المامی سولوکو

ألمامي سولوكو

–

المامی سولوکو (تقریباً 1820ء – 1906ء)، شمالی سیرا لیون کے علاقے بیریوا کے لمبا حکمران اور اس کے سردار سانکیلائی کے بیٹے۔ جوانی میں وہ کوروغبا (سپہ سالار) بنے اور بیریوا کو سیرا لیون کی بڑی سلطنتوں میں شامل کر دیا، پھر گباکو (بادشاہ) کا تاج پہنا؛ انہوں نے دارالحکومت بومبان سے فری ٹاؤن جانے والی تجارت کی حفاظت کر کے اسے مالا مال کیا۔ انہوں نے اپنی آزادی محض سیاسی تدبیر سے برقرار رکھی: 1884ء میں ساموری تورے کی ماندنکا فوجوں کے قبضے پر بظاہر تعاون کیا مگر خفیہ طور پر انگریزوں کو خبردار کرتے رہے یہاں تک کہ وہ پیچھے ہٹ گئیں؛ 1898ء کی بغاوت میں بائی بورے کو خفیہ طور پر جنگجو اور ہتھیار بھیجے اور ساتھ ہی انگریزوں کو ثالثی کی پیشکش بھی کر دی۔ ان کی رعایا نے ان کی زندگی میں سلطنت کی تقسیم قبول نہ کی، اور جب ایک برطانوی اہلکار نے بڑھاپے میں ان سے جانشین کا نام پوچھا تو جواب دیا: «سولوکو کبھی نہیں مرے گا»۔ وفات 1906ء میں ہوئی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران · جرنیل
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: قرمانجان داتقا · ميرزا أبو تراب آخوندزاده · وارث علی شاہ · جاسم بن محمد الثانی · ہاشم جلیل العالم اقام الدین

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    المامی سولوکو (تقریباً 1820ء – 1906ء) شمالی سیرا لیون کے طاقتور لمبا حکمران تھے جنہوں نے شاندار سیاسی تدبیر سے اپنی آزادی زیادہ سے زیادہ عرصہ برقرار رکھی، جیسا کہ سیرا لیون ویب کی سوانح کہتی ہے، اور وکی ڈیٹا ان کے تقریبی سالوں پر اس سے متفق ہے۔ 1 2 وہ بیریوا کے سردار سانکیلائی کے بیٹے تھے؛ جوانی میں کوروغبا (سپہ سالار) بن کر بیریوا کو سیرا لیون کی بڑی سلطنتوں میں شامل کر دیا اور گباکو (بادشاہ) کا تاج پہنا۔ 1

    زندگی اور عہد

    سولوکو نے محض علاقے پر اکتفا نہ کیا: بومبان سے فری ٹاؤن جانے والی سونے، ہاتھی دانت، کھالوں اور غذائی اجناس کی تجارت کو فروغ دیا اور تاجروں کو مکمل تحفظ دیا، تو فری ٹاؤن کی برطانوی انتظامیہ نے متاثر ہو کر 1880ء کی دہائی میں انہیں سالانہ تحائف بھیجے۔ 1 1884ء میں ساموری تورے کی ماندنکا فوجوں نے بیریوا پر قبضہ کیا تو انہوں نے بظاہر تعاون کیا مگر خفیہ طور پر انگریزوں کو تجارت کی بندش کی وارننگ بھیجتے رہے، یہاں تک کہ ماندنکا پیچھے ہٹ گئے — یوں انہوں نے محض سیاسی حکمتِ عملی سے اپنا مقصد حاصل کیا، جب کہ دوسرے بادشاہ بیکار عسکری مزاحمت میں مہنگی شکستیں کھا رہے تھے۔ 1 1890ء کی دہائی میں انہوں نے انگریزوں کو اپنا وفادار حلیف باور کرایا مگر درحقیقت اپنی ہی مرضی چلائی۔ 1 1898ء کی بغاوت میں انہوں نے بائی بورے کو جنگجو اور ہتھیار بھیجے، اور انگریزوں کی شکایت پر ان کی حمایت کا خط اور ثالثی کی پیشکش بھی بھیج دی۔ 1 وفات 1906ء میں ہوئی۔ 2 1

    موقف و نقد

    یہ حصہ مآخذ میں منقول مواقف کی پیشکش ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    مآخذ سولوکو کو سیرا لیون میں عسکری مزاحمت کا کامیاب متبادل بنا کر پیش کرتے ہیں: جہاں بائی بورے نے آخرکار ہارنے والی جنگ لڑی، وہاں سولوکو نے محض سفارتی چالاکی سے اپنی سلطنت دہائیوں تک بچائے رکھی۔ 1 ان کا لقب «المامی» فوتا جالون کے اماموں کا لقب ہے، لیکن کوئی ماخذ ان کے اپنے مذہب، فقہی مذہب یا سلسلے کا ذکر نہیں کرتا؛ اس لیے ان کی عقیدت «نامعلوم» درج ہے، کیونکہ مستعار شاہی لقب منصب کی صفت ہے، انسان کے عقیدے کی شہادت نہیں۔ 1 2

    حوالہ جات

    • اوپر درج شدہ معرّف مآخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Allied with
    بائی بورے

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    بائی بورے

    ماخذ

    1. Sierra Leonean Heroes: 1898 Rebellion Era — Sierra Leone Web
    2. Almamy Suluku — Wikidata Q4733672
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “المامی سولوکو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/almamy-suluku/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    بائی بورے

    بائی بورے (15 فروری 1840ء – 24 اگست 1908ء)، سیرا لیون کے حکمران، عسکری ماہر اور مسلمان عالم، جنہوں نے 1898ء میں شمالی سیرا لیون میں برطانوی راج کے خلاف تمنے اور لوکو بغاوت کی قیادت کی۔ وہ پورٹ لوکو کے قریب کاسے میں ایک مسلمان عالم اور لوکو سردار کے ہاں پیدا ہوئے، گبندمبو میں جنگی تربیت پائی اور «کبالائی» یعنی «جو جنگ سے نہیں تھکتا» کا لقب پایا؛ 1860ء اور 1870ء کی دہائیوں میں وہ درست اسلامی رسوم کے قیام کے لیے لڑتے ہوئے شمال کے سب سے بڑے جنگجو بنے، 1882ء میں سوسو حملہ پسپا کیا اور 1886ء میں تاج پوشی ہوئی۔ انہوں نے برطانوی جھونپڑی ٹیکس ماننے سے انکار کر کے 1898ء کی جنگ کی قیادت کی اور مہینوں گوریلا حربوں سے مزاحمت کی؛ 11 نومبر 1898ء کو ہتھیار ڈالے، گولڈ کوسٹ جلاوطن ہوئے، 1905ء میں واپس آ کر کاسے کے سردار بحال ہوئے اور وفات تک رہے۔ آج وہ سیرا لیون کے سب سے بڑے ہیرو ہیں؛ فری ٹاؤن کے وسط میں ان کا مجسمہ ہے اور ایک لیون کے نوٹ پر ان کی تصویر ہے۔