ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
بے نظیر بھٹو (21 جون 1953ء – 27 دسمبر 2007ء) پاکستانی سیاست دان تھیں جو دو مرتبہ وزیرِ اعظم پاکستان رہیں، 1988ء–1990ء اور 1993ء–1996ء میں، اور کسی مسلم اکثریتی ملک کی حکومت کی سربراہی کے لیے منتخب ہونے والی پہلی خاتون تھیں۔ 1 2
انھوں نے اپنے والد ذوالفقار علی بھٹو کی قائم کردہ پاکستان پیپلز پارٹی کی قیادت 1982ء سے اپنی وفات تک سنبھالی۔ 1
ان کی زندگی کا سفر والد کی حکومت کے خاتمے اور پھانسی، قید و جلاوطنی کے سالوں، بدعنوانی کے الزامات پر برطرف ہونے والی دو حکومتوں اور پاکستان، سوئٹزرلینڈ اور برطانیہ کی عدالتوں میں طویل قانونی جنگ سے گزرا۔ 1
وہ اکتوبر 2007ء میں ایک عام معافی کے تحت جلاوطنی سے لوٹیں اور 27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی میں ایک انتخابی جلسے میں قتل کر دی گئیں؛ قتل کا حکم دینے والا آج تک متنازع ہے، اور ذیل میں مقابل آرا ماخذوں ہی کی زبان میں درج ہیں۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
بے نظیر بھٹو 21 جون 1953ء کو کراچی کے پنٹو نرسنگ ہوم میں پیدا ہوئیں؛ وہ ذوالفقار علی بھٹو اور ان کی اہلیہ نصرت اصفہانی کی سب سے بڑی اولاد تھیں۔ 1
انگریزی مضمون بھٹو خاندان کو سندھی و کرد نژاد سنی مسلمان بتاتا ہے اور درج کرتا ہے کہ ان کی والدہ اصفہان کے ایک شیعہ خاندان میں پیدا ہوئیں اور شادی پر سنی اسلام قبول کیا — یہ خاندانی پس منظر ہے، جیسا کہ مضمون دیتا ہے۔ 1
انھوں نے کراچی اور مری میں تعلیم پائی — اردو مضمون راولپنڈی کے پریزینٹیشن کانونٹ میں ان کی ابتدائی تعلیم کا اضافہ کرتا ہے — پھر ہارورڈ کے ریڈکلف کالج میں تقابلی حکومت پڑھی اور 1973ء میں امتیاز کے ساتھ فارغ التحصیل ہوئیں۔ 1 3
آکسفورڈ کے لیڈی مارگریٹ ہال میں انھوں نے فلسفہ، سیاست و معاشیات پڑھے اور پھر بین الاقوامی قانون و سفارت کاری کی تعلیم حاصل کی، اور 1977ء میں آکسفورڈ یونین کی صدر منتخب ہونے والی پہلی ایشیائی خاتون بنیں۔ 1
قید، جلاوطنی اور اقتدار کا راستہ
اپریل 1979ء میں ذوالفقار علی بھٹو کی پھانسی کے بعد بے نظیر اور ان کی والدہ نے ضیا الحق کے نظام کے خلاف جمہوریت کی بحالی کی تحریک کی قیادت کی۔ 1
اگلے برسوں کا بڑا حصہ انھوں نے قید یا نظر بندی میں گزارا، جن میں سکھر میں اٹھارہ ماہ کی تنہائی قید بھی شامل ہے، پھر جنوری 1984ء میں علاج کے لیے بیرونِ ملک جانے کی اجازت ملی اور وہ لندن میں مقیم ہو کر جلاوطنی میں پارٹی کی قیادت کرتی رہیں۔ 1
10 اپریل 1986ء کو وہ پاکستان لوٹیں، لاہور میں ان کا والہانہ استقبال ہوا، اور دسمبر 1987ء میں کراچی میں آصف علی زرداری سے ان کی شادی ہوئی، جسے مضمون «عوامی شادی» کہتا ہے۔ 1
وزارتِ عظمیٰ کے دو دور
ضیا الحق اگست 1988ء میں فضائی حادثے میں جاں بحق ہوئے اور نومبر کے انتخابات میں پیپلز پارٹی نے سب سے زیادہ نشستیں حاصل کیں؛ بے نظیر نے 2 دسمبر 1988ء کو وزیرِ اعظم کا حلف اٹھایا اور پینتیس برس کی عمر میں عالمِ اسلام کی سب سے کم عمر منتخب سربراہِ حکومت بنیں۔ 1
ان کی پہلی حکومت کو فوجی و انٹیلی جنس اسٹیبلشمنٹ کی رکاوٹوں کا سامنا رہا، اور اگست 1990ء میں صدر غلام اسحاق خان نے بدعنوانی اور امن و امان کی ناکامی کا الزام لگا کر اسے برطرف کر دیا؛ 1990ء سے 1993ء تک وہ اپوزیشن کی قیادت کرتی رہیں۔ 1
1993ء کے انتخابات کے بعد وہ اتحادی حکومت کی سربراہ کے طور پر دوبارہ برسرِ اقتدار آئیں؛ ان کی دوسری حکومت نے نجکاری کی پالیسی اور خواتین کے لیے اقدامات — خواتین کے خلاف امتیاز کے خاتمے کے عالمی کنونشن پر دستخط، خواتین کا بینک، خواتین کے لیے مخصوص تھانے اور اعلیٰ عدلیہ کی پہلی خاتون ججز — اختیار کیے۔ 1
ستمبر 1996ء میں ان کے بھائی مرتضیٰ کراچی میں پولیس مقابلے میں مارے گئے؛ بے نظیر نے اس کا الزام صدر فاروق لغاری کے حلقے تک پہنچنے والی سازش پر لگایا اور یہ قتل آج تک حل طلب ہے۔ 1
5 نومبر 1996ء کو لغاری نے بدعنوانی کے الزامات کے پس منظر میں ان کی حکومت برطرف کر دی۔ 1
جلاوطنی اور بدعنوانی کے مقدمات
بے نظیر 1998ء–1999ء میں پاکستان سے چلی گئیں اور اگلے برس دبئی اور لندن کے درمیان گزارے؛ مقدمات کے نتائج، جیسا کہ ماخذ دیتے ہیں، ملے جلے رہے۔ 1
اپریل 1999ء میں لاہور ہائی کورٹ کے احتساب بینچ نے ان کی غیر حاضری میں انھیں پانچ سال قید، 86 لاکھ ڈالر جرمانے اور عوامی عہدے سے نااہلی کی سزا سنائی؛ دو سال بعد ججوں پر سیاسی دباؤ ثابت ہونے پر دوبارہ سماعت کا حکم ہوا۔ 1
سوئٹزرلینڈ میں جج ڈینیئل ڈیوو کی تفتیش کے بعد جنیوا کی ایک عدالت نے انھیں پاکستانی ریاست کو ایک کروڑ انیس لاکھ ڈالر لوٹانے اور 180 دن قید کا حکم دیا؛ انھوں نے فیصلہ چیلنج کیا اور دوبارہ سماعت میں وہ فیصلہ کالعدم ہو گیا۔ 1
نیو یارک ٹائمز کے جان برنز کی تحقیق نے 1996ء تک جوڑے کی مبینہ لوٹ کا تخمینہ تقریباً ڈیڑھ ارب ڈالر لگایا، جبکہ احتساب بیورو نے نوٹ کیا کہ خاندان کے ظاہر کردہ اثاثے صرف بارہ لاکھ ڈالر تھے؛ بے نظیر اور ان کے شوہر آخر تک یہی کہتے رہے کہ الزامات خالصتاً سیاسی ہیں۔ 1
اکتوبر 2007ء میں صدر پرویز مشرف نے قومی مفاہمت کا آرڈیننس جاری کیا، جس سے ان کی واپسی کی راہ ہموار ہوئی۔ 1
واپسی اور قتل
بے نظیر 18 اکتوبر 2007ء کو کراچی لوٹیں؛ اسی دن ان کے قافلے پر دو بم دھماکے ہوئے جن میں انگریزی مضمون کے مطابق 149 افراد ہلاک اور 402 زخمی ہوئے — عربی مضمون 125 سے زائد ہلاکتیں بتاتا ہے — جبکہ وہ خود محفوظ رہیں۔ 1 4
27 دسمبر 2007ء کو راولپنڈی کے لیاقت باغ میں انتخابی جلسے سے نکلتے ہوئے وہ اپنی بکتر بند گاڑی کی ایمرجنسی کھڑکی سے کھڑی ہو کر ہجوم کی طرف ہاتھ ہلا رہی تھیں۔ 1
گاڑی سے دو سے تین میٹر کے فاصلے پر کھڑے ایک شخص نے ان پر تین گولیاں چلائیں اور پھر دھاتی گولیوں سے بھری خودکش جیکٹ پھاڑ دی؛ بے نظیر مہلک زخمی ہوئیں — اطلاعات میں اختلاف ہے کہ انھیں گولیاں لگیں یا چھرے — اور بائیس دیگر افراد بھی ہلاک ہوئے۔ 1
وہ راولپنڈی جنرل ہسپتال پہنچنے پر طبی طور پر جاں بحق ہو چکی تھیں، ان کا پوسٹ مارٹم نہیں ہوا، اور اگلے دن انھیں لاڑکانہ کے قریب گڑھی خدا بخش میں خاندانی مزار میں والد کے پہلو میں دفن کیا گیا۔ 1
ذمہ داری کئی سمتوں میں منسوب کی گئی، اور عجائب گھر ان نسبتوں کو اپنائے بغیر درج کرتا ہے۔ 1
پاکستانی حکام نے کہا کہ حملے کا ماسٹر مائنڈ پاکستانی طالبان کا سربراہ بیت اللہ محسود تھا اور سی آئی اے نے اسے ممکنہ قرار دیا؛ محسود نے الزام سے انکار کیا۔ 1
القاعدہ کے کمانڈر مصطفی ابو الیزید نے قتل کی ذمہ داری قبول کی۔ 1
پیپلز پارٹی نے حکومت پر پردہ پوشی کا الزام لگایا، اور اس کے کئی رہنماؤں کا کہنا تھا کہ بے نظیر کو انٹیلی جنس ایجنسیوں سے منسلک ایک نشانہ باز نے مارا۔ 1
2009ء میں قائم ہونے والے اقوام متحدہ کے تین رکنی کمیشن — ہیرالڈو مونیوز، پیٹر فٹز جیرالڈ اور مارزوکی داروسمان — کے دائرۂ کار میں مجرم کا نام لینا شامل نہیں تھا؛ مونیوز نے بعد میں اپنی رائے دی کہ یہ قتل غالباً پاکستانی طالبان نے کیا، ممکنہ طور پر محسود کی حمایت اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کے بعض ناراض عناصر کی مدد سے، اور پولیس کی اصل تفتیش میں جان بوجھ کر گڑبڑ کی گئی تھی۔ 1
ایمان اور تعلق
ماخذ بے نظیر بھٹو کو کوئی مذہبی مکتب نہیں دیتے، اور عجائب گھر بھی انھیں کوئی مکتب منسوب نہیں کرتا۔ 1
انگریزی مضمون ان کے خاندان کو سنی بتاتا ہے، والدہ کی شادی پر شیعہ خاندان سے سنی اسلام قبول کرنے کا ذکر کرتا ہے، کہتا ہے کہ بے نظیر اپنے والد کی طرح تصوف سے وابستگی کا اظہار کرتی تھیں، اور ایک اور جگہ کہتا ہے کہ ان کے اسلام پسند مخالفین نے ان کی مخالفت «اس لیے کی کہ وہ شیعہ مسلمان تھیں»؛ بریٹانیکا کوئی فرقہ نہیں بتاتی اور ویکی ڈیٹا اسلام کو عمومی طور پر درج کرتا ہے۔ 1 2 5
چونکہ یہ ایک ہی مضمون کی متعدد سمتوں کی باتیں ہیں — خاندانی تعلق، تصوف سے وابستگی کا اظہار، اور مخالفین کا دیا ہوا وصف — نہ کہ کسی مکتب کی دو آزاد شہادتیں، اس لیے ان کا ایمان اعداد میں «نامعلوم» درج ہے۔ 1
ذاتی زندگی
بے نظیر نے دسمبر 1987ء میں کراچی میں آصف علی زرداری سے شادی کی، جسے مضمون «عوامی شادی» کہتا ہے۔ 1
ان کے تین بچے ہوئے: بلاول (پیدائش 1988ء)، بختاور (پیدائش 1990ء — مضمون نوٹ کرتا ہے کہ اس طرح وہ عہدے پر رہتے ہوئے بچہ جننے والی پہلی منتخب سربراہِ حکومت بنیں) اور آصفہ (پیدائش 1993ء)۔ 1
اردو مضمون ان کے بیٹے کا نام بلاول بھٹو زرداری رکھے جانے کی کہانی بیان کرتا ہے، جس میں والدہ کے خاندانی نام کو والد کے نام سے جوڑا گیا۔ 3
ماخذ
اس ریکارڈ کے ماخذ یہ ہیں: انگریزی ویکیپیڈیا کا مضمون "Benazir Bhutto" (نظرِ ثانی 1380696680)، عربی ویکیپیڈیا کا مضمون «بينظير بوتو» (نظرِ ثانی 76509706)، اردو ویکیپیڈیا کا مضمون «بینظیر بھٹو» (نظرِ ثانی 10017655)، انسائیکلوپیڈیا بریٹانیکا کا مدخل "Benazir Bhutto" (آخری تجدید 23 اکتوبر 2026ء) اور ویکی ڈیٹا آئٹم Q34413 — سبھی عجائب گھر کے ڈیٹا میں ماخذ اکائیوں کے طور پر درج ہیں اور 25 اکتوبر 2026ء کو جانچے گئے۔
تعلقات
- Spouse of
- آصف علی زرداری
- Child of
- ذوالفقار علی بھٹو
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Benazir Bhutto — English Wikipedia
- Benazir Bhutto — Encyclopaedia Britannica
- Benazir Bhutto — Urdu Wikipedia
- Benazir Bhutto — Arabic Wikipedia
- Benazir Bhutto — Wikidata Q34413
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “بے نظیر بھٹو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/benazir-bhutto/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.