتاً خوشحال کسان خاندان تھا۔ بچپن میں انہوں نے قرآن حفظ کیا، گاؤں کے کاتب میخائیل غطاس سے پڑھا، اور آٹھ برس کی عمر میں 1849 میں الازہر میں داخل ہوئے۔ فوج میں بھرتی ہو کر وہ غیرمعمولی تیزی سے ترقی پا کر تقریباً بیس برس کی عمر میں لیفٹیننٹ کرنل بن گئے۔ مصر-ایتھوپیا جنگ (1874-1876) میں خدمات کے بعد وہ — بلنٹ کی روایت کے مطابق — اس کی بدانتظامی پر خفا لوٹے۔ 1 2
قومی تحریک اور وزارتِ جنگ
عرابی نے ساتھی افسروں کے ساتھ ترک و شرکسی افسروں کے استحقاق اور خدیو توفیق کے اس قانون کے خلاف احتجاج کی قیادت کی جو کسانوں کو افسری سے روکتا تھا؛ وہ قانون منسوخ ہو گیا۔ 1879 میں انہوں نے مصری قومی پارٹی کے قیام میں حصہ لیا؛ ان کے حامی انہیں «الوحید» کہتے تھے۔ ان کی تحریک کے مطالبات آئین، بجٹ پر پارلیمنٹ کے حقوق اور انگریزی-فرانسیسی مالی کنٹرول کا خاتمہ تھے۔ 4 فروری 1882 کو وہ البارودی کی وزارت میں وزیرِ جنگ بنے۔ 2 1 3
1882 کی بغاوت، مقدمہ اور جلاوطنی
11-12 جون 1882 کو اسکندریہ میں فسادات ہوئے اور جولائی میں ایڈمرل سیمور کے برطانوی بحری بیڑے نے شہر پر گولہ باری کی۔ عرابی نے مزاحمت منظم کی اور تحریک نے خدیو کو غدار قرار دیا — جیسا کہ بریٹانیکا لکھتا ہے۔ کفر الدوار میں مصری فوج نے انگریزوں کو روکا، 28 اگست کو قصاصین کی جھڑپ ہوئی، اور 13 ستمبر 1882 کو تل الکبیر میں جنرل وولسلے کو فیصلہ کن فتح ملی۔ 2 3
3 دسمبر 1882 کو ان پر مقدمہ چلا؛ انہوں نے دوفرین سمجھوتے کے تحت جرم قبول کیا، سزائے موت عمر قید کی جلاوطنی میں بدل گئی، اور 28 دسمبر 1882 کو وہ سیلون روانہ ہو گئے۔ جلاوطنی میں وہ سیلون میں مسلم تعلیم کے سرپرست بنے: حمید الحسینی کالج (15 نومبر 1884) اور کولمبو کا ظاہرہ کالج (22 اگست 1892) ان کی سرپرستی میں قائم ہوئے۔ خدیو عباس ثانی کے عفو پر وہ 1 اکتوبر 1901 کو مصر لوٹے اور 21 ستمبر 1911 کو قاہرہ میں وفات پائی۔ 2
آراء و تنقید
یہ حصہ ماخذوں کی منسوب آراء بیان کرتا ہے؛ عجائب گھر اپنا فیصلہ نہیں دیتا۔ بریٹانیکا لکھتا ہے کہ وہ «نسبتاً گمنامی میں ایک غیرمقبول شخصیت» کے طور پر وفات پا گئے، اور 1950 کی دہائی میں جمال عبد الناصر کے دور میں ان کی شبیہ بحال ہوئی؛ انگریزی مضمون لکھتا ہے کہ 1952 میں محمد نجیب نے شعوری طور پر عرابی کے توفیق سے کہے گئے الفاظ دہرائے کہ مصری «اب وراثت میں ملنے والی چیز نہیں رہے»۔ ان کے دین کے بارے میں کوئی ماخذ کوئی مکتب نہیں بتاتا: عربی مضمون ان کا دین «اسلام» درج کرتا ہے، ویکی ڈیٹا بھی اسلام ہی بتاتا ہے؛ اس لیے ڈیٹا ریکارڈ میں ان کا عقیدہ غیر مصنف رکھا گیا ہے۔ 3 2 1 4
ماخذ
- انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون (نظرثانی 1364480026)؛ عربی ویکیپیڈیا کا مضمون «احمد عرابی» (نظرثانی 72214483)؛ بریٹانیکا کا مدخل «عرابی پاشا» (اشاعت 20 جولائی 1998، تجدید 17 ستمبر 2026)؛ ویکی ڈیٹا آئٹم Q365919۔ اردو ویکیپیڈیا پر ان کا کوئی مضمون نہیں۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ· من جان بلاط إلى طومان باي إلى قانصوه الغوري 905–906هـ
ماخذ
- Ahmed Urabi — Arabic Wikipedia
- Ahmed Urabi — English Wikipedia
- ʿUrābī Pasha — Encyclopaedia Britannica
- Ahmed Urabi — Wikidata Q365919
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “احمد عرابی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmad-urabi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.