فتح علی خان خوئیسکی

فتح علي خان خويسكي

–

آذربائیجانی وکیل اور سیاست دان (1875–1920)، دوسرے ریاستی دوما کے رکن اور آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کے پہلے وزیرِ اعظم (1918–1919)؛ داخلہ، دفاع، عدل اور خارجہ کے وزیر بھی رہے؛ 1920 میں تفلس میں قتل ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
lawyer · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فتح علی خان اسکندر خان اوغلو خوئیسکی (7 دسمبر 1875 – 19 جون 1920) آذربائیجانی وکیل اور سیاست دان تھے: روسی سلطنت کے دوسرے ریاستی دوما کے رکن اور آزاد آذربائیجان جمہوری جمہوریہ کے پہلے وزیرِ اعظم، جنہوں نے داخلہ، دفاع، عدل اور خارجہ کی وزارتیں بھی سنبھالیں۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ نوخا (موجودہ شکی) میں ایک معزز خاندان میں پیدا ہوئے؛ ان کے جدِ امجد جعفر قلی خان کو زار سکندر اول نے شکی کا خان مقرر کیا تھا۔ 1 انہوں نے گنجہ کے جمنازیم اور 1897 میں ماسکو یونیورسٹی کی کلیۂ قانون سے تعلیم مکمل کی اور عدالتی خدمات انجام دیں۔ 2 1907 میں وہ دوسرے دوما کے رکن منتخب ہوئے؛ 1917 کے بعد باکو سٹی دوما کے صدر اور قفقاز حکومت میں وزیرِ عدل رہے۔ 2 28 مئی 1918 کو جمہوریہ کے اعلان پر انہوں نے پہلی حکومت بنائی اور 14 اپریل 1919 تک وزیرِ اعظم رہے؛ خارجہ وزیر کی حیثیت سے انہوں نے سوویت مطالبات پر روس کے داخلی امور میں مداخلت سے انکار کیا۔ 1 3

    وفات

    سرخ فوج کے باکو میں داخلے سے پہلے وہ اہلِ خانہ کو تفلس لے گئے، جہاں 19 جون 1920 کو آپریشن نیمیسس کے تحت انہیں قتل کر دیا گیا؛ تدفین فارسی قونصل خانے کے اہتمام سے ہوئی اور وہ تفلس کی قدیم مسلم قبرستان میں مرزا فتح علی آخوندوف کے پہلو میں دفن ہوئے۔ 1 2

    موقف اور تنقید

    اس حصے میں مواقف ماخذ کے بیان کے مطابق پیش کیے گئے ہیں؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    ان کا عقیدہ۔ آذربائیجانی اور روسی دونوں مضامین ایک ہی بات کہتے ہیں کہ خوئیسکی عقیدتاً شیعہ مسلمان تھے، لیکن دونوں کا ماخذ ایک ہی ہے — باکو کی 1998 کی دستاویزی جلد — لہٰذا عجائب گھر کے دو ماخذ کے اصول کے تحت یہ ایک ہی ماخذ خاندان ہے اور ان کا عقیدہ «نامعلوم» درج کیا گیا ہے، گواہی مکمل محفوظ ہے۔ 2 4 انگریزی اور عربی مضامین ان کے مذہب پر خاموش ہیں اور ویکی ڈیٹا میں کوئی مذہبی قدر موجود نہیں۔ 1 5

    ماخذ

    1. Fatali Khan Khoyski — English Wikipedia
    2. Fatali Khan Khoyski — Azerbaijani Wikipedia
    3. Fatali Khan Khoyski — Arabic Wikipedia
    4. Fatali Khan Khoyski — Russian Wikipedia
    5. Fatali Khan Khoyski — Wikidata Q984384
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فتح علی خان خوئیسکی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fatali-khan-khoyski/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔