ملک خضر حیات ٹوانہ

خضر حياة تيوانا

–

ملک سر خضر حیات ٹوانہ (1900ء–1975ء) پنجابی ریاست کار، زمیندار اور فوجی افسر تھے، یونینسٹ پارٹی کی جانب سے متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعظم (1942ء–1947ء) رہے، تقسیمِ ہند اور دو قومی نظریے کی کھل کر مخالفت کی، مسلم لیگ سے نکالے گئے اور مارچ 1947ء میں مستعفی ہو گئے؛ وہ سر عمر حیات خان ٹوانہ کے بیٹے تھے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الحي عارفي · عبد الحمید خان بھاشانی · عبد الماجد دریابادی · شیخ عبد المجید سندھی · عبد الله الموسوي الشيرازي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    ملک سر خضر حیات ٹوانہ (7 اگست 1900ء – 20 جنوری 1975ء) پنجابی ریاست کار، زمیندار اور فوجی افسر تھے، یونینسٹ پارٹی کی جانب سے متحدہ پنجاب کے آخری وزیراعظم (1942ء–1947ء) رہے۔ انھوں نے تقسیمِ ہند اور دو قومی نظریے کی کھل کر مخالفت کی، 1944ء میں مسلم لیگ سے نکالے گئے، اور 2 مارچ 1947ء کو مستعفی ہو گئے۔ وہ سر عمر حیات خان ٹوانہ کے بیٹے تھے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ چک مظفرآباد، ضلع شاہ پور، پنجاب میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد سر عمر حیات خان بڑے زمیندار اور سپاہی تھے۔ انھوں نے ایچیسن کالج، لاہور میں تعلیم پائی، کم عمری میں کلرا اسٹیٹ کا انتظام سنبھالا اور اپنے دور میں پنجاب کے سب سے بڑے گھوڑا پروری فارم کے مالک کے طور پر مشہور ہوئے۔ انگریزی مضمون حوالے کے بغیر لکھتا ہے کہ وہ اپنے والد کے برعکس مذہبی شخص تھے اور انھیں تصوف کا پیرو مانا جاتا ہے؛ کوئی دوسرا ماخذ ان کا مذہب یا سلسلہ نہیں بتاتا، لہٰذا ان کے ڈیٹا ریکارڈ میں ایمان کی قدر نامعلوم درج ہے اور یہ قرأت وہاں مکمل محفوظ ہے۔ 1

    سیاسی زندگی اور وزارتِ عظمیٰ

    وہ 1918ء میں سترہویں کیولری میں کمیشن حاصل کر کے فوج میں شامل ہوئے اور تیسری اینگلو افغان جنگ میں حصہ لیا۔ 1937ء میں پنجاب لیجسلیٹو اسمبلی کے رکن منتخب ہو کر سر سکندر حیات خان کی کابینہ میں وزیر بنے۔ سکندر کی اچانک وفات کے بعد وہ متفقہ طور پر ان کے جانشین منتخب ہوئے اور 1943ء کے آغاز میں وزیراعظم بنے۔ انھوں نے جناح کے اس مطالبے کو رد کر دیا کہ یونینسٹ پارٹی کا نام بدل کر مسلم لیگ کولیشن پارٹی رکھا جائے، یہ کہتے ہوئے کہ ان کی حکومت مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کا اتحاد ہے؛ اسی سال انھیں مسلم لیگ سے نکال دیا گیا۔ 1946ء کے انتخابات کے بعد انھوں نے کانگریس اور اکالی دل کے ساتھ مخلوط حکومت بنائی۔ وہ آخر تک تقسیم کے مخالف رہے اور ان کا موقف تھا کہ پنجابی مسلمانوں، ہندوؤں اور سکھوں کی ثقافت ایک ہے۔ 2 مارچ 1947ء کو وہ مستعفی ہو گئے۔ 1 2

    وفات

    سیاست سے کنارہ کشی کے بعد وہ اکتوبر 1949ء میں کلرا اسٹیٹ واپس آئے۔ ان کا انتقال 20 جنوری 1975ء کو بیوت سٹی، کیلیفورنیا، امریکہ میں ہوا۔ 1

    حوالہ جات

    • مذکورہ بالا معرف ماخذ عناصر، data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظر ثانی کی تاریخ درج ہو اور ہر واقعت کی تبدیلی کا ماخذ نامزد ہو۔

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Child of
    عمر حیات خان ٹوانہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    عمر حیات خان ٹوانہ

    ماخذ

    1. Khizar Hayat Tiwana — English Wikipedia
    2. Khizar Hayat Tiwana — Urdu Wikipedia
    • Khizar Hayat Tiwana — Wikidata Q6743589
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “ملک خضر حیات ٹوانہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/khizar-hayat-tiwana/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    عمر حیات خان ٹوانہ

    میجر جنرل نواب سر عمر حیات خان ٹوانہ (1874ء–1944ء) پنجابی سپاہی اور زمیندار تھے، صوبے کے بڑے جاگیرداروں میں سے تھے، صومالی لینڈ، تبت، پہلی جنگ عظیم اور تیسری اینگلو افغان جنگ میں خدمات انجام دیں، کونسل آف انڈیا، کونسل آف اسٹیٹ اور پنجاب لیجسلیٹو کونسل کے رکن رہے، اور ملک خضر حیات ٹوانہ کے والد تھے۔