بابا طاهر عريان

بابا طاهر عريان

1010 عیسوی · 401 ھ

Baba Tahir 'Uryan of Hamadan, a mystic who wrote quatrains (du-bayti) in a Persian dialect with Lur and Kurdish traits; the Encyclopaedia of Islam gives his death as 401/1010 on a late, unsourced authority, while the earliest historical notice places him after Tughril's entry into Hamadan in 447/1055 1.

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر · mystic
دور
عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

900عیسوی925عیسوی950عیسوی975عیسوی1000عیسوی1025عیسوی1050عیسوی1075عیسوی1100عیسوی1125عیسوی1150عیسوی تقریباً تقریباً
عصر تفكك الخلافة العباسية · عصر البويهيين والفاطميين والسلاجقة · الحروب الصليبية والأيوبيون والمماليك ہم عصر: عبد الغني بن سعيد الأزدي · عبدالجبار ہمدانی · عبد الملك بن عطاش · عبد الوهاب بن علي البغدادي · عبد الله بن ياسين الجزولي

نام اور تاریخیں

بابا طاہر، جو "عریان" کے لقب سے بھی جانے جاتے ہیں، فارسی کی ایک خاص بولی میں لکھنے والے صوفی اور شاعر تھے۔ انیسویں صدی کے رضا قلی خان، جنہوں نے اپنا ماخذ نہیں بتایا، انہیں دیلمی دور میں رکھتے ہیں اور ان کی وفات 401ھ/1010ء بتاتے ہیں؛ انسائیکلوپیڈیا آف اسلام اس تاریخ کو غیر مصدقہ سمجھتا ہے۔ ایک غامض رباعی میں "الف القد" کو مہدی خان نے عددی حساب سے پڑھ کر سالِ ولادت 326 نکالا، جسے مدخل ذہین مگر ناقابلِ ثبوت قرار دیتا ہے۔ 2

تاریخی شواہد

سب سے قدیم تاریخی ذکر "راحۃ الصدور" (تقریباً 601ھ/1204ء) میں ملتا ہے۔ اس کے مصنف کے مطابق جب سلجوقی سلطان طغرل نے 447ھ/1055ء میں ہمدان فتح کیا تو بابا طاہر نے اسے مسلمانوں کے ساتھ سلوک کے بارے میں نصیحت کی، اور فاتح متاثر ہوا۔ یہ قصہ وفات کو 447ھ کے بعد کی طرف لے جاتا ہے، مگر یہ بات اس سے متصادم نہیں کہ وہ دیلمیوں، یعنی بویہیوں اور ان کے رشتہ داروں کاکویہیوں کے دور میں تھے، جن کی حکومت ہمدان میں ابراہیم ینال کی مہم (435ھ/1043-1044ء) پر ختم ہوئی۔ وہ ابن سینا کے ہم عصر ہو سکتے ہیں جن کی وفات ہمدان میں 428ھ/1037ء میں ہوئی۔ وہ روایات جو انہیں عین القضاۃ (533ھ) کی پھانسی کا شاہد یا نصیر الدین طوسی (وفات 672ھ) کا ہم عصر بتاتی ہیں، سراسر من گھڑت ہیں۔ 1

نام، مقبرہ اور مقام

ماخذ انہیں "ہمدانی" کہتے ہیں اور بعض "لوری"، جس کا لورستان سے تعلق ابھی طے نہیں ہوا۔ ان کا مقبرہ ہمدان کے شمال مغرب میں ایک چھوٹی پہاڑی پر، بن بازار کے محلے میں ہے، اور اس کے پہلو میں فاطمہ کی قبر ہے جسے ان کی وفادار ساتھی بتایا جاتا ہے۔ عمارت سادہ ہے۔ حمد اللہ مستوفی "نزہۃ القلوب" (740ھ/1340ء) میں اس کا ذکر کرتے ہیں۔ 3

زبان

ان کے کلام کی بولی ادبی فارسی سے بہت قریب مگر آمیزش والی ہے۔ اس میں لوری بولیوں کی خصوصیات ملتی ہیں، جیسے "نام" کا "نوم" اور "رفتم" کا "رفتوم" بننا، اور کچھ فعلی صورتیں کردی اور مغرب کی گورانی کی یاد دلاتی ہیں۔ ہوار کی 1885ء کی تجویز کہ اسے "محمدی پہلوی" کہا جائے، قبول نہیں ہوئی۔ محققین متفق ہیں کہ زبانی روایت نے متن کو نئی شکل دی، اور شاعر ممکن ہے اپنے پیروکاروں کی زبان کی نقل کرتے رہے ہوں۔ 3

رباعیات اور انداز

ان کا وزن "ہزج مسدس محذوف" ہے۔ ایک جدید مدون نے انہیں "رباعی" کے بجائے "دوبیتی" کہنا پسند کیا، کیونکہ "رباعی" کا لفظ ایک اور وزن سے جڑا ہوا ہے۔ ان سے منسوب بعض رباعیاں مشکوک ہیں، اور زوکوفسکی کے مطابق ملا محمد صوفی مازندرانی کے دیوان میں بھی ان کے اشعار ملتے ہیں۔ ان کی شاعری ایک آوارہ درویش کی ہے جس کا کوئی چھت نہیں، جو پتھر کو تکیہ بنا کر سوتا ہے، روحانی اضطراب میں مبتلا رہتا ہے، اور فنا فی اللہ کو واحد علاج قرار دیتا ہے۔ ان کے جذبات سچے اور تصویریں تازہ ہیں۔ ان میں عمر خیام کی عیش پسندی اور موت کے سامنے اس کا سکون نہیں، مگر وہ صوفیانہ آگ ہے جو خیام کے یہاں نہیں ملتی۔ 4

طبعات

ہوار کے 1885ء کے مجموعے میں 59 رباعیاں ہیں۔ لیشچینسکی نے میونخ (1920ء) میں تقریباً 80 رباعیوں اور ایک غزل کا ترجمہ کیا۔ حسین وحید دستگردی نے تہران (1306ھ/1927ء) میں ان کا دیوان شائع کیا، جس میں 296 دوبیتیاں اور چار غزلیں ہیں، اور ضمیمے میں 62 مزید دوبیتیاں۔ مہدی خان نے 1904ء میں ایشیاٹک سوسائٹی آف بنگال کے جریدے میں شرح کے ساتھ ایک طبع شائع کی، اور آربری نے 1937ء میں ساٹھ دوبیتیوں کا ترجمہ کیا۔ 5

کلماتِ قصار

رسالہ "کلماتِ قصار" میں 23 ابواب میں 368 عربی حکمتیں ہیں، جو علم، معرفت، الہام اور فراست، عقل اور نفس، دنیا اور آخرت، ذکر، اخلاص اور اعتکاف پر مشتمل ہیں۔ مثالیں: "حقیقت علمِ یقین کے بعد کا مشاہدہ ہے"، اور "وجد موجودات کی معرفت کا کھو جانا اور مفقودات کا موجود ہونا ہے"۔ اس کی شروحات میں عین القضاۃ ہمدانی (وفات 533ھ/1138-1139ء) کی طرف منسوب شرح (جسے روایات بابا طاہر سے جوڑتی ہیں)، ایک گمنام عربی شرح، اور ملا سلطان علی گنابادی کی فارسی شرح شامل ہیں جو 1326ھ/1906ء میں چھپی۔ پیرس کے عربی مخطوطے 1903 میں پہلے آٹھ ابواب کا اختصار اور دیانی بیگ العزیزی کی شرح "الفتوحات الربانیہ" ہے، جو شعبان 890ھ (ستمبر 1485ء) میں مکمل ہوئی، ابوالبقاء کی فرمائش پر، جن کے پاس 853ھ/1449-1450ء سے یہ کتاب تھی اور جن سے یہ زمزم کے کنوئیں میں گر گئی تھی، پھر معجزانہ طور پر برآمد ہوئی۔ 6

روایات

ہمدان کے مدرسے کے طلبہ نے انہیں علم کے حصول کے لیے سردی کی ایک رات برف جیسے پانی میں گزارنے کو کہا۔ انہوں نے ایسا کیا، اور صبح کہا: "کل رات میں کرد تھا اور آج صبح عرب ہو گیا ہوں"۔ زوکوفسکی نے یہ قصہ تہران میں سنا، اور یہ آج بھی ہمدان میں رائج ہے۔ یہ جملہ مولانا رومی کی مثنوی کے دیباچے میں ابن اخی (ارمیہ کے ایک ترک) کے کسی نامعلوم بزرگ سے منسوب ہے، اور جامی کی "نفحات الانس" میں ابو عبداللہ بابونی سے۔ دوسری روایات انہیں کوہِ الوند کی برف اپنی روحانی آگ کی حرارت سے پگھلانے والا بتاتی ہیں۔ 6

اہلِ حق

گوبینو نے 1859ء میں نوٹ کیا کہ اہلِ حق بابا طاہر اور ان کی بہن بی بی فاطمہ کی تعظیم کرتے ہیں۔ کتاب "سرانڈیام" انہیں تیسرے دور کے فرشتوں میں شمار کرتی ہے اور انہیں عزرائیل اور نصیر کا مظہر بتاتی ہے۔ اس کے مطابق "ملکِ عالم" ہمدان میں بابا طاہر سے ملنے آئے، اور فاطمہ لارا، جو شاعر کی خدمت کرتی تھیں اور لشکر کو کھانا کھلاتی تھیں، ملک کے گھٹنوں پر سر رکھ کر وفات پا گئیں؛ ملک نے قیامت کے دن انہیں لیلیٰ اور مجنوں کی طرح ملانے کا وعدہ کیا، اور ان کی قبر ان کے پہلو میں ہے۔ انسائیکلوپیڈیا کے مطابق یہ حکایت شاید طغرل کے ہمدان میں داخلے کی یاد سے ماخوذ ہے۔ 7

ماخذ

  1. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 896-897
  2. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 896
  3. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 897
  4. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 897-898
  5. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 899
  6. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 898
  7. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 898-899
  • الأعلام — خير الدين الزركلي
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “بابا طاهر عريان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/baba-tahir-uryan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔