ایچ ایم نقوی

لوگ زندہ اسلام

إتش إم نقوي

†

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

ایچ ایم نقوی ⁦(پیدائش 1973، انگریزی مقالے کی تاریخ کے مطابق)⁩ کراچی میں مقیم پاکستانی ناول نگار ہیں۔ لندن میں پیدا ہوئے، کراچی میں پلے بڑھے، 1996 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، 1997 سے 2003 تک ورلڈ بینک میں کام کیا، اور بوسٹن یونیورسٹی میں ہا جن کے زیرِ نگرانی تخلیقی تحریر پڑھی۔ ان کے پہلے ناول «Home Boy» (2009) نے، جو ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد نیویارک میں تین نوجوان پاکستانیوں کی کہانی ہے، 2011 میں جنوبی ایشیائی ادب کا پہلا ڈی ایس سی انعام جیتا؛ دوسرا ناول «The Selected Works of Abdullah the Cossack» 2019 میں آیا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer
خطہ
south-asia · andalus-europe
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الحلیم محمود

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات

    خلاصہ

    ایچ ایم نقوی (پیدائش 1973، انگریزی مقالے کی تاریخ کے مطابق) کراچی میں مقیم پاکستانی ناول نگار ہیں۔ لندن میں پیدا ہوئے، کراچی میں پلے بڑھے، 1996 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے فارغ التحصیل ہوئے، 1997 سے 2003 تک ورلڈ بینک میں کام کیا، اور بوسٹن یونیورسٹی میں ہا جن کے زیرِ نگرانی تخلیقی تحریر پڑھی۔ 1 ان کے پہلے ناول «Home Boy» (2009) نے، جو ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد نیویارک میں تین نوجوان پاکستانیوں کی کہانی ہے، 2011 میں جنوبی ایشیائی ادب کا پہلا ڈی ایس سی انعام جیتا؛ دوسرا ناول «The Selected Works of Abdullah the Cossack» 2019 میں آیا۔ 1

    زندگی

    نقوی لندن میں پیدا ہوئے اور کراچی میں پلے بڑھے۔ انگریزی اور اردو مقالے ان کی پیدائش 1973 بتاتے ہیں، جبکہ ویکی ڈیٹا اور «لٹریری انسائیکلوپیڈیا» 1974 دیتے ہیں — ریکارڈ اس سال کو متنازع درج کرتا ہے۔ 1 2 3 «لٹریری انسائیکلوپیڈیا» ان کا نام حسین ایم نقوی پھیلا کر لکھتی ہے اور انہیں ایک سفارتی خاندان سے بتاتی ہے جو کئی ملکوں میں رہا۔ 3 انہوں نے 1996 میں جارج ٹاؤن یونیورسٹی سے معاشیات اور انگریزی ادب میں ڈگریاں لیں، اور واشنگٹن میں ان کے ہاں «Fifteen Minutes Club» نامی سلیم شاعری کا اڈا چلتا تھا۔ 1 1997 میں وہ ورلڈ بینک سے وابستہ ہوئے اور اگلے برس امریکی مشرقی ساحل اور کراچی میں مالی خدمات میں گزارے؛ 2003 میں وہ پیشہ چھوڑ کر ہارورڈ میں کلاسیں لینے لگے، پھر بوسٹن یونیورسٹی کے تخلیقی تحریر پروگرام میں داخل ہو کر ہا جن کے زیرِ نگرانی کام کیا اور وہیں تدریس بھی کی۔ 1 2007 میں کراچی منتقل ہو گئے، 2010 میں یونیورسٹی آف آئیووا کے انٹرنیشنل رائٹنگ پروگرام میں مقیم رہے، اور لاہور یونیورسٹی آف مینجمنٹ سائنسز میں بھی تخلیقی تحریر پڑھائی۔ 1 مآخذ نقوی کے کسی مذہب کا نام نہیں لیتے، اس لیے عجائب گھر ان کے لیے کوئی مذہب درج نہیں کرتا۔ 1 2

    کام

    «Home Boy» ستمبر 2009 میں امریکا میں شائع ہوا اور ستمبر 2001 کے حملوں کے بعد نیویارک میں تین نوجوان پاکستانیوں کی پیروی کرتا ہے؛ «نیویارک ٹائمز» نے اسے مہاجر بیانیہ، روایتِ تکوین اور نیویارک ناول تینوں ایک ساتھ پڑھا، اور «پبلشرز ویکلی» نے اسے ستارہ دار جائزہ دیا۔ 1 22 جنوری 2011 کو اس نے جے پور ادبی میلے میں جنوبی ایشیائی ادب کا پہلا ڈی ایس سی انعام جیتا، جس کی مالیت پچاس ہزار ڈالر تھی۔ 1 «The Selected Works of Abdullah the Cossack» (2019) کراچی کے ایک کبھی نمایاں خاندان کے ستر سالہ بزرگ کی زبانی ہے، اور «کرکس ریویوز» نے اس کی طاقت شہر کے محلوں، تاریخ اور ثقافت کے احیاء میں پائی، جبکہ «وال اسٹریٹ جرنل» نے اسے کراچی کے نام ایک پرجوش محبت نامہ کہا۔ 1 نقوی نے «گلوبل پوسٹ» کے لیے معاصر پاکستانی فن، اقلیتوں اور بلوچستان پر، اور «فوربز» کے لیے کراچی پر بھی لکھا ہے۔ 1

    مآخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے ماخذ کيانات، data/source/ کے تحت درج ہیں۔

    ماخذ

    1. H. M. Naqvi — English Wikipedia
    2. H. M. Naqvi — Wikidata
    3. H.M. Naqvi (The Literary Encyclopedia)
    • H. M. Naqvi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ایچ ایم نقوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hm-naqvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔