میر ہزار خان کھوسو

مير هزار خان كهوسو

– †

† ہجری تاریخ عیسوی/جولین تاریخ سے حساب کے ذریعے نکالی گئی ہے؛ یہ منتقل شدہ تاریخ سے ایک یا دو دن مختلف ہو سکتی ہے۔

پاکستانی جج (1929ء–2021ء)، مارچ سے جون 2013ء تک عام انتخابات کے انعقاد کے لیے پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم، بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس (1992ء–1994ء)، اور دو بار مختصر مدت کے لیے بلوچستان کے گورنر۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
فقیہ · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی2050عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: علی حسن موینی · علي يافعي · طاہر عثمان باؤچی · مفتي عبد الرزاق · یوسف قرضاوی

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    میر ہزار خان کھوسو (30 ستمبر 1929ء – 26 جون 2021ء)، جن کا نام انگریزی مضمون میں «کھوسا» لکھا گیا ہے، پاکستانی جج تھے جو 25 مارچ سے 5 جون 2013ء تک پاکستان کے نگراں وزیرِ اعظم رہے؛ الیکشن کمیشن نے انہیں 2013ء کے عام انتخابات کے انعقاد کے لیے مقرر کیا تھا۔ اس سے قبل وہ بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس، دو بار مختصر مدت کے لیے بلوچستان کے گورنر، اور وفاقی شرعی عدالت کے چیف جسٹس رہ چکے تھے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی اور تعلیم

    وہ 30 ستمبر 1929ء کو بلوچستان کے ضلع جعفرآباد کے گاؤں گوٹھ اعظم خان میں پیدا ہوئے اور بلوچ نسل سے تھے۔ جوانی میں وہ تحریکِ پاکستان میں سرگرم رہے اور محمد علی جناح کو اپنا محرک سمجھتے تھے۔ انہوں نے جامعہ سندھ سے بی اے (1954ء) اور دو سال بعد جامعہ کراچی سے قانون کی ڈگری حاصل کی۔ 1 3

    عدالتی زندگی

    انہوں نے 1957ء میں کراچی بنچ سے وکالت شروع کی اور 1980ء میں سپریم کورٹ کے وکیل بنے۔ وہ 1966ء سے 1976ء تک جیکب آباد میں سرکاری وکیل رہے اور کوئٹہ کے گورنمنٹ لاء کالج میں پڑھایا۔ 1977ء میں بلوچستان ہائی کورٹ کے جج بنے، 1985ء میں ایڈیشنل جج اور 1987ء میں مستقل جج ہوئے، اور 1989ء میں بلوچستان ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بن گئے۔ وہ 1990ء اور 1991ء میں دو بار مختصر مدت کے لیے بلوچستان کے گورنر بھی رہے۔ ریٹائرمنٹ کے بعد 1991ء میں وفاقی شرعی عدالت کے جج بنے اور 1992ء سے 1994ء تک اس کے چیف جسٹس رہے؛ مضمون ان کے 1994ء سے 1996ء تک سپریم کورٹ کے جج منتخب ہونے، 1986ء سے 2001ء تک پاکستان پبلک سروس کمیشن کی رکنیت، اور بلوچستان زکوٰۃ کونسل کی چیئرمینی کا بھی ذکر کرتا ہے۔ 1

    نگراں وزارتِ عظمیٰ اور وفات

    24 مارچ 2013ء کو الیکشن کمیشن آف پاکستان نے انہیں نگراں وزیرِ اعظم مقرر کیا اور انہوں نے 25 مارچ 2013ء کو حلف اٹھایا۔ نگراں حیثیت میں ان کے اختیارات محدود تھے اور ذمہ داری صرف چند ماہ میں انتخابات کرانا تھی؛ ان کی چودہ رکنی کابینہ نے 2 اپریل 2013ء کو حلف اٹھایا، اور وہ 5 جون 2013ء کو منتخب حکومت کے برسرِ اقتدار آنے تک عہدے پر رہے۔ وہ 26 جون 2021ء کو 91 سال کی عمر میں وفات پا گئے؛ انگریزی مضمون کا معلوماتی خانہ اور ویکی ڈیٹا ان کی وفات کوئٹہ بتاتے ہیں۔ 1 3

    مذہب کے بارے میں ماخذ

    کوئی متن ان کا مذہب یا مکتب نہیں بتاتا۔ عربی مضمون کا معلوماتی خانہ عمومی «اسلام» بتاتا ہے، اور ویکی ڈیٹا کی مذہبی قدر بھی عمومی «اسلام» ہے — صرف ساختی قدریں۔ وفاقی شرعی عدالت کی چیف جسٹس شپ عدالتی عہدہ تھی، ذاتی مکتب کی شہادت نہیں۔ اس لیے ریکارڈ میں ان کا مذہب غیر مصنف درج ہے۔ 2 3 1

    ماخذ

    • اوپر حوالہ دیے گئے متعین ماخذ، جو data/source/ میں درج ہیں۔
    • اس مضمون کی ہر نظرثانی تاریخ کے ساتھ ہو، اور بتائے کہ کس ماخذ کی بنیاد پر کون سی بات بدلی گئی۔

    ماخذ

    1. Mir Hazar Khan Khosa — English Wikipedia
    2. Mir Hazar Khan Khoso — Arabic Wikipedia
    3. Mir Hazar Khan Khoso — Wikidata Q8168180
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “میر ہزار خان کھوسو”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mir-hazar-khan-khoso/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔