الدای حسین

الداي حسين

تقریباً 1765 عیسوی · تقریباً 1178 ھ† – †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

أزمير → الإسكندرية

الدای حسین (پیدائشی نام حسین بن حسین؛ 1765ء یا 1773ء – 1838ء) عثمانی ایالتِ الجزائر کے ستائیسویں اور آخری دای تھے، 1 مارچ 1818ء سے 1830ء کے فرانسیسی حملے تک حکمران رہے۔ اناطولیہ کے توپ خانے کے افسر تھے، الجزائر کے اوجاق میں ترقی پا کر خوجۂ خیل (گھڑ سوار فوج اور محصولات کے وزیر) بنے، اور 29 اپریل 1827ء کے «واقعۂ مروّحہ» سے مشہور ہوئے جب انہوں نے فرانسیسی قونصل پیئر دوال کو اپنے پنکھے سے مارا — یہی توہین فرانس نے الجزائر کے محاصرے اور پھر حملے کا بہانہ بنائی۔ 5 جولائی 1830ء کو شہر حوالے کیا، اٹلی جلاوطن ہوئے، پھر اسکندریہ جا بسے اور 1838ء میں وہیں وفات پائی؛ الجزائر شہر کا ایک محلّہ اور اس کا فٹ بال کلب آج بھی ان کے نام پر ہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
maghreb
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1675عیسوی1700عیسوی1725عیسوی1750عیسوی1775عیسوی1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی تقریباً تقریباً
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود ہم عصر: حمدان خوجة · محمود گامی · سيدي بن المختار الأبيري · اکبر شاہ ثانی · الرحمتي

مکان میں

أزميرالإسكندرية

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    الدای حسین، پیدائشی نام حسین بن حسین، ایالتِ الجزائر کے ستائیسویں اور آخری دای تھے، 1 مارچ 1818ء سے 1830ء کے فرانسیسی حملے تک حکمران رہے 1۔ وہ سب سے زیادہ 1827ء کے «واقعۂ مروّحہ» کے لیے یاد کیے جاتے ہیں، وہ سفارتی توہین جسے فرانس نے الجزائر کے محاصرے اور پھر حملے کا بہانہ بنایا 1۔

    ابتدائی زندگی اور عروج

    حسین سلطنتِ عثمانیہ کے شہر ازمیر یا ارلا میں پیدا ہوئے 1۔ عربی مضمون اس میں اضافہ کرتا ہے کہ ان کے والد توپ خانے کے افسر تھے، انہیں خصوصی تربیت دی گئی اور استنبول بھیجا گیا جہاں انہوں نے ایک نجی مدرسے میں عام سپاہی کی حیثیت سے تعلیم پائی، اور جوانی میں تمباکو کی تجارت کی جس سے انہیں «خوجہ» کا لقب ملا 2۔ انگریزی مضمون کے مطابق وہ استنبول گئے اور توپچیوں میں شامل ہوئے، جلد اوداباشی کے عہدے تک پہنچے، پھر رقابتوں کی وجہ سے بھاگنے پر مجبور ہو کر ایالتِ الجزائر آئے — وہ ملک جو مفروروں کو قبول کرنے کے لیے مشہور تھا — جہاں انہوں نے اوجاق میں شمولیت اختیار کی اور ینی چری بنے 1۔ 1815ء میں وہ خوجۂ خیل مقرر ہوئے، یعنی وہ وزیر جو دای کی گھڑ سوار فوج بھرتی و منظم کرنے اور محصول جمع کرنے کا ذمہ دار تھا، اور 1816ء میں الجزائر پر برطانوی گولہ باری کے دوران انہوں نے کمک کے طور پر گھڑ سوار فوج کی قیادت کی 1۔ 1818ء میں سابق دای کی وفات کے بعد دیوانِ الجزائر نے انہیں حکمران منتخب کیا 1؛ عربی مضمون کے مطابق مرنے والے عمر پاشا نے وصیت میں انہیں نامزد کیا تھا اور بابِ عالی نے سلطان محمود ثانی کے فرمان سے تقرری کی توثیق کی 2۔

    حکومت

    الدای حسین مارچ 1818ء میں الجزائر کے دای بنے 1۔ انہوں نے یہود کے لیے مذہبی آزادی یقینی بنانے جیسی تدابیر کیں، اور برطانوی فوجی کارروائی کی نئی دھمکی کے تحت یورپی عیسائی غلاموں کو آزاد کیا 1۔ 1824ء میں انہوں نے اس برطانوی قونصل کو نکال دیا جو یورپی عیسائیوں کی غلامی ختم کرنے والے 1816ء کے معاہدے کی تجدید کے لیے دباؤ ڈال رہا تھا؛ برطانوی بیڑا واپس گیا اور دو ہفتے بعد لوٹ آیا، اور گولہ باری کی دھمکی کے تحت معاہدہ تجدید ہوا 1۔ عربی مضمون کے مطابق انہوں نے انتظام سنبھالا اور فوج خصوصاً بحری بیڑے کی اصلاح کی، جہاز سازی کا کارخانہ بنایا اور اسے لیس کیا، اور ان کے عہد میں معاشی زندگی میں نمایاں بہتری آئی 2۔

    واقعۂ مروّحہ اور حملہ

    1790ء کی دہائی میں فرانس نے اپنی فوج کے لیے گندم الجزائر کے دو یہودی تاجروں بکری و بوسناخ سے خریدنے کا معاہدہ کیا تھا اور ادائیگی میں مقروض ہو گیا تھا؛ تاجر خود دای کے مقروض تھے اور فرانس کی ادائیگی کے بغیر اپنا قرض نہ دے سکتے تھے 1۔ 29 اپریل 1827ء کے ایک تلخ اجلاس میں فرانسیسی قونصل پیئر دوال نے تسلی بخش جوابات دینے سے انکار کیا تو دای نے انہیں اپنے پنکھے سے مارا 1۔ شارل دہم نے پہلے معافی کا مطالبہ کیا اور پھر الجزائر کا محاصرہ کر لیا؛ جب دای نے سفیر بھیجنے کے مطالبے کا جواب محاصرہ کرنے والے ایک جہاز پر توپ چلا کر دیا تو فرانس نے مضبوط کارروائی کا فیصلہ کیا 1۔ 14 جون 1830ء کو 34،000 فرانسیسی سپاہی الجزائر کے مغرب میں سیدی فرج پر اترے اور تین ہفتے کی مہم کے بعد 5 جولائی کو شہر میں داخل ہوئے 1۔ الدای حسین نے اپنی آزادی اور ذاتی دولت برقرار رکھنے کے بدلے ہتھیار ڈالنے پر رضامندی ظاہر کی؛ اس سے دای لک کا عہد ختم ہوا اور الجزائر میں فرانسیسی حکومت شروع ہوئی 1۔ عربی مضمون ان کی منظم کردہ اکیس روزہ مزاحمت کی تفصیل دیتا ہے، جس میں سطاولی کی لڑائی اور قصبہ کا دفاع شامل ہے 2۔

    جلاوطنی اور وفات

    15 جولائی 1830ء کو الدای حسین اپنے خاندان، حرم اور ذاتی دولت کے ساتھ فرانسیسی جہاز «ژان دارک» پر الجزائر سے روانہ ہوئے 1۔ فرانس میں رہنے کی ان کی درخواست شارل دہم نے رد کر دی اور وہ اٹلی جا بسے — انگریزی مضمون کی روایت میں نیپلز، عربی مضمون کی روایت میں لیوورنو، جو مزید بتاتا ہے کہ وہ تین سال، 1830ء سے 1833ء تک وہاں رہے اور پھر ستمبر 1833ء سے حتمی طور پر اسکندریہ جا بسے 1 2۔ وہ 1838ء میں اسکندریہ میں وفات پا گئے 1۔ الجزائر شہر کا ایک محلّہ ان کے نام پر ہے اور فٹ بال کلب «نصر حسین دای» وہیں واقع ہے 1۔

    مذہبی رجحان

    کسی بھی پڑھے گئے ماخذ نے اس شخص کے لیے کوئی فقہی مذہب نامزد نہیں کیا؛ انگریزی و عربی مضامین کے معلوماتی خانے ان کا مذہب «سنی اسلام» دیتے ہیں اور وکی ڈیٹا میں صرف عام قدر «اسلام» درج ہے 1 2 3۔ ان کا موثق عمل ان کے ریکارڈ میں مکمل درج ہے: عربی مضمون کے مطابق انہوں نے قرآن حفظ کیا تھا، جوانی ہی سے اپنی دینی ثقافت و پابندی کے لیے مشہور تھے، امام کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اپنی پرہیزگاری کی وجہ سے اہلِ الجزائر میں محترم تھے، اور کوئی فیصلہ علما سے رجوع کیے بغیر صادر نہیں کرتے تھے 2۔ جو ایالت انہوں نے چلائی وہ ایک عثمانی صوبہ تھی جس کی اوجاقی اسٹیبلشمنٹ حنفی مسلک پر تھی جبکہ اس کی الجزائری رعایا کی اکثریت مالکی تھی؛ یہ مؤسساتی ماحول سیاق ہے، خود دای کے مذہب کی نامزدگی نہیں، اس لیے ان کا مذہب نامعلوم درج کیا گیا ہے۔

    محققین کے لیے نوٹس

    ان کی پیدائش کا سال متنازع ہے: انگریزی مضمون 1764/65ء دیتا ہے، جبکہ عربی و اردو مضامین اور وکی ڈیٹا ق۔ 1773ء دیتے ہیں 4 3؛ ان کا ریکارڈ اختلاف محفوظ رکھتے ہوئے 1765ء پر بنا ہے، اور جائے پیدائش کی صلہ ازمیر پر رکھی گئی ہے کیونکہ عربی مضمون و وکی ڈیٹا اس پر متفق ہیں اور یہ انگریزی مضمون کے دو امیدواروں میں سے ایک ہے۔ اٹلی کے تین سال انگریزی مضمون نیپلز میں اور عربی مضمون لیوورنو میں رکھتا ہے 2۔ وکی ڈیٹا کی وفات کی دن کی درستگی، 30 اکتوبر 1838ء، جو عربی و اردو معلوماتی خانوں میں اسی ویب ماخذ سے دہرائی گئی ہے، ایک ہی ساختی قدر ہے اور اسے اپنایا نہیں گیا؛ مضامین کے متن صرف اسکندریہ میں 1838ء کی تائید کرتے ہیں 3۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    أزمير
    Died in
    الإسكندرية

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء· قرطبی نے اسکندریہ میں مؤلف سے «المفھم» کا حصہ سنا، 656ھ/1258ء· خلاف أهل الإسكندرية واستردادها· فتح الإسكندرية· الزلزلة العظمى سنة 180· احتلال اليونانيين أزمير· ابن جبير يصل الإسكندرية· ابن تیمیہ کا اسکندریہ کے برج میں جلاوطنی، 709ھ/1309ء

    ماخذ

    1. Hussein Dey — English Wikipedia
    2. Hussein Dey — Arabic Wikipedia
    3. Hussein Dey — Wikidata Q1387563
    4. Hussein Dey — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “الدای حسین”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/dey-hussein/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    ذہبی کا طلبِ حدیث کے سفر، تقریباً 700ھ/1300ء

    ذہبی نے طلبِ حدیث میں سفر کیا: بعلبک میں ابن خلیک بن علوان اور زینب بنت عمر بن الکندی سے، مکہ میں توزری سے، حلب میں شوکر زینی سے، نابلوس میں عماد بن بدران سے، اسکندریہ میں ابو الحسن عراقی اور یحیی صواف سے سنا، اور قاہرہ میں سب سے زیادہ قیام کیا جہاں ابن منصور افریقی اور خصوصاً تقی الدین ابن دقیق العید سے پڑھا — یہاں تک کہ ان کے شیوخ تیرہ سو سے تجاوز کر گئے جن کی تراجم انہوں نے اپنے «معجم» میں جمع کیں ۔ ابن حجر کے مطابق انہوں نے اپنے لیے تقریباً تیس سفری جزوے مرتب کیے ۔