غلام حسین ہدایت اللہ

غلام حسين هدايت الله

–

سر غلام حسین ہدایت اللہ (1879ء–1948ء)، سندھی وکیل اور سیاست دان، بمبئی سے علاحدگی کے بعد سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ (1937ء–1938ء) اور پھر دوبارہ وزیر اعلیٰ (1942ء–1947ء)، پھر پاکستان میں سندھ کے پہلے گورنر (1947ء–1948ء) — آزادی کے وقت واحد پاکستانی صوبائی گورنر۔ وہ سکھر بیراج منصوبے اور گول میز کانفرنسوں کو سندھ کی صوبائی صلاحیت پر قائل کرنے سے وابستہ رہے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · مولوی عبد الحق · آغا خان سوم · احمد لطفی سید

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    خان بہادر سر غلام حسین ہدایت اللہ (جنوری 1879ء – 4 اکتوبر 1948ء)، سندھ کے نوآبادیاتی ہندوستانی اور بعد ازاں پاکستانی سیاست دان: بمبئی سے علاحدگی کے بعد سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ (1937ء–1938ء)، پھر دوبارہ وزیر اعلیٰ (1942ء–1947ء)، اور پھر پاکستان میں سندھ کے پہلے گورنر (1947ء–1948ء) — انگریزی مقالے کے مطابق آزادی کے وقت صوبائی گورنری پر فائز واحد پاکستانی، باقی تمام گورنر برطانوی تھے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ جنوری 1879ء میں شکارپور، سندھ میں پیدا ہوئے — ویکی ڈیٹا میں فروری 1879ء ہے، اور ان کے ریکارڈ میں یہ اختلاف «متنازع» درج ہے — اور انھوں نے شکارپور ہائی اسکول، سندھ مدرسہ کراچی، ڈی جے سندھ کالج کراچی اور گورنمنٹ لا کالج بمبئی سے تعلیم حاصل کی۔ 1 2 وہ جنوب مشرقی ایشیا کے ہدایت اللہ بانجار سے مختلف شخص ہیں، جن کا ریکارڈ اس میوزیم میں الگ موجود ہے۔ 2

    وکالت اور بمبئی دور

    1902ء میں ایل ایل بی مکمل کرنے کے بعد انھوں نے حیدرآباد سندھ میں وکالت شروع کی، اور حیدرآباد بلدیہ کے نائب صدر کی حیثیت سے عوامی زندگی کا آغاز کیا؛ وہ حیدرآباد ڈسٹرکٹ بورڈ کے پہلے غیر سرکاری صدر بھی رہے۔ 1 1921ء میں وہ بمبئی قانون ساز کونسل کے رکن بنے اور اسی سال بمبئی حکومت میں وزیر ہوئے، 1928ء تک اس منصب پر رہے، پھر 1934ء تک گورنر بمبئی کی ایگزیکٹو کونسل کے رکن رہے۔ 1 انھیں «خان بہادر» کا خطاب ملا، 1926ء کے نئے سال کے اعزازات میں نائٹ ہوئے، اور 1933ء کے یوم پیدائش اعزازات میں «نائٹ کمانڈر آف دی اسٹار آف انڈیا» (KCSI) بنائے گئے۔ 1 وزارت کے دوران وہ سکھر بیراج منصوبے سے وابستہ رہے، جو بعد میں سندھ کی خوشحالی کا بڑا ذریعہ بنا۔ 1

    سندھ کی علاحدگی

    خان بہادر محمد ایوب کھوڑو، سید میران شاہ اور سر شاہ نواز بھٹو کے ساتھ انھوں نے لندن کی گول میز کانفرنسوں میں سندھ کی نمائندگی کی، جہاں کمیٹی سندھ کے چیئرمین کو قائل کیا کہ سندھ خسارے والا صوبہ نہیں ہوگا اور خود کفیل صوبہ بن سکتا ہے۔ 1 سندھ بمبئی سے الگ ہوا اور 1937ء میں اس کی پہلی اسمبلی قائم ہوئی۔ 1

    وزیر اعلیٰ اور گورنر سندھ

    وہ 28 اپریل 1937ء تا 23 مارچ 1938ء سندھ کے پہلے وزیر اعلیٰ (پریمیئر) رہے، پھر اللہ بخش سومرو ان کے جانشین ہوئے؛ ان کی دوسری مدت 14 اکتوبر 1942ء تا 14 اگست 1947ء رہی، دوبارہ سومرو کے بعد — انگریزی مقالے کا «خدمات» حصہ اس مدت کو سومرو کی تاریخوں سے خلط کرتا ہے، جو اس کے اپنے صندوق معلومات اور اردو مقالے کے خلاف ہے، یہاں صندوق معلومات کو اختیار کیا گیا ہے۔ 1 3 1943ء میں ان کی حکومت کے دور میں سندھ اسمبلی برصغیر کی پہلی صوبائی اسمبلی بنی جس نے پاکستان کے قیام کے حق میں سرکاری قرارداد منظور کی۔ 1 1946ء میں جب مسلم لیگ نے برطانوی خطابات واپس کرنے کی پالیسی اپنائی تو انھوں نے اپنے خطابات واپس کر دیے۔ 1 تقسیم کے بعد وہ سندھ کے پہلے گورنر بنے اور اگست 1947ء سے وفات تک اس منصب پر رہے۔ 1 انگریزی مقالے کے مطابق وہ تقسیم ہند کے مخالف تھے۔ 1

    ذاتی زندگی

    اردو مقالے کے صندوق معلومات میں 1940ء میں ان کی شادی فاطمہ صغریٰ بیگم سے درج ہے۔ 3 ان کے بیٹے انور حسین ہدایت اللہ کی شادی عبد اللہ ہارون کی بیٹی دولت ہارون سے ہوئی۔ 1 کسی ماخذ میں ان کے لیے کوئی مذہب (مکتب) نہیں آیا، اور ان کے ریکارڈ میں یہ بات صاف درج ہے: تعلیم، مناصب اور خاندانی رشتے اس کی دلیل نہیں بنتے۔

    وفات

    محمد علی جناح کی وفات کے ایک ماہ کے اندر، وہ 4 اکتوبر 1948ء کو کراچی میں گورنر کے منصب پر رہتے ہوئے وفات پا گئے۔ 1 اردو مقالے کے متن میں وفات 14 اکتوبر 1948ء آئی ہے، جو اس کے اپنے صندوق معلومات اور دیگر مآخذ کے خلاف ہے — غالباً 14 اکتوبر 1942ء کو وزارت اعلیٰ سنبھالنے کی تاریخ سے خلط ہے — اور یہاں متفقہ تاریخ اختیار کی گئی ہے۔ 3

    مآخذ

    • اوپر جن مآخذ کا حوالہ دیا گیا ہے ان کی تعریف کردہ اکائیاں، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہونی چاہیے اور ہر واقعے کی تبدیلی کا ماخذ نامزد کرنا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Ghulam Hussain Hidayatullah — English Wikipedia
    2. Ghulam Hussain Hidayatullah — Wikidata Q5557596
    3. Ghulam Hussain Hidayatullah — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “غلام حسین ہدایت اللہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ghulam-hussain-hidayatullah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔