وارث علی شاہ

وارث علي شاه

–

ہندوستانی صوفی بزرگ (1817ء–1905ء) جن کا تعلق دیوا، بارہ بنکی سے تھا اور جو سلسلہ وارثیہ کے بانی تھے۔ لڑکپن میں خادم علی شاہ کے مرید ہوئے اور ان کی وفات تک ان کے مرید و خلیفہ رہے، پھر اپنے سلسلے میں لوگوں کو داخل کیا اور پیروکاروں کو ان کے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی اجازت دی؛ بارہا مکہ گئے اور یورپ کے سفر میں عثمانی سلطان اور بسمارک سے ملاقات کی، اور دیوا میں ان کا مزار مشہور ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
mystic
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: قرمانجان داتقا · ميرزا أبو تراب آخوندزاده · المامی سولوکو · محمد النووي البنتني · السير سيد أحمد خان

کہانی میں مقام

    sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حاجی حافظ سید وارث علی شاہ (1817ء–1905ء) دیوا، بارہ بنکی سے تعلق رکھنے والے صوفی بزرگ اور تصوف کے وارثیہ سلسلے کے بانی تھے۔1 انھوں نے زیادہ تر مغرب کا سفر کیا اور بہتیرے لوگ ان کے صوفی سلسلے میں داخل ہوئے، اور ان کا مزار دیوا، بھارت میں واقع ہے۔1

    ابتدائی زندگی

    ان کی ولادت 1232ھ بمطابق 1817ء کو دیوا شریف (موجودہ ضلع بارہ بنکی، اتر پردیش) میں ہوئی، اور ان کے والد کا نام سید قربان علی شاہ تھا جن کا مزار بھی دیوا میں واقع ہے۔1 نہایت چھوٹی عمر میں انھوں نے مذہبی زندگی اختیار کرنا شروع کر دی اور لوگ انھیں غیر معمولی عقل رکھنے والا بچہ کہتے تھے۔1

    بیعت اور سلسلہ وارثیہ

    ان کا تعلق تصوف کے قادریہ اور چشتیہ مکاتبِ فکر سے تھا؛ وہ روایتی چشتیہ سلسلے میں تھے، لیکن انھوں نے آزاد خیال نظریات اپنائے اور اپنے پیروکاروں کو ان کے اپنے مذہب پر قائم رہنے کی چھوٹ دی۔1 وہ چھوٹی عمر میں گولہ گنج، لکھنؤ کے صوفی بزرگ سید خادم علی شاہ کے مرید ہو گئے اور ان کی وفات تک ان کے مرید و خلیفہ رہے؛ ان کی وفات کے وقت وارث شاہ کی عمر محض سولہ برس تھی۔1 ان کے مریدوں میں کئی مذاہب کے لوگ شامل تھے، اور انگریزی مضمون ان کے مشہور مریدوں میں بیدم شاہ وارثی اور مشیر حسین قدوائی کا نام لیتا ہے۔2

    اسفار

    وہ حج کے لیے کئی دفعہ مکہ گئے؛ اپنے یورپ کے وسیع اسفار کے دوران انھوں نے اس وقت کے عثمانی سلطان اور برلن کے بسمارک سے ملاقات کی، اور انگلستان کا سفر کر کے ملکہ وکٹوریہ سے بھی رسمی ملاقات کی۔1

    وصال اور ورثہ

    اردو مضمون کے مطابق ان کا وصال 29 محرم الحرام 1323ھ بمطابق 5 اپریل 1905ء کو ہوا، جبکہ انگریزی مضمون 7 اپریل 1905ء (1 صفر 1323ھ) بتاتا ہے۔12 ان کے والد کی برسی، جو «دیوا میلہ» کہلاتی ہے، اکتوبر–نومبر میں منائی جاتی ہے اور اس میں لگ بھگ دس لاکھ مسلم و ہندو شریک ہوتے ہیں۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {3}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    چشتیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    اشرف علی تھانوی· خواجہ غلام فرید· خواجہ حسن نظامی· محمود حسن دیوبندی· پیر مہر علی شاہ· محمد زکریا کاندھلوی· چشتیہ طریقہ

    ماخذ

    1. Waris Ali Shah — Urdu Wikipedia
    2. Waris Ali Shah — English Wikipedia
    3. Waris Ali Shah — Wikidata Q7969448
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “وارث علی شاہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/waris-ali-shah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    اشرف علی تھانوی

    ہندوستانی حنفی عالم، دیوبندی بزرگ اور چشتی صوفی (1863ء–1943ء) جن کا تعلق تھانہ بھون سے تھا اور جو حکیم الامت کے لقب سے مشہور ہیں۔ دار العلوم دیوبند سے فارغ ہو کر انھوں نے کانپور میں چودہ برس پڑھایا، پھر اپنے مرشد امداد اللہ مہاجر مکی کی خانقاہ اپنے قصبے میں آباد کی اور مدرسہ اشرفیہ قائم کیا۔ ان کی تصانیف تقریباً آٹھ سو ہیں، جن میں «بیان القرآن» اور «بہشتی زیور» سب سے مشہور ہیں۔