قدامہ السجیلی

قدامة السجيلي

قدامہ السجیلی، پہلی/ساتویں-آٹھویں صدی کے عرب شاعر، جو 105ھ/724ء کے بعد فوت ہوئے، رجز میں بدوی موضوعات (اونٹ، گھوڑے) کے وصف اور امویوں کی مدح کے لیے مشہور تھے، اور نقاد انہیں چار بہترین راجز شعرا میں شمار کرتے ہیں۔ 1

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
شاعر
خطہ
arabia
جائزہ

وقت میں زندگی

625عیسوی650عیسوی675عیسوی700عیسوی725عیسوی750عیسوی775عیسوی800عیسوی تقریباً
العصر العباسي المبكر · العصر النبوي · عصر الخلفاء الراشدين · العصر الأموي ہم عصر: عبد الملك بن عمير · عبد الرحمن بن زياد بن أنعم · أبو حنيفة النعمان بن ثابت · أبو قلابة الجرمي · عائشة بنت سعد بن أبي وقاص

خلاصہ

قدامہ السجیلی پہلی صدی ہجری (ساتویں-آٹھویں صدی عیسوی) کے عرب شاعر تھے، جو 105ھ/724ء کے بعد فوت ہوئے۔ غیر دستخط شدہ موسوعہ مدخل کے مطابق ان کی شہرت رجز میں بدوی موضوعات (اونٹ، گھوڑے، وحشی جانور) کے وصف اور امویوں عبدالملک اور ہشام، مالک بن بشر اور حجاج کی مدح پر ہے۔ 1

شہرت اور مقابلہ

نقاد انہیں چار بہترین راجز گو شعرا میں شمار کرتے ہیں، جن میں ان کے قبیلے کے الاغلب اور بصرہ کے تمیمی العجاج اور ان کے بیٹے رؤبہ شامل ہیں، اور وصف میں ان کا درجہ بلند سمجھا جاتا ہے۔ عجاج سے ان کا مشہور مقابلہ مضر اور ربیعہ کا تھا، اور مربد کے ایک مشہور منظر میں دونوں کے اونٹ بھاگ جاتے ہیں۔ 1

ماخذ

  1. دائرة المعارف الإسلامية، الطبعة الثانية (ليدن: بريل) , vol. 1 p. 161
اس صفحے کا حوالہ دیں

islam.museum کے شرکاء۔ “قدامہ السجیلی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/kudama-al-sijilli/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-25.

گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

پہلو

لوگ

نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔