محبوب الحق

محبوب الحق

–

محبوب الحق (24 فروری 1934ء – 16 جولائی 1998ء) پاکستانی ماہر اقتصادیات اور بین الاقوامی ترقی کے نظریہ ساز تھے، گورداسپور میں ایک پنجابی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے اور تقسیم کے وقت خاندان کے ساتھ لاہور ہجرت کی، 1960ء کی دہائی میں پلاننگ کمیشن کے چیف اکانومسٹ رہے اور اپنی ”22 خاندانوں“ والی تقریر سے مشہور ہوئے، پھر عالمی بینک میں ڈائریکٹر پالیسی پلاننگ، 1980ء کی دہائی میں وزیر خزانہ رہے، اور اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام میں انسانی ترقی رپورٹ اور انسانی ترقی اشاریہ (HDI) بنایا جس نے دنیا بھر میں ترقی کی پیمائش بدل دی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
economist · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد الرحمن بدوي · عبدالرحمن یوسفی · عبد الحميد خان سواتي · عبد اللطيف تشودري الفلتالي · عبد الستار ایدھی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 24 فروری 1934ء کو پنجاب کے گورداسپور میں ایک پنجابی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے — ویکی ڈیٹا اور جرمن نص کی پیروی کرنے والا عربی مضمون 22 فروری دیتے ہیں، اور عربی مضمون جائے پیدائش جموں بتاتا ہے؛ یہاں انگریزی سوانح کی تاریخ و مقام ہی لیے گئے ہیں۔ ان کی نوجوانی تقسیم کے تشدد سے گزری؛ خاندان ایک مہاجر ٹرین میں قتل ہونے سے بال بال بچا اور لاہور پہنچا، جہاں انھوں نے 1953ء میں گورنمنٹ کالج یونیورسٹی سے اقتصادیات کی ڈگری لی۔ اسکالرشپ انھیں کیمبرج لے گئی جہاں دوسری ڈگری لی، پھر ییل سے پی ایچ ڈی اور 1960ء تا 1961ء ہارورڈ میں پوسٹ ڈاکٹریٹ کام کیا؛ کیمبرج میں امرتیا سین سے ان کی گہری دوستی ہوئی۔ 1 2 3

    کیریئر

    1957ء میں پاکستان واپس آ کر وہ پلاننگ کمیشن میں شامل ہوئے اور 1960ء کی دہائی میں چیف اکانومسٹ بنے، ابتدا میں ایوب خان کے عہد کی آزاد منڈی کی نمو کی حکمت عملی کے چیمپئن رہے۔ اپریل 1968ء میں کراچی کی ایک تقریر میں انھوں نے الزام لگایا کہ 22 صنعتی خاندانی گروہ پاکستان کے صنعتی اثاثوں کے تقریباً دو تہائی اور زیادہ تر بینکاری و بیمے پر قابض ہیں — یہ انکشاف ایوب خان کو گرانے والی تحریک کو متحرک کرنے میں مددگار ہوا۔ 1970ء سے 1982ء تک وہ عالمی بینک میں رابرٹ میکنامارا کے ڈائریکٹر پالیسی پلاننگ رہے اور بینک کو غربت میں کمی اور بنیادی ضروریات کی طرف موڑا۔ پاکستان واپس آ کر انھوں نے پلاننگ کمیشن کی سربراہی کی، 1983ء میں وزیر منصوبہ بندی و ترقی اور 1985ء میں وزیر خزانہ بنے، ٹیکس اصلاحات، غیر ضابطہ کاری اور سماجی اخراجات آگے بڑھائے، پھر جنوری 1986ء میں استعفے پر مجبور ہوئے؛ 1988ء میں نگران وزیر خزانہ کے طور پر واپس آئے۔ 1989ء میں نیویارک میں UNDP میں شامل ہوئے، جہاں انھوں نے وہ ٹیم قیادت کی — جس میں امرتیا سین، پال اسٹریٹن، انگے کاؤل، فرانسس اسٹیورٹ اور رچرڈ جولی شامل تھے — جس نے 1990ء میں پہلی انسانی ترقی رپورٹ تیار کی۔ 1996ء میں انھوں نے اسلام آباد میں انسانی ترقی مرکز قائم کیا، جو ان کی وفات کے بعد ان کے نام سے منسوب ہوا۔ 1

    وفات اور ورثہ

    وہ 16 جولائی 1998ء کو نیویارک شہر میں 64 سال کی عمر میں وفات پا گئے۔ دی اکانومسٹ نے انھیں بین الاقوامی ترقی کے دور اندیش مفکرین میں شمار کیا، اور امرتیا سین اور ٹام ڈیلیئل نے رائے دی کہ ان کے کام نے ترقی کی سمجھ اور احصائی پیمائش میں بڑی تبدیلی پیدا کی۔ ان کے اعزاز میں قائم UNDP کا محبوب الحق ایوارڈ ممتاز انسانی ترقی میں نمایاں خدمات پر فرنینڈو اینریکے کارڈوسو، فضل حسن عابد، شیلا واٹ کلوٹیئر اور گرو ہارلم برنٹ لینڈ جیسی شخصیات کو دیا گیا ہے۔ 1 2

    مذہب

    ان کا مذہب نامعلوم درج ہے، اور معاملہ بانی کے لیے نشان زد ہے۔ ماخذوں میں واحد مذہبی شہادت ان کے خاندان کی ہے: انگریزی مضمون کہتا ہے کہ وہ ایک پنجابی مسلم خاندان میں پیدا ہوئے۔ خاندانی پس منظر ذاتی شہادت نہیں، کوئی متن ان کا اپنا کوئی مکتب یا وابستگی نہیں بتاتا، اور ویکی ڈیٹا صرف عمومی ”اسلام“ درج کرتا ہے۔ 1 3

    Sources

    • The defined source entities cited above, recorded in data/source/.
    • Revisions of this article must be dated, and must name the source that changed each fact.

    ماخذ

    1. Mahbub ul Haq — English Wikipedia
    2. Mahbub ul Haq — Arabic Wikipedia
    3. Mahbub ul Haq — Wikidata Q283367
    • Mahbub ul Haq — Urdu Wikipedia
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محبوب الحق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mahbub-ul-haq/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔