انور ابراہیم

لوگ زندہ اسلام

أنور إبراهيم

ملائیشیائی سیاست دان، جو 1947ء میں چیروک ٹوک کن، پینانگ میں پیدا ہوئے۔ طلبہ اور اسلامی نوجوان رہنما کے طور پر انھوں نے ابیم (ABIM) کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا، 1982ء میں امنو میں شامل ہوئے اور وزارتِ تعلیم و خزانہ سے ہوتے ہوئے 1993ء میں نائب وزیرِ اعظم بنے؛ 1998ء میں برطرف کر کے قید کیے گئے، 2004ء میں وفاقی عدالت کی جانب سے بدفعلی کی سزا کالعدم ہونے پر رہا ہوئے، دوسری قید کے بعد 2018ء میں شاہی معافی ملی، اور 24 نومبر 2022ء کو ملائیشیا کے دسویں وزیرِ اعظم کے طور پر حلف اٹھایا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · activist
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات

    خلاصہ

    انور ابراہیم (ولادت 1947ء) ملائیشیائی سیاست دان ہیں جو 24 نومبر 2022ء سے اپنے ملک کے دسویں وزیرِ اعظم ہیں۔ طلبہ اور اسلامی نوجوان رہنما کے طور پر انھوں نے ملائیشیائی اسلامی یوتھ موومنٹ (ابیم) کی بنیاد رکھنے میں حصہ لیا، 1982ء میں امنو میں شامل ہوئے اور وزارتِ تعلیم و خزانہ سے ہوتے ہوئے 1993ء میں نائب وزیرِ اعظم بنے، 1998ء میں برطرف کر کے قید کیے گئے، 2004ء میں بدفعلی کی سزا کالعدم ہونے پر رہا ہوئے، 2015ء میں دوبارہ قید ہوئے اور 2018ء میں شاہی معافی ملی، اور 2022ء کے انتخابات کے بعد پاکاتان ہراپن اتحاد کے سربراہ کے طور پر وزارتِ عظمیٰ تک پہنچے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    انور بن ابراہیم 10 اگست 1947ء کو چیروک ٹوک کن، بکیت مرتاجم، کراؤن کالونی پینانگ میں پیدا ہوئے؛ 2023ء میں انھوں نے خود کہا کہ وہ سیبرانگ پیرائی کے سنگائی بکاپ میں پیدا ہوئے تھے، اور اس ریکارڈ کے ڈیٹا میں دونوں مقامات درج ہیں۔ ان کے والد ابراہیم بن عبد الرحمن اسپتال کے پورٹر سے امنو کے رکنِ پارلیمنٹ اور وزارتِ صحت کے پارلیمانی سیکریٹری بنے؛ والدہ چی یان بنت حسین پینانگ میں امنو کے خواتین ونگ میں سرگرم تھیں۔ انور نے بکیت مرتاجم ہائی اسکول اور ملے کالج کوالا کانگسار میں تعلیم پائی اور یونیورسٹی آف ملایا سے ملے اسٹڈیز میں ڈگری حاصل کی۔ 3 1

    سرگرمی اور حکومت میں داخلہ

    جامعہ میں انور نے ملائیشیا کے مسلم طلبہ کی قومی یونین کی قیادت کی اور ابیم کے بانی رہنماؤں اور اس کے دوسرے صدر رہے۔ 1974ء میں انھیں داخلی سلامتی ایکٹ کے تحت بغیر مقدمے کے حراست میں لیا گیا اور انھوں نے کامونٹنگ میں بیس ماہ گزارے۔ 1975ء سے 1982ء تک وہ عالمی مجلسِ شبابِ اسلام (WAMY) کے ایشیا پیسیفک نمائندے رہے اور 1981ء میں امریکہ میں انٹرنیشنل انسٹیٹیوٹ آف اسلامک تھاٹ کے شریک بانی بنے۔ 1982ء میں، جس سال وہ ابیم کے صدر بنے، انھوں نے مہاتیر محمد کی امنو میں شمولیت اختیار کی اور پرماتانگ پاؤہ سے رکنِ پارلیمنٹ منتخب ہوئے۔ 3

    وزیر اور نائب وزیرِ اعظم

    انور 1982ء میں کابینہ میں داخل ہوئے، 1983ء میں ثقافت، نوجوانان و کھیل اور 1984ء میں زراعت کے وزیر رہے، پھر 1986ء میں وزیرِ تعلیم بنے، جہاں ان کی تبدیلیوں میں قومی زبان کا نام بہاسا ملایو بحال کرنا شامل تھا اور وہ یونیسکو کی جنرل کانفرنس کے صدر منتخب ہوئے۔ 1991ء سے وزیرِ خزانہ کے طور پر انھیں بین الاقوامی پذیرائی ملی — ایشیامنی نے 1996ء میں انھیں سال کے بہترین وزیرِ خزانہ قرار دیا — اور 1997ء کے ایشیائی مالیاتی بحران میں انھوں نے کفایت شعاری نافذ کی، بیل آؤٹ سے انکار کیا اور مہاتیر کی سوچ کے برخلاف آئی ایم ایف کے طریقے کی تائید کی۔ وہ 1993ء میں نائب وزیرِ اعظم اور 1997ء میں مہاتیر کی چھٹی کے دوران قائم مقام وزیرِ اعظم بنے، لیکن دونوں کی حکمرانی کی سوچ پہلے ہی جدا ہو چکی تھی۔ 3 4

    زوال، ریفارماسی اور قید

    2 ستمبر 1998ء کو مہاتیر نے انور کو کابینہ سے برطرف کر دیا؛ اگلے دن انھیں امنو سے نکالا گیا اور 20 ستمبر کو داخلی سلامتی ایکٹ کے تحت گرفتار کیا گیا۔ حراست میں انسپکٹر جنرل آف پولیس نے انھیں مارا، اور وہ عدالت میں کالی آنکھ کے ساتھ پیش ہوئے۔ اپریل 1999ء میں انھیں بدعنوانی پر چھ سال اور دو ماہ بعد بدفعلی پر نو سال قید کی سزا ہوئی؛ ایمنسٹی انٹرنیشنل نے انھیں ضمیر کا قیدی قرار دیا۔ ان کی برطرفی سے ریفارماسی تحریک اور وہ جماعت شروع ہوئی جو بعد میں پارٹی کیادیلان رکعت (PKR) بنی۔ 2 ستمبر 2004ء کو وفاقی عدالت نے بدفعلی کی سزا کالعدم قرار دی اور وہ رہا ہو گئے۔ 3

    حزب اختلاف، معافی اور وزارتِ عظمیٰ

    انور نے 2008ء سے حزب اختلاف کی قیادت کی اور اس کی جماعتوں کو ایسے اتحادوں میں جوڑا جنھوں نے حکمران اتحاد کی دو تہائی اکثریت توڑی۔ بدفعلی کے دوسرے مقدمے میں 2015ء میں انھیں پانچ سال قید ہوئی؛ وہ جیل ہی میں تھے جب مہاتیر سے متحد پاکاتان ہراپن نے 2018ء کا انتخاب جیتا، اور مکمل شاہی معافی نے انھیں چند دنوں میں آزاد کر دیا۔ 2020ء میں اس اتحاد کے انہدام کے بعد وہ دوبارہ قائدِ حزب اختلاف بنے، یہاں تک کہ نومبر 2022ء کے معلق نتائج والے انتخابات کے بعد بادشاہ نے انھیں قومی اتحاد حکومت کا وزیرِ اعظم مقرر کیا؛ انھوں نے وزارتِ خزانہ بھی اپنے پاس رکھی۔ اپنے دور میں انھوں نے سبسڈی اور سزائے موت کی اصلاحات آگے بڑھائیں اور 2025ء میں آسیان کے چیئرمین کے طور پر تھائی لینڈ–کمبوڈیا جنگ بندی میں ثالثی میں مدد کی۔ ان کی ولدیت صرف نثر میں درج ہے، کیونکہ ان کے والد کا اس مجموعے میں کوئی ریکارڈ نہیں؛ اور اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ میں انور ابراہیم کے لیے کوئی مذہبی مکتب بیان نہیں ہوا — ان کی دہائیوں کی اسلامی سرگرمی تنظیمی تاریخ ہے، کسی مکتب کی گواہی نہیں — اس لیے یہ ریکارڈ کوئی مکتب درج نہیں کرتا۔ 3 2

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Anwar Ibrahim — Urdu Wikipedia
    2. Anwar Ibrahim — Wikidata Q299574
    3. Anwar Ibrahim — English Wikipedia
    4. Anwar Ibrahim — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “انور ابراہیم”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/anwar-ibrahim/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔