علی حسن موینی

علي حسن مويني

–

زنجبار

تنزانیہ کے سیاست دان (1925ء–2024ء) جو زنجبار میں تقریباً دو دہائیوں تک استاد اور صدر مدرس رہے، پھر 1984ء میں زنجبار کے صدر اور 5 نومبر 1985ء سے 23 نومبر 1995ء تک تنزانیہ کے دوسرے صدر رہے، جولیس نیریرے کے جانشین کے طور پر۔ انہوں نے درآمدی پابندیاں نرم کیں، نجی کاروبار کی حوصلہ افزائی کی اور 1986ء میں آئی ایم ایف سے معاہدہ کیا، اور ان کی دوسری مدت میں کثیر الجماعتی سیاست کی طرف منتقلی شروع ہوئی۔ انہیں 2022ء میں خدمتِ اسلام پر شاہ فیصل عالمی انعام ملا اور 2024ء میں دارالسلام میں ان کا انتقال ہوا۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · teacher
خطہ
east-africa
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علي يافعي · طاہر عثمان باؤچی · مفتي عبد الرزاق · یوسف قرضاوی · عبدالرحمن یوسفی

مکان میں

زنجبار

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور صدارت

    موینی 8 مئی 1925ء کو کیفورے، پوانی میں پیدا ہوئے، زنجبار منتقل ہوئے اور وہاں تعلیم پائی، اور 1945ء سے 1964ء تک استاد اور صدر مدرس رہے۔1 صدر بن کر انہوں نے درآمدی پابندیاں نرم کیں، نجی کاروبار کی حوصلہ افزائی کی، 1986ء میں آئی ایم ایف سے 78 ملین ڈالر کے قرض کا معاہدہ کیا، اور ان کی دوسری مدت میں کثیر الجماعتی سیاست کی طرف منتقلی شروع ہوئی۔1 انہیں 2022ء میں خدمتِ اسلام پر شاہ فیصل عالمی انعام ملا، اور 29 فروری 2024ء کو دارالسلام میں 98 برس کی عمر میں پھیپھڑوں کے سرطان سے ان کا انتقال ہوا۔12

    ریکارڈ پر ایک نوٹ

    کوئی مصدر ان کے لیے مذہبی مکتب فکر بیان نہیں کرتا: ویکی ڈیٹا ان کا مذہب صرف «اسلام» درج کرتی ہے، بلا شاخ؛ انگریزی متن انہیں مسلمان نہیں کہتا، اس میں مذہبی مواد صرف خدمتِ اسلام کا انعام — جو تکريم ہے، انتماء نہیں — اور ایک زمرہ بندی ہے، اور اردو مضمون مذہب کا ذکر نہیں کرتا۔314 اس لیے ان کا مذہب «نامعلوم» درج کیا گیا ہے۔

    مآخذ

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Lived in
    زنجبار
    Parent of
    حسین مونی

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    حسین مونی· زنجبار· عبید کرومی· علی بن سعید· امانی عبید کرومی· سلمہ بنت سعید (ایملی روئٹے)· ماجد بن سعید· سعید بن سلطان

    ماخذ

    1. Ali Hassan Mwinyi — English Wikipedia
    2. Ali Hassan Mwinyi — Arabic Wikipedia
    3. Ali Hassan Mwinyi — Wikidata Q361581
    4. Ali Hassan Mwinyi — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “علی حسن موینی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ali-hassan-mwinyi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    حسین مونی

    تنزانیہ کے سیاست دان اور طبیب (پیدائش 1966ء)، سابق تنزانی صدر علی حسن موینی کے بیٹے۔ وہ طبیب رہے، پھر مکورانگا اور کوہانی سے رکنِ پارلیمنٹ بنے اور تنزانیہ میں وزارتی عہدے سنبھالے جن میں آخری دفاع اور قومی خدمت (2014ء–2020ء) تھا، پھر 2020ء کے انتخابات میں 76.27 فیصد ووٹوں سے کامیابی کے بعد 3 نومبر 2020ء کو زنجبار کے آٹھویں صدر بنے۔ وہ بدعنوانی کے خلاف مہم اور زنجبار کے نیلی معیشت پروگرام کے لیے جانے جاتے ہیں۔