فاطمہ میر

فاطمة مير

–

جنوبی افریقی مصنفہ، ماہرِ عمرانیات اور نسل پرستی کے خلاف سرگرم کارکن، جو 1928 میں ڈربن میں پیدا ہوئیں۔ وہ فیڈریشن آف ساؤتھ افریقن ویمن کی بانی اراکین، یونیورسٹی آف نٹال میں عمرانیات کی لیکچرر، انسٹیٹیوٹ فار بلیک ریسرچ کی بانی، اور نیلسن منڈیلا کی پہلی باقاعدہ سوانح «ہائر دین ہوپ» کی مصنفہ تھیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · عالم · activist
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد بن بیلا

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    فاطمہ میر (12 اگست 1928 – 12 مارچ 2010) جنوبی افریقی مصنفہ، ماہرِ عمرانیات اور نسل پرستی کے خلاف نمایاں کارکن تھیں، جو ڈربن میں پیدا ہوئیں اور وہیں وفات پائیں۔ 1 2 ان کی شہرت کی بڑی وجہ «ہائر دین ہوپ» (1990) ہے، جو نیلسن منڈیلا کی پہلی باقاعدہ سوانح ہے۔ 1

    زندگی اور خدمات

    وہ ڈربن کے گرے اسٹریٹ علاقے میں پیدا ہوئیں؛ ان کے والد ایم آئی میر اخبار «دی انڈین ویو» کے مدیر تھے۔ 1 انھوں نے یونیورسٹی آف نٹال سے عمرانیات میں بیچلر اور ماسٹر کی ڈگریاں لیں۔ 1

    1950 میں وہ اور کیساویلو گونم نٹال انڈین کانگریس کی ایگزیکٹو میں منتخب ہونے والی پہلی خواتین بنیں۔ 1 وہ فیڈریشن آف ساؤتھ افریقن ویمن (1954) کی بانی اراکین میں شامل تھیں اور 9 اگست 1956 کی خواتین مارچ کی رہنماؤں میں سے تھیں۔ 1 حکومت نے ان پر 1952 اور پھر 1976 میں پابندی عائد کی، اور 1976 میں وہ قاتلانہ حملے میں محفوظ رہیں۔ 1

    وہ 1956 سے 1988 تک یونیورسٹی آف نٹال میں عمرانیات کی لیکچرر رہیں — اس عہدے پر فائز ہونے والی پہلی غیر سفید فام شخصیت — اور 1972 میں انسٹیٹیوٹ فار بلیک ریسرچ قائم کیا۔ 1

    تصانیف

    ان کی کتابوں میں «پورٹریٹ آف انڈین ساؤتھ افریقنز» (1969)، «دی اپرنٹس شپ آف اے مہاتما» (1970) اور «ہائر دین ہوپ» (1990) شامل ہیں۔ انھیں تین اعزازی ڈاکٹریٹ ملیں، اور 2017 میں وفات کے بعد آرڈر آف لوتھولی (سلور) سے نوازا گیا۔ 1

    موقف و تنقید

    یہ حصہ ماخذ میں بیان کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں ہے۔ انگریزی مضمون کے مطابق وہ ایرانی انقلاب کی مضبوط حامی تھیں، اور انھوں نے 1998 میں سلمان رشدی کے دورے کا بائیکاٹ کیا۔ 1

    حوالے

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔

    ماخذ

    1. Fatima Meer — English Wikipedia
    2. Fatima Meer — Arabic Wikipedia
    • Fatima Meer — Wikidata Q429097
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “فاطمہ میر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/fatima-meer/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔