احمد لطفی سید

أحمد لطفي السيد

–

القاهرة

مصری مفکر اور سیاست دان (1872-1963)، اخبار «الجریدہ» اور حزب الامہ (1907) کے بانی، دار الکتب مصریہ کے سربراہ اور مصری جامعہ کے پہلے صدر۔ انہیں «استادِ نسل» کہا جاتا ہے اور وہ مصری قومیت اور لبرل ازم کے نمایاں نظریہ ساز تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · سیاست دان · فلسفی · teacher
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی المیرغنی · مولوی عبد الحق · دا بوشينغ · ابو القاسم فضل الحق · محمد الأمين الشنقيطي

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    احمد لطفی سید (15 جنوری 1872 – 5 مارچ 1963) مصری مفکر، صحافی اور سیاست دان تھے، جنہیں «استادِ نسل» اور «مصری لبرل ازم کا بانی» کہا جاتا ہے۔ انہوں نے اخبار «الجریدہ» اور حزب الامہ کی بنیاد رکھی، دار الکتب مصریہ کے سربراہ رہے اور مصری جامعہ کے پہلے صدر بنے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 15 جنوری 1872 کو صوبہ دقہلیہ کے مرکز سنبلاوین کے گاؤں برقین میں پیدا ہوئے۔ 1 ابتدائی تعلیم کے بعد انہوں نے قاہرہ کے مدرسۂ حقوق سے 1894 میں فراغت حاصل کی۔ دورانِ تعلیم ان کی ملاقات امام محمد عبدہ سے ہوئی اور وہ ان کے افکار سے متاثر ہوئے؛ انہوں نے استنبول میں جمال الدین افغانی کی صحبت بھی اختیار کی اور ارسطو کی بعض کتابوں کا عربی میں ترجمہ کیا۔ 1 3

    الجریدہ اور حزب الامہ

    1905 تک سرکاری قانونی محکمے میں کام کرنے کے بعد وہ 1907 میں اخبار «الجریدہ» کے مدیر اعلیٰ بنے اور اس میں اپنی لبرل تحریروں سے شہرت پائی۔ 1906 کے دنشوای واقعے کے بعد انہوں نے ملزم دیہاتیوں کی محاکمے کی خبریں پھیلائیں، اور 1907 میں مصر کی پہلی سیاسی جماعت حزب الامہ قائم کی جس کا نعرہ «مصر مصریوں کے لیے» تھا۔ 2 3

    افکار

    وہ صریح لبرل تھے؛ انہوں نے عرب قارئین کو جان سٹیورٹ مل کے تصورِ آزادی سے متعارف کرایا اور اس بات پر زور دیا کہ عوام کو اپنے حکمرانوں کے معاملے میں آواز حاصل ہو۔ وہ جدید مصری قومیت کے معماروں میں سے تھے اور عرب وحدت کے سخت مخالف تھے؛ ان کا موقف تھا کہ مصری مصری ہیں، عرب نہیں، اور قومیت کی بنیاد مذہب نہیں ہونی چاہیے۔ ان کا مشہور قول ہے کہ اختلافِ رائے دوستی کو خراب نہیں کرتا۔ 2 3

    عہدے اور جامعہ

    وہ 1915 سے 1918 تک دار الکتب مصریہ کے سربراہ رہے اور 1919 میں پیرس امن کانفرنس میں مصری وفد کے رکن کی حیثیت سے مصر کی آزادی کا مطالبہ لے کر گئے۔ 11 مئی 1925 کو وہ مصری جامعہ کے پہلے صدر بنے؛ طٰہٰ حسین کی منتقلی کے احتجاج میں 1932 میں اور پولیس کے جامعہ میں داخلے پر 1937 میں استعفیٰ دیا اور مئی 1941 میں عہدہ چھوڑ دیا؛ ان کے دور میں طالبات کی پہلی جماعت فارغ التحصیل ہوئی۔ وہ وزیرِ تعلیم، وزیرِ داخلہ اور وزیرِ خارجہ بھی رہے، مجلسِ شیوخ کے رکن اور مجمع اللغۃ العربیہ کے صدر رہے، اور عربی مقالے کے مطابق 1952 میں آزاد افسروں نے انہیں مصر کی صدارت پیش کی تو انہوں نے انکار کر دیا۔ ان کا انتقال 5 مارچ 1963 کو قاہرہ میں ہوا۔ 2 3 4

    آثار

    ان کی کتابوں میں «صفحات مطویۃ»، «تاملات» اور ان کی خود نوشت «قصۃ حیاتی» شامل ہیں، اور انہوں نے ارسطو کی کئی کتابوں کا ترجمہ کیا۔ ان سے متاثر ہونے والوں میں سلامہ موسیٰ بھی تھے، جنہوں نے ان کے فکری قرض کا اقرار کیا۔ 3 5

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Studied under
    الشيخ محمد عبده· جمال الدين الأفغاني
    Influenced
    سلامہ موسیٰ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    محمد مصطفی المراغی· نازلی فاضل· قاسم امین· طہ حسین· سلامہ موسیٰ· القاهرة· الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة

    ماخذ

    1. Ahmed Lutfi al-Sayyid — Urdu Wikipedia
    2. Ahmed Lutfi al-Sayyid — English Wikipedia
    3. Ahmed Lutfi al-Sayyid — Arabic Wikipedia
    4. Ahmed Lutfi al-Sayyid — Wikidata Q2319701
    5. Salama Moussa — English Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “احمد لطفی سید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ahmed-lutfi-al-sayyid/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    محمد مصطفی المراغی

    مصری عالم و قاضی (1881-1945) جو دو مرتبہ شیخ الازہر رہے (1928-1929 اور 1935-1945)، اس سے پہلے سوڈان کے قاضی القضاة (1908-1919) اور قاہرہ کی عدالتِ شرعیہ علیا کے صدر رہے۔ محمد عبدہ کے شاگرد، اصلاح، اجتہاد اور مذاہب کے تقریب کے داعی، 1920 کے قانونِ احوالِ شخصیہ کے مصنف اور الازہر کی کثیرالمذاہب دارالافتاء کمیٹی کے بانی۔