حسن تركمانی

حسن تركماني

–

حلب

شامی فوجی افسر اور سیاست دان جنہوں نے 2004 سے 2009 تک وزیر دفاع کی حیثیت سے خدمات انجام دیں، اس سے قبل آرمی چیف آف اسٹاف رہے، پھر نائب صدر کے معاون اور کرائسس آپریشنز سیل کے سربراہ بنے۔ وہ 18 جولائی 2012 کو دمشق میں قومی سلامتی کی عمارت پر بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
جرنیل · سیاست دان
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · عبد الستار ایدھی · عبداللہ بن عبدالعزیز آل سعود · احمد عصمت عبد المجید · احمد کیتھراڈا

مکان میں

حلب

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    سنی (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    تعارف

    حسن علی تركمانی (27 جنوری 1935 – 18 جولائی 2012) شامی فوجی افسر اور سیاست دان تھے۔ وہ 2002 سے 2004 تک آرمی چیف آف اسٹاف اور 2004 سے 2009 تک وزیر دفاع رہے، پھر نائب صدر کے معاون اور کرائسس آپریشنز کے سربراہ بنے۔ وہ 18 جولائی 2012 کو دمشق میں قومی سلامتی کی عمارت پر بم دھماکے میں جاں بحق ہوئے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور کیریئر

    وہ حلب میں ترکمان النسل سنی مسلمان خاندان میں پیدا ہوئے۔ فوج میں شمولیت کے بعد انہوں نے مشرقی جرمنی اور مصر میں اسٹاف کورسز کیے، 1973 کی جنگ میں نویں میکانائزڈ ڈویژن کی کمان سنبھالی، اور 1982 سے 2002 تک ڈپٹی چیف آف اسٹاف رہے۔ 1 2 2002 میں چیف آف اسٹاف مقرر ہوئے؛ انگریزی مضمون کے مطابق بطور سنی مسلمان ان کی تقرری کو فرقہ وارانہ تنوع کی بحالی کی کوشش سمجھا گیا۔ 2004 میں وہ مصطفى طلاس کے جانشین وزیر دفاع بنے۔ 1

    تنازعات اور قتل

    اس حصے میں درج موقف مصادر میں منقول ہیں، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ انگریزی مضمون کے مطابق کرائسس آپریشنز کے سربراہ کی حیثیت سے انہیں شام میں تشدد کی مہم کا وسیع پیمانے پر ذمہ دار ٹھہرایا گیا۔ مئی 2012 میں فری سیرین آرمی نے ان سمیت کرائسس سیل کے ارکان کو زہر دینے کا دعویٰ کیا، جس کی انہوں نے سرکاری ٹیلی ویژن پر تردید کی۔ 1 18 جولائی 2012 کو دمشق کے قومی سلامتی ہیڈکوارٹر میں کرائسس سیل کے اجلاس پر بم دھماکے میں وزیر دفاع داؤد راجحہ اور آصف شوکت سمیت وہ بھی جاں بحق ہوئے؛ 20 جولائی کو ان کی سرکاری تدفین ہوئی۔ 1 2

    حوالہ جات

    • "Hasan Turkmani"، انگریزی ویکیپیڈیا، 19 جولائی 2026 کی نظرثانی۔ 1
    • «حسن تركماني»، عربی ویکیپیڈیا، 8 ستمبر 2026 کی نظرثانی۔ 2
    • ویکی ڈیٹا آئٹم Q1588608۔ 3

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    حلب

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    نقل العادل إلى حلب والملك العزيز إلى مصر· الفارابي في بلاط سيف الدولة بحلب· نقل الملك الصالح إلى حلب وتسلط سعد الدين كمشتكين· مناقلة حلب من الموصل إلى سنجار· معركة أعزاز (١٠٣٠)· ملك الروم مدينة حلب· فتح حلب· وفاة الملك الظاهر غازي بن صلاح الدين

    ماخذ

    1. Hasan Turkmani — English Wikipedia
    2. حسن تركماني — ويكيبيديا العربية
    3. Hassan Turkmani — Wikidata Q1588608
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسن تركمانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hassan-turkmani/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    نقل العادل إلى حلب والملك العزيز إلى مصر

    Saladin moved his brother al-Adil from Egypt to govern Aleppo, and set his son al-Malik al-Aziz Uthman over Egypt in his place.