ایک نظر میں
- کردار
- شاعر · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
الطاف حسین حالی (1837ء – 31 دسمبر 1914ء) اردو کے شاعر اور مصنف تھے جن کا تعلق پانی پت سے تھا؛ وہ انیسویں صدی کی اردو ادبی نشاۃ ثانیہ کے بڑے ناموں میں سے ہیں اور سر سید احمد خان اور تحریکِ علی گڑھ کے قریبی ادیب رہے۔ 1 2 ان کی شہرت کی بڑی وجہ ان کی طویل نظم «مسدس حالی» (1879ء) ہے جو سر سید کی فرمائش پر لکھی گئی، اور «مقدمہ شعر و شاعری» جسے اردو کی پہلی ادبی تنقید کہا جاتا ہے؛ انھوں نے غالب، سعدی شیرازی اور سر سید احمد خان کی سوانح بھی لکھیں۔ 1
ان کی ولادت اور وفات دونوں پانی پت میں ہوئیں؛ درمیان میں وہ دلی اور لاہور میں استاد، ملازم اور مصنف رہے، اور 1889ء میں اپنے شہر لوٹ کر زندگی کے آخری پچیس برس وہیں گزارے۔ 1 3
ابتدائی زندگی اور تعلیم
حالی 1837ء میں پانی پت میں خواجہ ایزاد بخش کے ہاں پیدا ہوئے۔ ماخذ انھیں پانی پت کے انصاری خاندان سے بتاتے ہیں اور ان کا نسب ابو ایوب انصاری سے جوڑتے ہیں؛ TDV کے مطابق ان کے اجداد سلطان بلابان کے عہد (1266ء–1287ء) میں ہندوستان آ کر پانی پت میں آباد ہوئے۔ 1 2 نو برس کی عمر میں والد کا انتقال ہو گیا اور والدہ کا دماغ ماؤف ہو گیا تو بڑے بھائی خواجہ امداد حسین نے پرورش کی، اور پندرہ برس کی عمر میں ان کی مرضی کے خلاف چچا زاد سے شادی کر دی گئی۔ 1 4
انھوں نے حافظ ممتاز حسین سے قرآن حفظ کیا، حاجی ابراہیم حسین سے عربی اور سید جعفر علی سے فارسی پڑھی۔ 1 سترہ برس کی عمر میں وہ دلی گئے — TDV اس سفر کو 1854ء بتاتی ہے — اور جامع مسجد کے سامنے واقع مدرسۂ حسین بخش میں پڑھا؛ دلی میں قیام تین برس (1852ء–1855ء) رہا۔ 1 2 وہاں انھوں نے مرزا غالب کو اپنا کلام دکھایا تو غالب نے انھیں شعر کہنے کی وہ مشہور ترغیب دی کہ وہ کسی کو شعر کہنے کا مشورہ نہیں دیتے، مگر حالی سے کہتے ہیں کہ اگر تم شعر نہ کہو گے تو اپنے مزاج پر سخت ظلم کرو گے۔ اسی زمانے میں انھوں نے تخلص «خستہ» اختیار کیا جو بعد میں «حالی» ہوا۔ 1
ملازمت اور مسدس
دلی سے لوٹ کر حالی 1856ء میں حصار کے کلکٹر کے دفتر میں ملازم ہو گئے۔ 4 1857ء کی جنگ ان کی زندگی کا موڑ تھی: انھوں نے تباہی اپنی آنکھوں سے دیکھی اور ان کے خاندان نے ایک بیوہ لڑکی کو پناہ دی جو عمر بھر ان کے ساتھ رہی؛ اس کے دکھ نے انھیں خواتین کے حالات پر «مناجاتِ بیوہ» اور «چُپ کی داد» لکھنے پر مائل کیا۔ سیدہ سعیدین حمید انھیں اسی بنا پر «اردو کا پہلا نسوانی شاعر» کہتی ہیں، جبکہ TDV «چُپ کی داد» کو 1905ء کی تصنیف اور تعلیمِ نسواں کی کتاب بتاتی ہے۔ 1 2
1863ء میں دلی میں وہ جہانگیر آباد کے نواب مصطفیٰ خان شیفتہ کے بچوں کے اتالیق مقرر ہوئے؛ انگریزی مضمون یہ مدت آٹھ برس بتاتا ہے اور TDV کے مطابق وہ نواب کی وفات (1872ء) تک ان کی ملازمت میں رہے۔ 1 2 پھر وہ لاہور گئے اور 1871ء سے 1874ء تک گورنمنٹ بک ڈپو میں انگریزی کتابوں کے اردو تراجم کی تصحیح کرتے رہے، اور یہیں «مقدمہ شعر و شاعری» کی بنیاد پڑی۔ 1 1874ء سے 1889ء تک دلی کے اینگلو عربک اسکول میں پڑھایا؛ یہیں سر سید احمد خان سے ملاقات ہوئی جن کے کہنے پر انھوں نے 1879ء میں «مسدس» لکھی۔ سر سید نے اس کی اشاعت پر خط لکھ کر کہا کہ وہ اس نظم کو اپنے بہترین کارناموں میں گنتے ہیں اور یہ کہ «اس جدید دورِ اردو شاعری کا آغاز مسدس کی تاریخ سے ماننا درست ہو گا»۔ 1
1887ء میں حیدر آباد کی حکومت نے انھیں وظیفہ دیا تو انھوں نے ملازمت چھوڑ کر خود کو تصنیف کے لیے وقف کر دیا، اور 1889ء میں پانی پت لوٹ آئے۔ 1 2 سر سید کی وفات کے بعد انھوں نے ان کی سوانح «حیاتِ جاوید» لکھی (1901ء)، اور حکومت نے انھیں «شمس العلماء» کا خطاب دیا — اردو مضمون اور TDV اسے 1904ء بتاتے ہیں۔ 1 4 2 ان کا انتقال پانی پت میں 31 دسمبر 1914ء کو ہوا؛ TDV تاریخ 1 جنوری 1915ء دیتی ہے۔ 1 2
تصانیف
«مسدس حالی» (1879ء) اسلام کے عروج و زوال کی رثائی نظم ہے جس میں انھوں نے جمود، ظلمت پسندی اور تعصب کی مذمت کی اور ہندوستان کے مسلمانوں کے زوال کی وجہ اختلاف کی حوصلہ شکنی اور دین کی روح پر رسوم کی تقدیم بتائی؛ انھوں نے نظم قوم کے نام کی اور ابتدائی طباعتوں کے سوا اس کی آمدنی نہیں لی۔ TDV کے مطابق یہ نظم محمد اقبال کے لیے بھی الہام کا ذریعہ بنی۔ 1 2 «مقدمہ شعر و شاعری» دیوان (1890ء) کے دیباچے کے طور پر چھپی اور پھر الگ کتاب (1893ء) بنی؛ اسے اردو کی پہلی تنقیدی کتاب کہا جاتا ہے۔ 1 ان کی سوانح میں «یادگارِ غالب»، «حیاتِ سعدی» اور «حیاتِ جاوید» شامل ہیں۔ 1 «مجالس النساء» (1874ء میں تصنیف، TDV) طالبات کے لیے کہانی کی صورت میں لکھی گئی؛ اردو مضمون کے مطابق اسے حکومت کی طرف سے 400 روپے انعام ملا اور وہ برسوں نصاب میں شامل رہی۔ 4 2 ان کی نعت «وہ نبیوں میں رحمت لقب پانے والا» آج بھی پاکستان اور ہندوستان میں پڑھی جاتی ہے۔ 1
آرا اور تنقید
یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مختلف مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔
پاکستانی اخبار «ڈان» (2014ء) نے لکھا کہ «حالی اور شبلی نے اردو شاعری کو بچایا» اور اسے وہ شکل دی جس کی اس وقت ضرورت تھی۔ 1 بعض محققین «مسدس» کو اس مسلم قوم کے تصور کی بنیادی تحریروں میں گنتے ہیں جو 1947ء میں پاکستان کی صورت میں وجود میں آئی۔ 1 TDV کے مطابق حالی ہندوستان میں اسلامی بیداری کی مشہور ترین شخصیات میں سے تھے اور انھوں نے سر سید اور تحریکِ علی گڑھ کی حمایت کی۔ 2 پاکستان پوسٹ نے 23 مارچ 1979ء کو «روادِ آزادی» سلسلے میں ان کے اعزاز میں ڈاک ٹکٹ جاری کیا۔ 1
ماخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
محمد حسین آزاد· محمد یوسف کاندھلوی· مسجد بادشاهي· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر
ماخذ
- Altaf Hussain Hali — English Wikipedia
- Hali — TDV İslâm Ansiklopedisi
- Altaf Hussain Hali — Wikidata Q1066898
- Altaf Hussain Hali — Urdu Wikipedia
- Altaf Hussain Hali — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “الطاف حسین حالی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/altaf-hussain-hali/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.