ایک نظر میں
- کردار
- military
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
حسن رامی پاشا (1842 – 1923) عبد الحمید ثانی کے دور میں عثمانی امیر البحر اور وزیرِ بحریہ تھے۔ وہ سب سے زیادہ اس صاف گو رپورٹ کے لیے یاد کیے جاتے ہیں جس میں انہوں نے سلطان کو بتایا کہ جس بیڑے کو جنگ پر لے जाने کا حکم ملا تھا وہ تقریباً ناقابلِ استعمال تھا — اور 1908 کے انقلاب کے بعد آنے والی اس بدنامی کے لیے جس میں بحریہ کی خستہ حالی کا ذمہ دار انہیں ٹھہرایا گیا۔ 1
ابتدائی عہد
وہ 1842 میں سیلانک (تھیسالونیکی) میں ایک ترک خاندان میں پیدا ہوئے اور 1856 میں بحری اکیڈمی سے فارغ ہوئے۔ روس ترک جنگ (1877–1878) میں انہوں نے ایک جنگی جہاز کی کمان سنبھالی؛ 1882 میں وہ بحریہ کے کمانڈر مقرر ہوئے، اور تین برس بعد سلطان عبد الحمید ثانی کے معاون بنے — ایک پُر وقار مگر غیر فعال عہدہ۔ 1 ترک مضمون یہ اضافہ کرتا ہے کہ وہ 1892 میں فریق کے رتبے تک پہنچے اور بحیرۂ ابیض کے بیڑے کے کمانڈر رہے۔ 2
بیڑے کی رپورٹ اور وزارت
1897 کی یونان ترک جنگ کے موقع پر حسن رامی کو بیڑا دردنيل لے جانے کا کام سونپا گیا۔ انہوں نے دیکھا کہ تقریباً تمام جہازوں اور بیشتر اسلحے کو بڑی مرمت درکار تھی، اور بحریہ کی تیاری کے بارے میں سلطان کو بھیجی گئی پہلی رپورٹیں جھوٹی تھیں؛ ان کی رپورٹ نے پرانے جہازوں کی مرمت کے بجائے نئے خریدنے کی سفارش کی۔ 1 دونوں مضامین ان کی وزارت کی تاریخ میں مختلف ہیں: انگریزی مضمون انہیں 1906 میں وزیرِ بحریہ بتاتا ہے اور اس کا تتابع خانہ 1906–1907 دیتا ہے، جبکہ ترک مضمون انہیں 1897 سے بیڑے کا کمانڈر اور اپنے پیش رو حسن حسنی پاشا کی وفات پر 1903 سے وزیرِ بحریہ بتاتا ہے، جن کے دور میں تباہ کن کشتیاں اور ٹارپیڈو بوٹس خریدی گئیں۔ یہ ریکارڈ دونوں قراءتیں درج کرتا ہے۔ 1 2
زوال اور یادداشتیں
1908 کے نوجوان ترک انقلاب کے بعد وہ معزول کیے گئے، ان پر مقدمہ چلا اور رتبہ گھٹا دیا گیا، بحریہ کی ابتر حالت کا ذمہ دار ٹھہرائے گئے؛ ترک مضمون یہ بھی کہتا ہے کہ انہیں جلاوطن کیا گیا۔ ان کے ماتحتوں میں سے ایک، رؤوف اوربے — مستقبل کے وزیرِ اعظم — نے یہ مایوسی درج کی کہ جو اصلاح پسند کمانڈر وہ جانتے تھے وہ ایک غیر فعال وزیر بن گئے۔ حسن رامی نے آخری برس اسطنبول میں گزارے اور 1923 میں وہیں وفات پائی۔ ان کی یادداشتیں، جو انہوں نے اپنا نام صاف کرنے اور ذمہ داری اپنے پیش رو کی پالیسیوں پر ڈالنے کے لیے لکھی تھیں، 2013 میں رؤوف بے کی ان پر تنقید کے ساتھ دوبارہ شائع ہوئیں۔ 1 2
کسی بھی ماخذ میں ان کا مذہب درج نہیں: نہ کوئی مضمون اسے نام دیتا ہے، نہ وکی ڈیٹا ان کے لیے مذہب کی کوئی قیمت رکھتا ہے، اس لیے ان کا عقیدہ نامعلوم درج کیا گیا ہے۔ 3
مآخذ
- اوپر مذکور معرف مآخذ کے اندراجات،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخہ ہونی چاہیے اور اس ماخذ کا نام لے جس نے ہر حقیقت بدلی۔
تعلقات
- Died in
- إسطنبول
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
جامع العرب بإسطنبول· جامع عتيق علي باشا· جامع امارة العتيق· جامع أيوب سلطان· جامع فناري عيسى· مسجد جول بإسطنبول· آيا صوفيا· مسجد هيرامي أحمد باشا
ماخذ
- Hasan Rami Pasha — English Wikipedia
- Hasan Rami Pasha — Turkish Wikipedia
- Hasan Rami Pasha — Wikidata Q6039694
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حسن رامی پاشا”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hasan-rami-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.