بہبود خان جوانشیر

بهبود خان جوانشير

–

إسطنبول

آذربائیجانی انجینئر، سیاست دان اور سفارت کار (1878–1921)، خاناتِ قاراباغ کے بانی کی نسل سے؛ آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کے وزیرِ داخلہ (1918) اور تجارت و صنعت کے نائب وزیر۔ انہوں نے تیل کی صنعت میں انجینئر کے طور پر کام کیا، پھر برلن اور قسطنطنیہ میں سوویت حکومت کی نمائندگی کی، جہاں 1921 میں «آپریشن نیمیسس» کے تحت ایک آرمینیائی حملہ آور نے انہیں قتل کر دیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · engineer · سفارت کار
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي

مکان میں

إسطنبول

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    بہبود خان آزاد خان اوغلو جوانشیر (24 جولائی 1878 – 18 جولائی 1921) آذربائیجانی انجینئر، سیاست دان اور سفارت کار تھے، خاناتِ قاراباغ کے بانی پناه علی خان کی نسل سے؛ آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کے وزیرِ داخلہ (1918)، تجارت و صنعت کے نائب وزیر اور پارلیمنٹ کے رکن رہے۔ 1 2 انہوں نے تیل کی صنعت میں انجینئر کے طور پر کام کیا، پھر نریمان نریمانوف کی مدد سے سوویت قبضے کے بعد قید سے بچ کر برلن اور قسطنطنیہ میں سوویت حکومت کی نمائندگی کی، جہاں 1921 میں «آپریشن نیمیسس» کے تحت ایک آرمینیائی حملہ آور نے انہیں قتل کر دیا۔ 1

    زندگی

    وہ جوانشیر قضا کے گاؤں آزاد قرا قویونلو میں پیدا ہوئے — آذربائیجانی اور روسی مضامین 12 [24] جولائی 1878 دیتے ہیں، ایک ہی دن کی دو تقویمی روایتیں، اور انگریزی مضمون 24 جولائی دیتا ہے — ان کے والد آزاد خان، خاناتِ قاراباغ کے بانی پناه علی خان کے پڑپوتے کی نسل سے تھے۔ 1 3 1890 سے 1898 تک انہوں نے تفلس کے ریئل اسکول میں تعلیم پائی اور جرمن سیکھی؛ 1902 میں فرایبرگ یونیورسٹی آف مائننگ اینڈ ٹیکنالوجی میں داخل ہوئے اور 1906 میں امتیاز کے ساتھ فارغ ہوئے، پھر لندن جا کر انگریزی سیکھی۔ 1 1907 میں وطن واپس آ کر تیل کی صنعت میں سینئر انجینئر ہو گئے۔ دستاویزات کے مطابق وہ حکومت مخالف تنظیم «دفاعی» کے رکن تھے۔ انہوں نے جرمنی سے جرمن گندم قاراباغ لائی جو آج بھی کاشت ہوتی ہے، اور سڑکیں بننے کے بعد قاراباغ میں پہلی automobile — پہلی گاڑی — بھی وہی لائے۔ مارچ 1918 کے قتل عام کے بعد وہ آذربائیجانی-آرمینیائی مصالحتی کمیشن کے رکن بنے اور اس کے وفود کے ساتھ گنجہ اور قاراباغ گئے؛ آذربائیجانی مضمون انہیں امن پسند انسان کہتا ہے جس کی دونوں فریق عزت کرتے تھے۔ 1 3

    جمہوریہ میں خدمات اور قتل

    17 جون 1918 کو وہ آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کے وزیرِ داخلہ مقرر ہوئے؛ 26 دسمبر 1918 کو خلیل بے خاص محمدوف ان کے جانشین ہوئے۔ 6 اکتوبر 1918 سے وہ تجارت و صنعت کے نائب وزیر اور پھر قائم مقام وزیر رہے، اور قومی اسمبلی کے رکن بھی تھے۔ 1 2 سوویت اقتدار کے بعد نریمان نریمانوف کی مدد سے وہ بالشویکوں کی قید سے بچ گئے اور باکو کے سوویت تیل کے کھیتوں میں کام ملا؛ جرمن تعلیم کی وجہ سے انہیں پہلے برلن اور 1921 کی گرمیوں سے قسطنطنیہ میں سوویت حکومت کا نمائندہ بھیجا گیا۔ 1 قسطنطنیہ میں وہ اپنی روسی اہلیہ تمارا اور بھائیوں سرخائی اور جمع شد کے ساتھ احمد بے آغا اوغلو کے مہمان تھے۔ 3 18 جولائی 1921 کی شام، تھیٹر سے پیرا پیلس ہوٹل واپس آتے ہوئے، آرمینیائی مساک ٹورلاکیان نے پارک میں ان پر ماؤزر سے گولیاں چلائیں — ایک سر میں اور دو سینے میں — اور وہ اسپتال میں دم توڑ گئے۔ آذربائیجانی مضمون بتاتا ہے کہ 20 جولائی 1921 کو بیشکتاش میں یحییٰ افندی کے تکیے پر ان کا جنازہ عوامی مظاہرے میں بدل گیا۔ برطانوی فوجی عدالت نے ٹورلاکیان کو مجرم پایا لیکن مرگی کی بنیاد پر غیر ذمہ دار قرار دیا، جس کے بعد وہ یونان اور پھر امریکہ چلا گیا۔ 1 3

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ ماخذوں میں نقل شدہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔

    ان کا مذہب۔ کوئی بھی زیرِ غور ماخذ بہبود خان جوانشیر کے لیے کوئی دینی نسبت بیان نہیں کرتا، اور یہ حصہ عیناً وہی کہتا ہے جو ماخذ دیتے ہیں: انگریزی، آذربائیجانی اور روسی مضامین ان کے دین کے بارے میں مکمل خاموش ہیں، فارسی مضمون — انہی مواد کا ترجمہ، جو جانچا گیا مگر درج نہیں کیا گیا — بھی خاموش ہے، اور ویکی ڈیٹا میں ان کے دین کی کوئی قیمت سرے سے درج نہیں۔ 1 3 4 پناه علی خان سے ان کا نسب اور جمہوریہ کے عہدے پس منظر ہیں؛ آذربائیجانی مضمون کی مارچ 1918 کی طویل روایت میں باکو کے مسلم مقتولین کے جنازے تازہ پیر مسجد میں ہونے کا ذکر ایک برادری کی رسوم کی تاریخ ہے، کسی ایک فرد کا عقیدہ نہیں۔ اس لیے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا گیا ہے۔ 3

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    إسطنبول

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا

    ماخذ

    1. Behbud Khan Javanshir — English Wikipedia
    2. Behbud Khan Javanshir — Russian Wikipedia
    3. Behbud Khan Javanshir — Azerbaijani Wikipedia
    4. Behbud Khan Javanshir — Wikidata Q2084494
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “بہبود خان جوانشیر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/behbud-khan-javanshir/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    جامع العرب بإسطنبول

    Draft card for Arap Camii (the Arab Mosque) in Galata, Istanbul, the former Latin church converted to a mosque and known for its pier-supported minaret; per the cited architecture survey, the page not yet checked.