ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
اللہ بخش محمد عمر سومرو (1900ء – 14 مئی 1943ء)، جنھیں اللہ بخش سومرو بھی لکھا جاتا ہے، نوآبادیاتی ہند کے سندھی زمیندار، ٹھیکیدار اور سیاست دان، سندھ اتحاد پارٹی کے بانی اور دو مرتبہ سندھ کے وزیر اعلیٰ رہے۔ وہ صوبے کے بہترین وزرائے اعلیٰ میں شمار ہوئے، ہندو مسلم اتحاد اور متحدہ ہندوستان کے حامی تھے، اور قتل کے بعد «شہید» کہلائے۔ 1
ابتدائی زندگی
وہ 1900ء میں شمالی سندھ کے شکارپور میں اپنے خاندانی علاقے میں پیدا ہوئے؛ انگریزی مقالہ خادم حسین سومرو کی تصنیف کے حوالے سے انھیں سومرو (جاٹ) قبیلے سے بتاتا ہے۔ 1 ان کے والد حاجی محمد عمر معروف ٹھیکیدار اور تاجر تھے، اور 1918ء میں میٹرک کے بعد اللہ بخش نے والد کے ٹھیکیداری کاروبار میں شمولیت اختیار کی۔ 1 1923ء میں وہ جیکب آباد بلدیہ، 1928ء میں سکھر ضلع لوکل بورڈ کے رکن اور 1930ء میں اس کے صدر منتخب ہوئے، اور 1931ء میں انھیں «خان بہادر» کا خطاب ملا۔ 1
وزارت اعلیٰ
وہ دو مدتوں کے لیے سندھ کے وزیر اعلیٰ (پریمیئر) رہے: 23 مارچ 1938ء تا 18 اپریل 1940ء، اور — انگریزی مقالے کے متن، کابینہ جدول اور اردو مقالے کے مطابق — 7 مارچ 1941ء تا 14 اکتوبر 1942ء، اور مالیات، آبکاری اور صنعتوں کے قلمدان ان کے پاس رہے؛ انگریزی مقالے کا صندوق معلومات دوسری مدت کا آغاز 27 مارچ 1942ء لکھتا ہے جو اس کے اپنے متن کے خلاف ہے، یہاں متن کو اختیار کیا گیا ہے۔ 1 2 ان کی دوسری کابینہ میں غلام حسین ہدایت اللہ — جو اس منصب پر ان کے پیش رو اور بعد میں ان کے جانشین بنے — داخلہ، پارلیمانی امور اور قانون کے وزیر تھے۔ 1
اقتدار سنبھالتے ہی انھوں نے عبید اللہ سندھی کی جلاوطنی ختم کر کے انھیں سندھ واپسی کی اجازت دی؛ اردو مقالے میں ان کے اقدامات میں «مولانا عبد اللہ سندھی» کو واپس بلانا، سکھر کے نظام آبپاشی کی درستگی، صوبائی اخراجات میں کمی اور اساتذہ کی تنخواہوں میں اضافہ شامل ہیں۔ 1 2 انھوں نے وزرا کی تنخواہیں 500 روپے ماہانہ کر دیں اور مقامی اداروں میں نامزدگیاں ختم کر دیں۔ 1
دینی پالیسی
انگریزی مقالے کے مطابق انھوں نے کچھ مذہبی اصلاحات بھی کیں: 1938ء میں «زیوال حج» نامی مقامی رسم پر پابندی لگائی، جس میں غریب لوگ لاواری کے پیر کے درگاہ کی طرف منہ کر کے نماز پڑھتے اور ایک دوسرے کو «حاجی» کہتے تھے، اور اوم منڈلی پر بھی پابندی عائد کی۔ 1 یہ ان کی حکومت کے اقدامات ہیں؛ کسی ماخذ میں سومرو کے اپنے لیے کوئی مذہب (مکتب) نہیں آیا، اور ان کے ریکارڈ میں یہی درج ہے۔
منزل گاہ تنازع
ان کی پہلی وزارت کو سکھر کے منزل گاہ تنازع نے ہلا دیا، جو سادھ بیلو مندر کے قریب دو قدیم عمارتوں کے مسجد یا سرائے ہونے پر تھا؛ ان کی کمیٹی نے فارسی کتابتوں کی بنیاد پر انھیں سرائے قرار دیا، مگر مسلم لیگ نے جون 1939ء میں تحریک شروع کر دی اور جی ایم سید، ایم اے کھوڑو اور سر عبد اللہ ہارون سمیت رہنماؤں نے 3 اکتوبر تا 19 نومبر 1939ء عمارتیں اپنے قبضے میں رکھیں، جس کے بعد سکھر میں فسادات ہوئے اور حکومت نے نماز کی اجازت دے دی۔ 1
آزاد مسلم کانفرنس
انھوں نے آل انڈیا آزاد مسلم کانفرنس قائم کی، جو متحدہ ہندوستان کی حامی اور تقسیم کی مخالف اسلامی تنظیموں اور جماعتوں کی نمائندگی کرتی تھی۔ 1 ان کا موقف تھا کہ مذہب کی بنیاد پر مسلمانوں کو الگ قوم قرار دینا غیر اسلامی ہے۔ 1 27 اپریل 1940ء کو دہلی اجلاس میں ان کی صدارت میں 1400 سے زائد مندوبین شریک ہوئے۔ 1
عہدے سے برخواستگی، خطابات کی واپسی اور قتل
1940ء میں کانگریس اور مسلم لیگ کے مشترکہ ووٹ سے ان کے خلاف عدم اعتماد کی تحریک کامیاب ہوئی۔ 1 وہ 1942ء تک نیشنل ڈیفنس کونسل کے رکن رہے؛ «ہندوستان چھوڑ دو» تحریک کے آغاز پر اس سے مستعفی ہوئے اور ستمبر 1942ء میں نائٹ ہڈ اور خان بہادر کے خطابات واپس کر دیے۔ 1 گورنر نے انھیں تحریک کی حمایت پر برطرف کر دیا۔ 1
14 مئی 1943ء کو وہ اپنے آبائی شہر شکارپور میں ٹانگے میں سفر کے دوران قتل کر دیے گئے، عمر 43 برس تھی۔ 1 افواہیں قاتلوں کو مسلم لیگ سے جوڑتی تھیں، مگر مقالہ اسے افواہ ہی درج کرتا ہے اور مقدمہ غیر حل شدہ ہے۔ 1
ورثہ
مآخذ
- اوپر جن مآخذ کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تعریف کردہ اکائیاں،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعے کی تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔
ماخذ
- Allah Bux Soomro — English Wikipedia
- Allah Bux Soomro — Urdu Wikipedia
- Allah Bux Soomro — Wikidata Q4730297
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “اللہ بخش سومرو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/allah-bux-soomro/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.