ابراہیم اسکندر

لوگ زندہ اسلام

إبراهيم إسماعيل

2010ء سے سلطانِ جوہر اور جنوری 2024ء سے ملائیشیا کے بادشاہ ⁦(یانگ دی پرتوان آگونگ)⁩۔ 1958ء میں جوہر بہرو میں سلطان اسکندر کے بڑے بیٹے پیدا ہوئے، تین دہائیوں تک ولی عہد اور اپنے والد کی بادشاہت کے دوران جوہر کے نائب السلطنت رہے؛ مجلسِ حکام نے اکتوبر 2023ء میں انھیں سترھواں آگونگ منتخب کیا، اور وہ مذہبی اعتدال کی وکالت اور جوہر کی جمعہ–ہفتہ تعطیل بحال کرنے کے لیے معروف ہیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
sultan
خطہ
southeast-asia
شناختیں
Wikidata

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس علي عميد زنجاني · عباس کیارستمی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں

    عصرِ حاضر کے اسلام کا براؤزرپچاس برسوں کی شخصیات

    خلاصہ

    سلطان ابراہیم (ولادت 1958ء) سلطانِ جوہر ہیں اور 31 جنوری 2024ء سے ملائیشیا کے سترھویں یانگ دی پرتوان آگونگ (بادشاہ) ہیں۔ سلطان اسکندر کے بڑے بیٹے، وہ تین دہائیوں تک جوہر کے ولی عہد اور اپنے والد کی بادشاہت کے دوران نائب السلطنت رہے، 2010ء میں تخت نشین ہوئے، اور اکتوبر 2023ء میں مجلسِ حکام نے انھیں بادشاہ منتخب کیا۔ وہ مذہبی اعتدال کی وکالت، جوہر کی جمعہ–ہفتہ تعطیل کی بحالی، اور اپنے براہِ راست عوامی انداز کے لیے معروف ہیں، جس میں موٹر سائیکل کی سالانہ شاہی سیر کی بنیاد بھی شامل ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    تونکو ابراہیم اسماعیل 22 نومبر 1958ء کو جوہر بہرو کے سلطانہ امینہ اسپتال میں اپنے پڑدادا سلطان ابراہیم کے دور میں پیدا ہوئے۔ وہ سلطان اسکندر کے تیسرے بچے اور ان کی پہلی اہلیہ، ٹورکے سے تعلق رکھنے والی انگریز خاتون جوزفین روبی ٹریوررو — جنھوں نے شادی پر خالصہ بنت عبد اللہ نام اختیار کیا — سے سب سے بڑے بیٹے تھے۔ انھوں نے ثانوی تعلیم سڈنی کے ٹرینٹی گرامر اسکول میں مکمل کی، پھر کوٹا تنگی کے فوجی تربیتی مرکز میں بنیادی تربیت اور امریکہ کے فورٹ بیننگ اور فورٹ بریگ میں مزید تربیت حاصل کی۔ 3 4

    ولی عہد اور نائب السلطنت

    ابراہیم کو 3 جولائی 1981ء کو، جب ان کے والد تخت پر بیٹھے، جوہر کا ولی عہد مقرر کیا گیا، اور 1984ء سے 1989ء تک، جب سلطان اسکندر یانگ دی پرتوان آگونگ تھے، وہ جوہر کے نائب السلطنت رہے۔ 1982ء میں انھوں نے راجا زارت صوفیہ سے شادی کی؛ ان کے چھ بچے ہیں۔ ولی عہدی کے سال بے تنازع نہیں رہے: انگریزی مضمون کے مطابق 1980ء کی دہائی میں ایک نائٹ کلب میں مہلک فائرنگ پر انھیں سزا ہوئی اور جلد معافی مل گئی، اور 1992ء کے گومیز واقعے کے بعد شاہی بدسلوکی پر اٹھنے والے شور کے دوران ان پر دست درازی کے الزامات بھی اخبارات میں آئے، جس کے نتیجے میں شاہی استثنیٰ ختم کرنے والی آئینی ترامیم ہوئیں۔ 3

    سلطانِ جوہر

    سلطان اسکندر 22 جنوری 2010ء کو وفات پا گئے اور اگلی صبح ابراہیم سلطانِ جوہر مقرر ہوئے؛ ان کی تاج پوشی 23 مارچ 2015ء کو ہوئی۔ 2011ء میں انھوں نے سنگاپور کے تانجونگ پاگار اسٹیشن سے آخری ٹرین چلائی، جسے ان کے دادا نے 1923ء میں کھولا تھا، اور 2012ء میں موار کو ریاست کا شاہی دارالحکومت قرار دیا۔ نومبر 2013ء میں اپنی سالگرہ پر انھوں نے فرمان دیا کہ 2014ء سے جوہر کی تعطیل جمعہ–ہفتہ ہوگی تاکہ مسلمان نمازِ جمعہ آسانی سے ادا کر سکیں، اور 2016ء میں ریاست میں ویپنگ پر پابندی لگائی۔ وہ مذہبی اعتدال کی وکالت کرتے ہیں اور ملائیشیائی مسلم ثقافت کی بڑھتی ہوئی عربیت پر تنقید کرتے ہیں، اور اپنے وسیع کاروباری مفادات کا دفاع یہ کہہ کر کرتے ہیں کہ انھیں عام ملائیشیائیوں کی طرح روزگار کمانا پڑتا ہے۔ پولو اور موٹر سائیکلوں کے شائق، وہ سالانہ کیمبرا ماہکوٹا جوہر موٹر سائیکل سیر کے بانی ہیں۔ 3 1

    ملائیشیا کے بادشاہ

    27 اکتوبر 2023ء کو مجلسِ حکام نے سلطان ابراہیم کو پانچ سالہ مدت کے لیے سترھواں یانگ دی پرتوان آگونگ منتخب کیا۔ انھوں نے 31 جنوری 2024ء کو حلف اٹھا کر استانہ نگارا سنبھالا، اور 20 جولائی 2024ء کو محل میں ان کی رسمی تنصیب ہوئی۔ ان کی ولدیت صرف اس ریکارڈ کے ڈیٹا نوٹ میں درج ہے، کیونکہ ان کے والد سلطان اسکندر کا اس مجموعے میں کوئی ریکارڈ نہیں؛ اور اس ریکارڈ کے لیے پڑھے گئے کسی ماخذ میں سلطان ابراہیم کے لیے کوئی مذہبی مکتب بیان نہیں ہوا — جوہر میں اسلام کی سربراہی ان کے تخت کا منصب ہے — اس لیے یہ ریکارڈ کوئی مکتب درج نہیں کرتا۔ 3 2

    مآخذ

    • اوپر مذکور معرّف ماخذ اکائیاں، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے اور ہر بدلی ہوئی حقیقت کے ماخذ کا نام لینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Ibrahim Ismail — Urdu Wikipedia
    2. Ibrahim Ismail — Wikidata Q2657043
    3. Ibrahim Ismail — English Wikipedia
    4. Ibrahim Ismail — Arabic Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ابراہیم اسکندر”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/ibrahim-ismail/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-06.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔