جماعت علی شاہ

جماعة علي شاه

–

پاکستانی عالم اور صوفی بزرگ (1834ء–1951ء) جن کا تعلق علی پور سیداں، ضلع سیالکوٹ سے تھا اور جو سلسلہ نقشبندیہ سے وابستہ تھے۔ آل انڈیا سنی کانفرنس کے صدر رہے اور 1935ء میں امیر ملت قرار پائے، لاہور کی مسجد شہید گنج تحریک کی قیادت کی، تحریکِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے اور محمد علی جناح کے قریب رہے، اور انھوں نے انجمنیں، مدارس اور سیکڑوں مساجد قائم کیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · mystic · writer · activist
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1800عیسوی1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی
العصر الاستعماري · إمبراطوريات البارود · العصر الحديث ہم عصر: دلی فواد پاشا · محمد خليل البنكلاني · اللہ دیا خان · عمر پاشا وریونی دوم · عبد الرشید ابراہیم

کہانی میں مقام

    sufi (مستند) · سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    سید جماعت علی شاہ محدث علی پوری، جو امیر ملت کے نام سے مشہور ہیں، پاکستانی عالم، مصنف اور سلسلہ نقشبندیہ کے صوفی بزرگ تھے۔12 وہ آل انڈیا سنی کانفرنس کے صدر رہے، لاہور کی مسجد شہید گنج تحریک کی قیادت کی اور تحریکِ پاکستان کے قائدین میں سے تھے۔2

    خاندان اور تعلیم

    وہ 1834ء میں علی پور سیداں، ضلع سیالکوٹ میں پیدا ہوئے؛ ان کے والد پیر سید کریم شاہ تھے اور ان کے بزرگ مغل بادشاہ ہمایوں کے ساتھ ہندوستان آ کر علی پور میں آباد ہوئے تھے۔12 انھوں نے سات سال کی عمر میں قرآن پاک حفظ کر لیا اور علوم دینیہ مولانا غلام قادر بھیروی، مولانا فیض الحسن سہارنپوری اور مولانا احمد علی محدث سہارنپوری جیسے اساتذہ سے حاصل کیے، اور سندِ حدیث پاک و ہند کے علاوہ عرب علما سے بھی لی۔1

    روحانی سلسلہ

    علومِ ظاہری کے بعد وہ فیوضِ باطنی کی طرف متوجہ ہوئے اور فقیر محمد چوراہی کے دست پر سلسلہ عالیہ نقشبندیہ میں داخل ہو کر اسی وقت خرقہ خلافت سے نوازے گئے؛ خواجہ سید محمد چنن شاہ نوری آلو مہار شریف سے بھی انھوں نے اکتسابِ فیض کیا۔1 انگریزی مضمون کے مطابق وہ کئی صوفی سلسلوں میں مرید لینے کے مجاز تھے لیکن خود نقشبندی سلسلے میں کام کرتے تھے، اور ان کے مریدوں کی تعداد دنیا بھر میں دس لاکھ سے زائد بتائی جاتی ہے۔2

    دینی و عوامی خدمات

    انھوں نے پچاس سے زیادہ حج کیے، سینکڑوں مسجدیں بنوائیں اور بے شمار دینی مدارس قائم کیے؛ 1885ء میں لاہور میں انجمن نعمانیہ اور 1901ء میں انجمن خدام الصوفیہ کی بنیاد رکھی، اور شہید گنج تحریک کے دنوں میں 1935ء کے راولپنڈی جلسے میں انھیں امیر ملت کا لقب دیا گیا۔1 وہ آل انڈیا سنی کانفرنس کے سرپرست تھے اور تحریکِ پاکستان کے لیے ان کی خدمات بے مثال تھیں۔1

    وصال

    26 ذیقعد 1370ھ بمطابق 30 اگست 1951ء کو امیر ملت اس دنیا سے رخصت ہو گئے اور ان کا مزار علی پور، نارووال میں ہے۔1 ان کے پوتے پیر سید منور حسین شاہ جماعتی ان کی درگاہ کے متولی اور استانہ عالیہ علی پور سیداں کے سجادہ نشین ہیں۔2

    حوالہ جات

    {1} {2} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    نقشبندیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    قاضی محمد· امام شامل· محمد شفیع اوکاڑوی· سید سلیمان ندوی· نقشبندیہ طریقہ

    ماخذ

    1. Jamaat Ali Shah — Urdu Wikipedia
    2. Jamaat Ali Shah — English Wikipedia
    3. Jamaat Ali Shah — Arabic Wikipedia
    4. Jamaat Ali Shah — Wikidata Q7496292
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “جماعت علی شاہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/jamaat-ali-shah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    قاضی محمد

    غازی محمد بن اسماعیل الغیمراوی (1795–1832)، جو روسی مآخذ میں قاضی مُلّا کے نام سے معروف ہیں، داغستانی عالم اور نقشبندی صوفی تھے جو داغستان و چیچنیا کے پہلے امام بنے (1829–1832)۔ انہوں نے عرفی قانون (عادت) کی جگہ شریعت کے نفاذ کی مہم چلائی، 1830 میں روسی توسیع کے خلاف غزوات کا اعلان کیا، اور 17 (29) اکتوبر 1832 کو اپنے آبائی گاؤں گمری پر حملے میں قتل کیے گئے۔