حکیم عبد الحمید

حكيم عبد الحميد

–

دلهي

حکیم عبد الحمید (1908ء–1999ء) ہندوستانی طبیبِ یونانی تھے، ہمدرد لیبارٹریز کے بانی اور چیف ٹرسٹی، جامعہ ہمدرد کے بانی چانسلر اور علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر (1996ء–1999ء) رہے؛ انھیں پدم شری اور پدم بھوشن سے نوازا گیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
طبیب · educator
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: حبیب بورقیبہ · لیوپولڈ سیدار سینگور · مصطفی الزرقا · آدم عبد اللہ عثمان · الأكوع محمد بن علي

مکان میں

دلهي

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حکیم عبد الحمید (14 ستمبر 1908ء – 22 جولائی 1999ء) ہندوستانی طبیبِ یونانی تھے، ہمدرد لیبارٹریز کے بانی اور چیف ٹرسٹی، اور جامعہ ہمدرد کے بانی چانسلر۔ 1 2 وہ 1996ء سے 1999ء تک علی گڑھ مسلم یونیورسٹی کے چانسلر بھی رہے، اور انھیں 1965ء میں پدم شری اور 1992ء میں پدم بھوشن سے نوازا گیا۔ 1 اردو مضمون ان کے سالوں، دہلی میں پیدائش اور ہمدرد میں ان کے کردار کی تصدیق کرتا ہے۔ 3 ان پر عربی ویکیپیڈیا میں کوئی مضمون موجود نہیں، اس لیے یہ صفحہ انگریزی اور اردو مضامین اور وکی ڈیٹا پر قائم ہے۔

    خاندانی پس منظر اور پیدائش

    وہ برطانوی ہند کے شہر دہلی میں پیدا ہوئے۔ 1 انگریزی مضمون کے مطابق ان کے آبا و اجداد مغل شہنشاہ شاہ عالم ثانی کے عہد میں کاشغر (موجودہ سنکیانگ، چین) سے برصغیر آئے تھے؛ یہ خاندانی پس منظر ہے جو مضمون کی روایت کے مطابق درج ہے۔ 1 وہ حکیم محمد سعید کے بڑے بھائی تھے، جنھوں نے بعد میں پاکستان میں ہمدرد کی قیادت کی۔ 1

    ہمدرد اور ان کے قائم کردہ ادارے

    وہ ہمدرد لیبارٹریز، یونانی ادویات کے ادارے، کے بانی اور چیف ٹرسٹی تھے۔ 1 اپنے فلاحی کام کو آگے بڑھانے کے لیے انھوں نے 1948ء میں ہمدرد چیریٹیبل ٹرسٹ اور 1964ء میں ہمدرد نیشنل فاؤنڈیشن قائم کی۔ 1 انھوں نے مجیدیہ اسپتال قائم کیا، جس کے جانشین آج حکیم عبد الحمید سینٹینری اسپتال (جدید طب) اور مجیدیہ اسپتال (طبِ یونانی) ہیں۔ 1

    تعلیم کے میدان میں انھوں نے جامعہ ہمدرد کے قیام میں بنیادی کردار ادا کیا اور اس کے بانی چانسلر بنے، نیز ہمدرد ایجوکیشن سوسائٹی، ہمدرد اسٹڈی سرکل، ہمدرد پبلک اسکول نئی دہلی (قیام 1993ء)، ہمدرد انسٹی ٹیوٹ آف ہسٹاریکل ریسرچ، غالب اکیڈمی، سینٹر فار ساؤتھ ایشین اسٹڈیز اور بزنس اینڈ ایمپلائمنٹ بیورو قائم کیے۔ 1 اردو مضمون بھی انھیں جامعہ ہمدرد کا بانی چانسلر بتاتا ہے، مگر علی گڑھ مسلم یونیورسٹی میں ان کے عہدے کو وائس چانسلر لکھتا ہے، جبکہ انگریزی مضمون 1996ء سے 1999ء تک چانسلر بتاتا ہے، اور یہاں انگریزی روایت کو لیا گیا ہے۔ 3 1

    اعزازات

    حکومتِ ہند نے انھیں 1965ء میں ملک کے چوتھے بڑے شہری اعزاز پدم شری اور 1992ء میں تیسرے بڑے اعزاز پدم بھوشن سے نوازا۔ 1 انھیں 1983ء میں ابن سینا ایوارڈ ملا، اور 2000ء میں، ان کی وفات کے بعد، ثقافتی ورثے کے تحفظ اور علمی تحقیق کی سرپرستی پر ارسیکا ایوارڈ دیا گیا۔ 1

    وفات

    ان کا انتقال 22 جولائی 1999ء کو ہوا؛ انگریزی مضمون کی تمہید اور وکی ڈیٹا اس تاریخ پر متفق ہیں، جبکہ مضمون کے معلوماتی خانے کے سانچے میں متضاد اندراجات ہیں، اور یہ تعارض عجائب گھر کے ڈیٹا میں صراحت کے ساتھ درج ہے۔ 1 2 جن ماخذوں سے رجوع کیا گیا ان میں سے کوئی بھی ان کا مذہب یا مسلک نہیں بتاتا، اس لیے عجائب گھر ان کی وابستگی کو نامعلوم درج کرتا ہے۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    دلهي
    Sibling of
    حکیم محمد سعید

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حکیم محمد سعید· دلهي· تتويج أورنكزيب بدلهي· تأسيس شاهجهان آباد· عودة همايون إلى دلهي سنة ٩٦٢هـ· ابن بطوطہ چین کے سفیر مقرر· اكتمال الجامع المسجد بدلهي· نادر شاه يدخل دلهي ويقتل أهلها (١٧٣٩)

    ماخذ

    1. Hakim Abdul Hameed — English Wikipedia
    2. Hakim Abdul Hameed — Wikidata Q19891676
    3. Hakim Abdul Hameed — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حکیم عبد الحمید”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hakim-abdul-hameed/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حکیم محمد سعید

    حکیم محمد سعید (9 جنوری 1920ء – 17 اکتوبر 1998ء) پاکستانی طبیب، محقق اور ادارہ ساز تھے، دہلی میں ایک تعلیم یافتہ مذہبی اردو بولنے والے خاندان میں پیدا ہوئے، تقسیم کے بعد 1948ء میں کراچی میں ہمدرد لیبارٹریز دوبارہ قائم کیں، ہمدرد فاؤنڈیشن، ہمدرد یونیورسٹی اور مدینۃ الحکمہ بنائے، طب، فلسفے، مذہب اور تعلیم پر تقریباً 200 کتب لکھیں و مرتب کیں، 1993ء تا 1994ء گورنر سندھ رہے، اور 1998ء میں کراچی میں شہید کر دیے گئے۔