مہاتیر محمد

مهاتير محمد

ملائیشیائی سیاست دان، طبیب اور مصنف، جو 1925 میں قدح کے شہر الور ستار میں پیدا ہوئے۔ وہ ملائیشیا کے چوتھے (1981–2003) اور ساتویں (2018–2020) وزیر اعظم رہے، مجموعی طور پر 24 سال، جو ملک کی تاریخ میں طویل ترین مدت ہے، اور انہیں «بابائے جدیدیت» کہا جاتا ہے۔ ان کی کتاب «دی ملے ڈائلیما» (1970) مشہور ہے؛ 1997 کے ایشیائی مالی بحران میں انہوں نے آئی ایم ایف کی ہدایات کے برعکس سرمایے پر پابندیاں لگا کر ملک کو نکالا، اور 2018 میں 92 سال کی عمر میں اپوزیشن کو تاریخی فتح دلائی۔ وہ سو سال سے زائد عمر میں زندہ ہیں؛ ان کی اہلیہ ستی حاسمہ 2026 میں وفات پا گئیں۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
سیاست دان · طبیب · writer
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عباس حلمی ثانی · عباس محمود العقاد · عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مہاتیر بن محمد (پیدائش 10 جولائی 1925، الور سیتار) ملائیشیا کے طبیب اور سیاست دان ہیں، جو دو مرتبہ ملک کے وزیر اعظم رہے: 1981 سے 2003 اور 2018 سے 2020 تک؛ وہ ملائیشیا کے سب سے طویل عرصہ وزیر اعظم رہنے والے رہنما اور سو سال عمر پانے والے پہلے ملائیشیائی وزیر اعظم ہیں۔ 1 2

    ان کی پہلی مدت میں ملائیشیا نے تیز اقتصادی ترقی اور جدیدیت دیکھی؛ 2018 میں وہ 92 سال کی عمر میں دوبارہ اقتدار میں آئے اور دنیا کے معمر ترین برسراقتدار سربراہ حکومت بنے۔ 1

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    مہاتیر الور سیتار، قدح میں پیدا ہوئے؛ والد محمد اسکندر پینانگ سے تھے، انگریزی میڈیم اسکول کے پرنسپل تھے اور ان کی جڑیں ملائی اور ہندوستانی (کیرالا) تھیں؛ والدہ وان تیمپاوان قدح کی ملائی خاتون تھیں۔ وہ کسی اشرافیہ یا ممتاز دینی و سیاسی خاندان سے نہ تھے۔ 1

    انہوں نے 1933 سے سرکاری انگریزی اسکول میں تعلیم پائی، انگریزی میں مہارت حاصل کی اور طلبہ اخبار کی ادارت کی؛ جاپانی قبضے کے دوران اسکول بند ہونے پر بازار میں قہوہ اور ناشتے فروخت کیے؛ 1953 میں سنگاپور کے کنگ ایڈورڈ ہفتم طبی کالج سے ایم بی بی ایس کیا اور «چی ڈیٹ» کے قلمی نام سے لکھتے رہے۔ 1

    طبی زندگی اور سیاست کا آغاز

    انہوں نے پینانگ اور الور سیتار کے اسپتالوں اور لنگکاوی سمیت سرکاری کلینکوں میں کام کیا — لنگکاوی کے پہلے تعینات طبیب (1955) — اور «ماہا کلینک» قائم کی، جو کسی ملائی کی ملکیت پہلا نجی کلینک تھا؛ مریضوں کے گھروں کا دورہ اور قسطوں پر علاج ان کی شہرت بنا۔ 1 ان کی شادی 5 اگست 1956 کو سیتی حاسمہ محمد علی سے ہوئی، جو خود 25 برس سرکاری طبیبہ رہیں؛ ان کے سات بچے ہوئے۔ 1

    وہ 1940 کی دہائی سے امنو (UMNO) میں سرگرم تھے، 1964 میں رکن پارلیمان بنے، 1969 میں نشست ہارنے کے بعد وزیر اعظم تنکو عبدالرحمن پر تنقیدی کھلا خط لکھ کر جماعت سے نکالے گئے، اور اپنی کتاب «دی ملے ڈائلیما» (1970) لکھی جو 1981 تک ممنوع رہی؛ 1973 میں واپس آ کر سینیٹر، پھر وزیر تعلیم (1974–1978)، وزیر تجارت و صنعت (1978–1981) اور نائب وزیر اعظم (1976) بنے۔ 1

    وزارت عظمیٰ

    مہاتیر 16 جولائی 1981 کو وزیر اعظم بنے اور 22 برس سے زیادہ حکومت کی: تیز ترقی، نجکاری، بڑے بنیادی منصوبے، مسلسل پانچ انتخابی فتوحات، اور 1997 کے ایشیائی مالی بحران میں آئی ایم ایف کی ہدایات سے ہٹ کر سرمائے پر کنٹرول لگا کر نسبتاً تیز بحالی۔ 1 وہ 31 اکتوبر 2003 کو مستعفی ہوئے۔ 1

    ون ایم ڈی بی اسکینڈل پر 2016 میں امنو چھوڑ کر انہوں نے بیرساتو جماعت کی مشترکہ بنیاد رکھی، اپوزیشن اتحاد پاکاتن ہاراپن کی قیادت میں 2018 کا انتخاب جیتا اور 10 مئی 2018 کو دوبارہ وزیر اعظم بنے؛ انور ابراہیم کی رہائی اور سزا معافی یقینی بنائی؛ 24 فروری 2020 کو سیاسی بحران میں مستعفی ہوئے۔ 1 3 انہیں 2019 میں ٹائم 100 میں شامل کیا گیا، اور انہیں مملکت فیصل ایوارڈ برائے خدمت اسلام (1997) بھی ملا۔ 1 3

    آرا اور تنقید

    یہ حصہ مصادر میں منقول مختلف آرا کا بیان ہے، عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔

    ناقدین انہیں اقتدار کی مرکزیت اور اختلاف دبانے کا الزام دیتے ہیں — 1987 کی «آپریشن لالانگ» گرفتاریاں، 1988 کا آئینی بحران اور 1998 میں نائب انور ابراہیم کی برطرفی اس کی مثالیں دی جاتی ہیں — جبکہ حامی ان کی مدت کو استحکام اور ترقی کی دلیل بتاتے ہیں۔ 1 عربی مقالے کے مطابق وہ ترقی پزیر اور مسلم دنیا میں محترم ہیں، «بانگسا ملائیشیا» کے اندماجی تصور کے حامی ہیں؛ ان پر یہودیوں بارے بیانات پر سام دشمنی کا الزام بھی لگا اور انہوں نے 9/11 میں امریکی ملوث ہونے کا دعویٰ بھی کیا — یہ الزامات اور دعوے مصادر کی نسبت کے ساتھ نقل ہیں۔ 3 1 ان کے مذہب بارے ویکی ڈیٹا تنہا سنی اسلام بتاتا ہے؛ دیگر مصادر صرف اسلام بتاتے ہیں، اس لیے ریکارڈ میں مسلک درج نہیں۔ 4

    ذاتی زندگی

    ان کی اہلیہ سیتی حاسمہ کا انتقال 28 ستمبر 2026 کو ستر سالہ رفاقت کے بعد ہوا؛ مہاتیر نے جولائی 2025 میں سو سال مکمل کیے۔ 1 3

    حوالہ جات

    • مندرجہ بالا بیان کردہ مصادر، جو data/source/ میں درج ہیں۔ اردو مقالہ ان کی دوسری وزارت عظمیٰ کو «نویں» کہتا ہے جو شمار کی غلطی ہے؛ ریکارڈ نے انگریزی و عربی مقالوں کی ترتیب اپنائی ہے۔

    ماخذ

    1. Mahathir Mohamad — English Wikipedia
    2. Mahathir Mohamad — Urdu Wikipedia
    3. Mahathir Mohamad — Arabic Wikipedia
    4. Mahathir Mohamad — Wikidata Q181383
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مہاتیر محمد”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahathir-mohamad/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔