آصف علی زرداری

آصف علي زرداري

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستانی سیاست دان (پیدائش 1955ء)، مارچ 2024ء سے پاکستان کے چودہویں صدر اور اس سے قبل گیارہویں صدر (2008ء–2013ء)، آزادی کے بعد پیدا ہونے والے پاکستان کے پہلے سربراہِ مملکت۔ وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر، ان کے قتل (2007ء) کے بعد پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی؛ ان کے کیریئر پر 1990ء کی دہائی کے بدعنوانی کے الزامات سایہ فگن رہے، جن میں مضامین ان کی بریت اور کئی مقدمات کے خاتمے کو درج کرتے ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    آصف علی زرداری (پیدائش 26 جولائی 1955ء) پاکستانی سیاست دان ہیں جو مارچ 2024ء سے پاکستان کے چودہویں صدر ہیں، اس سے قبل 2008ء سے 2013ء تک گیارہویں صدر رہ چکے ہیں۔ وہ آزادی کے بعد پیدا ہونے والے پاکستان کے پہلے صدر ہیں اور دو بار منتخب وزیرِ اعظم بے نظیر بھٹو کے شوہر ہیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ سندھ کے ایک زمیندار اور قبائلی سردار حاکم علی زرداری کے بیٹے ہیں۔ کراچی میں پیدا ہوئے اور وہیں تعلیم پائی؛ ان کے والد کراچی کے مشہور سنیما بیمبینو کے مالک تھے۔ 1 2

    سیاسی زندگی

    زرداری 1987ء میں بے نظیر بھٹو سے شادی کے بعد نمایاں ہوئے، جو 1988ء میں انتخاب کے بعد وزیرِ اعظم بنیں۔ جب بھٹو کی حکومت 1990ء میں برطرف ہوئی تو زرداری کو بدعنوانی کے اسکینڈلز میں ملوث ہونے پر بڑے پیمانے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ بے نظیر بھٹو کے دوبارہ منتخب ہونے پر وہ وفاقی وزیرِ سرمایہ کاری اور پاکستان انوائرمینٹل پروٹیکشن کونسل کے چیئرمین رہے۔ مرتضیٰ بھٹو کے قتل (20 ستمبر 1996ء) اور حکومت کی برطرفی کے بعد وہ گرفتار ہوئے اور ان پر قتل اور بدعنوانی کے الزامات لگے۔ 1 3

    الزامات اور قانونی نتائج

    الزامات یہاں ان کے نتائج کے ساتھ درج ہیں، جیسا کہ ماخذ بیان کرتے ہیں، نہ کہ ثابت شدہ جرم کے طور پر۔ 1990ء میں اغوا اور بھتہ خوری کے الزامات پر گرفتار ہوئے، جنھیں بھٹو خاندان نے سیاسی اور جعلی قرار دیا؛ 1993ء میں بینک فراڈ اور قتل کی سازش سے بری ہو کر رہا ہوئے، 1994ء میں مزید فراڈ الزامات سے بری ہوئے اور پہلی بھٹو مدت کے دیگر بدعنوانی الزامات ختم یا خارج ہو گئے۔ 1996ء کے بعد پاکستان میں بدعنوانی اور سوئٹزرلینڈ میں منی لانڈرنگ کے الزامات میں فردِ جرم عائد ہوئی۔ 2004ء میں رہا ہو کر دبئی چلے گئے؛ انگریزی مضمون کے مطابق 2008ء میں وہ کئی فوجداری الزامات سے بری ہوئے۔ 2

    صدارت

    بے نظیر بھٹو کے قتل (27 دسمبر 2007ء) کے بعد پیپلز پارٹی کی قیادت سنبھالی، 2008ء کے انتخابات میں کامیابی حاصل کی اور 6 ستمبر 2008ء کو صدر منتخب ہوئے۔ 2010ء میں اٹھارہویں آئینی ترمیم منظور ہوئی جس سے صدارتی اختیارات کم ہوئے۔ 9 ستمبر 2013ء کو وہ پاکستان کے پہلے منتخب صدر بنے جنھوں نے اپنی آئینی مدت مکمل کی۔ 2024ء کے انتخابات کے بعد ائتلاف کے تحت دوبارہ صدر بنے اور 10 مارچ 2024ء کو حلف اٹھایا۔ 2 1

    مذہب کے بارے میں ماخذ

    نہ انگریزی اور نہ عربی مضمون میں ان کے مذہب کا کوئی ذکر ہے۔ ویکی ڈیٹا فقط «اسلام» عام طور پر دیتا ہے، اور اردو مضمون انھیں «پاکستانی شیعہ» اور «شیعہ سیاستدان» زمروں میں رکھتا ہے؛ زمرے شہادت نہیں ہوتے۔ اس لیے عجائب گھر کے ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف درج ہے۔ 4 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Spouse of
    بے نظیر بھٹو

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ذوالفقار علی بھٹو· بے نظیر بھٹو

    ماخذ

    1. Asif Ali Zardari — Urdu Wikipedia
    2. Asif Ali Zardari — English Wikipedia
    3. Asif Ali Zardari — Arabic Wikipedia
    4. Asif Ali Zardari — Wikidata Q57373
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “آصف علی زرداری”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/asif-ali-zardari/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ذوالفقار علی بھٹو

    پاکستانی وکیل اور سیاست دان (1928ء–1979ء)، پاکستان پیپلز پارٹی کے بانی، جو صدرِ پاکستان (1971ء–1973ء) اور پھر 1973ء کے آئین کے تحت وزیرِ اعظم (1973ء–1977ء) رہے۔ 1977ء میں جنرل ضیاء الحق کی بغاوت میں معزول ہوئے، ایک سیاسی مخالف کے قتل کی اجازت کے الزام میں مقدمہ چلا اور 1979ء میں پھانسی دی گئی — اس مقدمے کو بعد میں سپریم کورٹ آف پاکستان نے غیر منصفانہ قرار دیا۔