احمد غلام علی چھاگلہ

أحمد غلام علي شاغلا

–

پاکستانی موسیقار اور مصنف (1902ء–1953ء) جنھوں نے 1949ء میں پاکستان کے قومی ترانے کی موسیقی ترتیب دی۔ وہ کراچی میں پیدا ہوئے، ہندوستان اور لندن میں مشرقی و مغربی موسیقی کے نظاموں کا مطالعہ کیا، موسیقی کی تاریخ و نظریے کی تحقیق میں مشرق و مغرب کا سفر کیا اور موسیقی و ثقافت پر لکھا؛ وہ ترانے کی سرکاری منظوری (1954ء) سے پہلے وفات پا گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
musician · writer
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس محمود العقاد · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد غلام علی چھاگلہ (31 مئی 1902ء – 5 فروری 1953ء) پاکستانی موسیقار و مصنف تھے جنھوں نے 1949ء میں پاکستان کے قومی ترانے کی موسیقی ترتیب دی، جو کسی باضابطہ موقع پر بجائی جانے والی پہلی دھن اور پاکستان کے پہلے قومی ترانے کی موسیقی بنی۔ وہ کراچی میں ایک مشہور خوجہ اسماعیلی خاندان میں پیدا ہوئے، ہندوستان اور انگلستان میں مشرقی و مغربی موسیقی کی تعلیم پائی، موسیقی کی تاریخ و نظریے کی تحقیق میں مشرق و مغرب کا سفر کیا، اور ترانے کی سرکاری منظوری (اگست 1954ء) سے پہلے وفات پا گئے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ کراچی میں لکڑی کے نقش و نگار سے مشہور ایک ممتاز خوجہ اسماعیلی خاندان میں پیدا ہوئے۔ سندھ مدرسۃ الاسلام اور نیشنل کالج آف آرٹس میں پڑھے، پونے کے اورینٹل کالج آف میوزک سے مشرقی کلاسیکی موسیقی میں بیچلر کیا، پھر لندن میں مغربی کلاسیکی موسیقی کی تعلیم پاکر 1928ء میں ٹرینیٹی کالج آف میوزک کے لائسنشئیٹ بنے؛ یونانی، راجپوتانی اور یورپی نظاموں کا بھی مطالعہ کیا۔ انگریزی مقالے میں ہے کہ وہ تھیوسوفیکل سوسائٹی کے سرگرم رکن تھے۔ ان کے خاندان کی اسماعیلی نسبت اور تھیوسوفی سے وابستگی دونوں ماخذوں کے مطابق درج ہیں؛ ان میں سے کوئی بھی ان کے اپنے کسی مکتب کا اندراج نہیں۔ 1

    کارنامے

    انھوں نے ترکی، عراق، افغانستان، ایران، سیلون، برما اور ہندوستان میں کام کرتے ہوئے ہر ملک کی موسیقی کی تاریخ و نظریے اور ثقافت پر تحقیق کی۔ 1935ء تک وہ کم از کم 43 تخلیقات پیش کر چکے تھے، جن میں اسٹیج ڈراموں کی موسیقی، پیانو کی دھنیں اور گیت شامل تھے۔ دسمبر 1948ء میں حکومتِ پاکستان نے قومی ترانے کی منظوری کے لیے کمیٹی بنائی؛ مارچ 1949ء میں ان کی دھن «پاک سرزمین» تین بہترین دھنوں میں شامل ہوئی اور اگست 1949ء میں ان کی موسیقی قومی ترانے کے لیے منظور ہو گئی، جس پر حفیظ جالندھری نے بعد میں کلمات لکھے۔ 1 2

    تصانیف اور وفات

    ان کی کتابوں میں «پاکستانی فلموں کے لیے موسیقی کا انتخاب» (1951ء) شامل ہے اور انھوں نے موسیقی و ثقافت پر مضامین لکھے۔ وہ 5 فروری 1953ء کو کراچی میں وفات پا گئے۔ حکومتِ پاکستان نے 23 اگست 1996ء کو انھیں بعد از مرگ تمغۂ حسنِ کارکردگی سے نوازا۔ 1 3

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرفہ ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Ahmed Ghulamali Chagla — English Wikipedia
    2. Ahmed Ghulamali Chagla — Urdu Wikipedia
    3. Ahmed Ghulamali Chagla — Arabic Wikipedia
    • Ahmed Ghulamali Chagla — Wikidata Q3246408
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد غلام علی چھاگلہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-ghulamali-chagla/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔