ایک نظر میں
- کردار
- شاعر · سیاست دان · activist · writer
- خطہ
- south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ قصبہ موہان ضلع اناؤ میں پیدا ہوئے؛ ’موہانی‘ موہان ہی کی نسبت ہے اور ان کے آبا ایران کے نیشاپور سے ہجرت کر کے آئے تھے 1۔ ان کی تاریخ پیدائش ہر سمت سے متنازع ہے: انگریزی مقالہ 1 جنوری 1875ء دیتا ہے اور خبردار کرتا ہے کہ بہت سی کتابیں 1880ء اور 1881ء دیتی ہیں 1، اردو مقالہ 4 اکتوبر 1875ء دیتا ہے 2، اور عربی مقالہ 14 اکتوبر 1878ء دیتا ہے 3۔ اسکول کے امتحانوں میں ریاضی میں اول آئے، مسلم یونیورسٹی علی گڑھ کے پیش رو کالج میں پڑھے — جہاں سے برطانوی حکومت پر تنقید پر تین بار نکالے گئے — اور 1903ء میں بی اے کیا 1۔ شاعری میں ان کے اساتذہ تسلیم لکھنوی اور نسیم دہلوی تھے 21۔ ابتدائی تعلیم گھر پر حاصل کی، عربی سید ظہور الاسلام فتح پوری سے اور فارسی محمد امیر خان سے پڑھی 2۔
شاعری اور صحافت
سیاست
وہ برسوں کانگریس کے رکن رہے اور مسلم لیگ میں بھی شامل ہوئے، جس کے 1919ء میں صدر رہے 1۔ 1903ء سے بار بار قید ہوئے اور مکمل آزادی کی مہم چلاتے رہے یہاں تک کہ کانگریس نے اسے اپنا نصب العین بنا لیا 1۔ وہ کمیونسٹ پارٹی آف انڈیا کے بانیوں میں سے تھے؛ دسمبر 1925ء کے پہلے آل انڈیا کمیونسٹ کانفرنس کی تیاریوں کا مرکز ان کا کانپور کا گھر تھا اور وہ اس کی استقبالیہ کمیٹی کے صدر تھے 1۔ تقسیم ہند کے مخالف تھے؛ جون 1947ء میں تقسیم کا منصوبہ اعلان ہونے پر لیگ سے مستعفی ہو گئے، باقی ماندہ ہندوستانی مسلمانوں کی نمائندگی کے لیے ہندوستان ہی میں رہے، اور دستور ساز اسمبلی کے رکن بنے — البتہ دستور پر دستخط نہیں کیے 1۔
دین جیسا کہ ذرائع ثابت کرتے ہیں
انگریزی مقالہ خود ان کے بارے میں کہتا ہے کہ وہ ’ایک مذہبی و عملی مسلمان‘ تھے، سادہ زندگی گزارتے تھے، دہلی میں سرکاری رہائش گاہوں کے بجائے مساجد میں ٹھہرتے تھے اور کئی بار حج کر چکے تھے 1۔ کوئی مقالہ ان کے لیے کوئی مکتب بیان نہیں کرتا اور ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف ’اسلام‘ بتاتا ہے 4۔ ان کی کمیونزم ایک سیاسی وابستگی تھی جو اوپر سیاست ہی کے طور پر درج ہے؛ عجائب گھر کا ریکارڈ ان کا مکتب نامعلوم رکھتا ہے اور شواہد جوں کے توں پیش کرتا ہے۔
وہ 13 مئی 1951ء کو لکھنؤ میں وفات پا گئے 21۔ کراچی میں ان کے نام پر یادگاری لائبریری و ہال ہے اور 2014ء میں ہندوستانی ڈاک نے ان کا یادگاری ٹکٹ جاری کیا 1۔
مآخذ
- اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذی ادارے،
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر ترمیم مؤرخہ ہو اور ہر تبدیل شدہ واقعے کا ماخذ نام لے۔
تعلقات
- Spouse of
- نشاة النساء موہانی
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Hasrat Mohani — English Wikipedia
- Hasrat Mohani — Urdu Wikipedia
- Hasrat Mohani — Arabic Wikipedia
- Hasrat Mohani — Wikidata Q3764778
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “حسرت موہانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hasrat-mohani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.