حسنی مبارک

حسني مبارك

–

القاهرة

محمد حسنی مبارک (4 مئی 1928ء – 25 فروری 2020ء) مصری افسر اور سیاست دان تھے جنہوں نے فضائیہ کی کمان سنبھالی اور انور سادات کے نائب صدر رہے، پھر 1981ء میں سادات کے قتل کے بعد تقریباً تیس برس مصر کے صدر رہے حتیٰ کہ جنوری 2011ء کے انقلاب نے انہیں ہٹا دیا۔ ان پر مقدمات چلے، وہ قید رہے، 2017ء میں رہا ہوئے اور 2020ء میں قاہرہ میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · military
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبدالرحمن یوسفی · علی حسن موینی · علي يافعي · طاہر عثمان باؤچی · مفتي عبد الرزاق

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد حسنی السید مبارک (4 مئی 1928ء – 25 فروری 2020ء) مصری افسر اور سیاست دان تھے جو 14 اکتوبر 1981ء سے 11 فروری 2011ء تک مصر کے صدر رہے؛ جدید دور میں مصر کے سب سے طویل عرصے تک حکمران رہے۔ وہ صدر انور سادات کے قتل کے بعد بر سر اقتدار آئے اور جنوری 2011ء کے انقلاب تک تقریباً تیس برس حکمران رہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور عسکری کیریئر

    وہ نیل کے ڈیلٹا میں محافظہ منوفیہ کے گاؤں کفر المصیلحہ میں پیدا ہوئے۔ مصر کی عسکری اکیڈمی (1949ء) اور فضائی اکیڈمی (1950ء) سے فارغ التحصیل ہو کر فضائیہ میں پائلٹ رہے اور 1972ء سے 1975ء تک فضائیہ کے کمانڈر رہے۔ 1

    صدارت

    انور سادات نے 16 اپریل 1975ء کو انہیں نائب صدر مقرر کیا۔ 6 اکتوبر 1981ء کو سادات کے قتل کے بعد پارلیمنٹ کے اسپیکر صوفی ابو طالب عبوری صدر رہے، پھر 14 اکتوبر 1981ء کو مبارک صدر بنے۔ ان کے دور میں مصر نے اسرائیل کے ساتھ امن معاہدہ برقرار رکھا، عرب لیگ میں واپس آیا اور 1991ء میں کویت کی آزادی کے بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہوا۔ وہ تقریباً پورے دور میں ایمرجنسی قانون کے تحت حکمران رہے۔ 1

    انقلاب، مقدمات اور وفات

    25 جنوری 2011ء کو ان کے خلاف وسیع احتجاج شروع ہوا جو اٹھارہ دن جاری رہا؛ 11 فروری کو انہوں نے استعفیٰ دے دیا اور اقتدار مسلح افواج کی سپریم کونسل کے سپرد ہو گیا۔ ان پر مظاہرین کے قتل اور بدعنوانی کے مقدمات چلے: 2012ء میں عمر قید کی سزا ہوئی جو بعد میں ختم ہوئی، 2015ء میں بدعنوانی کا حتمی فیصلہ آیا، اور مارچ 2017ء میں وہ قتل کے الزامات سے بری ہو کر رہا ہو گئے۔ 25 فروری 2020ء کو قاہرہ کے ایک عسکری اسپتال میں 91 برس کی عمر میں انتقال ہوا؛ فوجی اعزاز کے ساتھ جنازہ ہوا اور مصر الجدیدہ (ہیلیوپولس) میں دفن ہوئے۔ 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة
    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Hosni Mubarak — English Wikipedia
    2. Hosni Mubarak — Urdu Wikipedia
    • Hosni Mubarak — Arabic Wikipedia
    • Hosni Mubarak — Wikidata Q34105
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “حسنی مبارک”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/hosni-mubarak/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.