فیض النساء چودھرانی

فايز النساء تشودراني

–

کومیلا میں ہومن آباد پچھم گاؤں کی زمیندار (1834ء–1903ء)، بنگال میں خواتین کی تعلیم کی پیش رو۔ انھوں نے 1873ء میں کومیلا میں لڑکیوں کا ہائی اسکول قائم کیا جو برصغیر کے اولین نجی لڑکیوں کے اسکولوں میں سے تھا؛ مدارس، خواتین کا اسپتال، خیراتی ڈسپنسری اور مساجد بنوائیں، اور «روپ جلال» (1876ء) لکھی جو کسی بنگالی مسلمان خاتون کی پہلی مکمل ادبی تصنیف ہے۔ 1889ء میں ملکہ وکٹوریہ نے انھیں «نواب» کا خطاب دیا اور وہ جنوبی ایشیا کی پہلی خاتون نواب بنیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · شاعر · activist · سرپرست
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: المامی سولوکو · الفا یایا ڈیالو · شیخ بوعمامہ · داغ دہلوی · غسان العلقداري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    نواب بیگم فیض النساء چودھرانی (1834ء–1903ء) موجودہ ضلع کومیلا میں ہومن آباد پچھم گاؤں کی زمیندار تھیں اور خواتین کی تعلیم کی مہم کے لیے سب سے زیادہ مشہور ہیں۔ 1 ان کی سماجی خدمات کے اعتراف میں 1889ء میں ملکہ وکٹوریہ نے انھیں «نواب» کا خطاب دیا، اور وہ جنوبی ایشیا کی پہلی خاتون نواب بنیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 1834ء میں لکشم کے تحت پچھم گاؤں میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد خان بہادر احمد علی چودھری ہومن آباد پچھم گاؤں کے زمیندار تھے۔ 1 2 سخت پردے کے ماحول میں پرورش پانے کے باوجود انھوں نے خود مطالعے سے بنگلہ، سنسکرت، عربی اور اردو میں مہارت حاصل کی۔ 2 1860ء میں ان کی شادی ایک قریبی رشتہ دار زمیندار محمد غازی سے ان کی دوسری بیوی کے طور پر ہوئی، مگر یہ شادی نہ چل سکی۔ 1 2

    خدمات

    والدہ کی وفات پر 1883ء میں وہ زمیندار بنیں۔ 2 انھوں نے 1873ء میں کومیلا میں لڑکیوں کا ہائی اسکول قائم کیا جو بنگال کے اولین نجی لڑکیوں کے اسکولوں میں سے ہے، پچھم گاؤں میں مدرسہ قائم کیا جو بعد میں کالج بنا، 1893ء میں پردہ نشین خواتین کے لیے خیراتی ڈسپنسری اور کومیلا میں خواتین کا اسپتال بنوایا، اور مساجد تعمیر کیں۔ 2 1 1894ء میں انھوں نے حج کیا، اور اپنی جائیداد کا بڑا حصہ ضرورت مند طلبہ کے وظائف کے لیے وقف کر دیا۔ 2

    تصانیف

    ان کا سب سے اہم کام «روپ جلال» (1876ء) ہے، نثر و نظم میں لکھی نیم خودنوشت تمثیل، جسے بنگلہ پیڈیا کسی بنگالی مسلمان خاتون کی پہلی مکمل ادبی تصنیف قرار دیتا ہے۔ 2 1

    وفات

    وہ 1903ء میں اپنے ہی گاؤں میں وفات پا گئیں اور خاندانی قبرستان میں دفن ہوئیں، اور انھیں بعد از وفات 2004ء کا ایکوشے پدک دیا گیا۔ 2

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Nawab Faizunnesa — English Wikipedia
    2. Nawab Faizunnesa Choudhurani — Banglapedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فیض النساء چودھرانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/faizunnesa-choudhurani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔