احمد عصمت عبد المجید

أحمد عصمت عبد المجيد

–

الإسكندرية → القاهرة

احمد عصمت عبد المجید (22 مارچ 1923ء – 21 دسمبر 2013ء) اسکندریہ سے تعلق رکھنے والے مصری سفارت کار تھے۔ نوجوان سفارت کار کی حیثیت سے انہوں نے 1957ء کے اس وفد میں حصہ لیا جس نے فرانس سے تعلقات کی بحالی پر مذاکرات کیے۔ وہ فرانس میں مصر کے سفیر اور پھر وزیرِ خارجہ (1984ء–1991ء) رہے، اس کے بعد عرب لیگ کے پانچویں سیکرٹری جنرل (1991ء–2001ء) بنے؛ ان کے پیش رو الشاذلی القلیبی اور جانشین عمرو موسیٰ تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: بطرس بطرس غالی · مولانا مجاهد الحسيني · مسلم ملكوتي · محمد سليم الله خان · محمد ناظم حقانی

مکان میں

الإسكندريةالقاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد عصمت عبد المجید (22 مارچ 1923ء – 21 دسمبر 2013ء) مصری سفارت کار تھے: فرانس میں مصر کے سفیر، پھر 1984ء تا 1991ء وزیرِ خارجہ، اور 1991ء تا 2001ء عرب لیگ کے پانچویں سیکرٹری جنرل۔ ان کے بارے میں کوئی اردو ویکیپیڈیا مقالہ موجود نہیں؛ عجائب گھر کا یہ اردو صفحہ انگریزی اور عربی مقالات سے لکھا گیا ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ مارچ 1923ء میں اسکندریہ میں پیدا ہوئے اور جامعہ اسکندریہ اور جامعہ پیرس میں تعلیم پائی، جہاں سے انہوں نے بین الاقوامی قانون میں ڈاکٹریٹ کی۔ نوجوان سفارت کار کی حیثیت سے وہ 1957ء میں اس مصری وفد کا حصہ تھے جس نے سویز جنگ کے بعد منقطع تعلقات کی بحالی پر فرانس سے مذاکرات کیے اور زیورخ معاہدہ طے پایا۔ بعد میں وہ فرانس میں مصر کے سفیر بنے۔ عربی مقالہ بتاتا ہے کہ ان کے والد محمد فہمی عبد المجید نے اسکندریہ میں اسلامی فلاحی تنظیم ”جمعیۃ المواساۃ“ قائم کی تھی — یہ ان کے خاندان کی بات ہے اور یہاں پس منظر کے طور پر درج ہے۔ 1 2

    وزیرِ خارجہ اور سیکرٹری جنرل

    17 جولائی 1984ء کو وہ صدر حسنی مبارک کے دور میں وزیرِ خارجہ بنے اور تین وزرائے اعظم کے ساتھ کام کیا۔ 1 جون 1991ء کو وہ تیونس کے الشاذلی القلیبی کے جانشین کے طور پر عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل بنے اور ایک ایسی دہائی تک منصب پر رہے جس میں خلیجی جنگ کے بعد کے حالات شامل تھے۔ 1 جون 2001ء کو ان کے دونوں بڑے مناصب میں ایک ہی شخص ان کا جانشین بنا: عمرو موسیٰ۔ 1

    وفات

    ہفتہ 21 دسمبر 2013ء کو قاہرہ میں 90 برس کی عمر میں ان کا انتقال ہوا؛ ان کا جنازہ اگلے دن ادا کیا گیا۔ 1 2

    ان کا مذہب، جیسا کہ مصادر دیتے ہیں

    کسی مقالے میں، متن ہو یا معلوماتی خانہ، ان کے اپنے مذہب کے بارے میں کوئی بیان نہیں؛ عربی مقالے کی ان کے والد کی فلاحی تنظیم والی تفصیل خاندانی پس منظر ہے۔ کہیں بھی واحد شہادت ان کے وکی ڈیٹا عنصر کی ایک ہی منظم قیمت ہے: عمومی اسلام۔ اس عجائب گھر کے اصول کے تحت — ایک منظم قیمت کبھی مذہب کی شہادت نہیں بنتی — ان کا مذہب ”نامعلوم“ درج ہے اور یہ قرأت ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں بانی کے فیصلے کے لیے محفوظ ہے۔ 3

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّف مصدری اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مقالے کی ہر ترمیم مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر حقیقت بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    الإسكندرية
    Died in
    القاهرة
    Predecessor of
    عمرو موسیٰ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عمرو خالد· جمال عبد الناصر· محمد مصطفی المراغی· نبیل عربی· قاسم امین· شکری القوتلی· یوسف شاہین· عمرو موسیٰ

    ماخذ

    1. Ahmed Asmat Abdel-Meguid — English Wikipedia
    2. Ahmed Asmat Abdel-Meguid — Arabic Wikipedia
    3. Ahmed Asmat Abdel-Meguid — Wikidata Q646776
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد عصمت عبد المجید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-asmat-abdel-meguid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عمرو خالد

    مصری مسلمان مبلغ اور ٹیلی ویژن پیش کار، جو 1967 میں اسکندریہ میں پیدا ہوئے۔ انہوں نے مصر اور عرب دنیا میں ترقیاتی، تعلیمی اور فلاحی منصوبے شروع کیے اور کئی کتابیں لکھیں۔