ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان · writer
- خطہ
- anatolia-balkans
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
میر سعید سلطان غالییف (13 جولائی 1892 – 28 جنوری 1940) تاتار بالشویک نظریہ ساز تھے، «مسلم قومی اشتراکیت» کے معمار۔ 1 مرکزی مسلم عسکری مجلس کے صدر اور قومیتوں کی وزارت کے مرکز میں رہے، اور مشرق کے مستعمرہ عوام کے لیے خود مختار اشتراکی تحریک کا نظریہ پیش کیا جسے پارٹی نے قوم پرست اور جامعہ اسلامی انحراف قرار دیا۔ 1 1923، 1928 اور 1937 میں گرفتار ہوئے، 1940 میں ماسکو میں گولی مار دی گئی، اور 1990 میں بعد از وفات بری الذمہ قرار پائے۔ 1 2
زندگی و کیریئر
وہ اوفا صوبے کے گاؤں ایلمبیتیو میں ایک استاد کے گھر پیدا ہوئے — وکی ڈیٹا میں قارماسقالى بھی جائے پیدائش کے طور پر درج ہے، جہاں ان کی یادگاری تختی ہے — اور والد کے نئے طریقے کے مکتب میں قرآن و شریعت کی بنیادی تعلیم پائی۔ 1 3 1911 میں قازان کے تاتار اساتذہ اسکول سے فارغ ہو کر باشقیرستان اور باکو میں استاد و کتب خانہ دار رہے؛ ابتدا میں سوخوئی اور «قوم کا بیٹا» جیسے تخلص سے لکھا۔ 1 2 مئی 1917 میں ماسکو کی مسلم کانگریس میں شریک ہوئے، جولائی میں قازان میں مسلم سوشلسٹ کمیٹی بنائی، اور نومبر 1917 میں بالشویکوں میں شامل ہوئے؛ مسکوم میں پارٹی کے نمائندے اور 1918 سے مرکزی مسلم عسکری مجلس کے صدر رہے۔ 1 2 دسمبر 1917 میں انہوں نے اپنے فیصلے کی وضاحت شائع کی: وہ چاپلوسی سے نہیں بلکہ اپنے عوام کی محبت اور بالشویک قضیے پر ایمان سے ان کے ساتھ گئے۔ 1 4
1923 میں گرفتار اور پارٹی سے خارج ہوئے؛ 1928 میں دوبارہ گرفتار ہو کر سزائے موت پائی جو 1931 میں دس سال قید میں بدلی؛ 1934 میں رہا ہو کر ساراتوف رہے؛ 1937 میں پھر گرفتار ہوئے اور دسمبر 1939 کی سزائے موت 28 جنوری 1940 کو ماسکو میں نافذ ہوئی؛ عربی مقالے کا صدر اس تاریخ کو غلطی سے 28 جون 1940 دیتا ہے۔ 1 2 4
کام
موقف و نقد
یہ قسم مآخذ کی روایت کردہ مواقف پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔
ان کے نظریے کے مطابق دنیا استحصال کرنے والے میٹروپولیٹن نصف اور مستعمرہ نصف میں بٹی تھی، اور مسلم جمہور کو اپنی خود مختار اشتراکی تحریک چاہیے تھی۔ 1 روسی مقالہ ان کے نظریے کو مارکسزم اور اسلام کو جوڑنے والی اسلامی اشتراکی نظریت بتاتا ہے۔ 2 ان کے شخصی اعتقاد کو مآخذ طے نہیں کرتے: وکی ڈیٹا کی واحد قدر عام «اسلام» ہے، عربی مقالہ انہیں مسلم تاتاروں کے رہنما کہتا ہے اور ان کا 1921 کا تقرری مضمون بھی درج کرتا ہے، انگریزی مقالہ ان کی قرآنی تعلیم اور مسلم عوام کی خدمت کے خود بیان کو درج کرتا ہے؛ کوئی ماخذ مکتب کا نام نہیں لیتا اور کوئی الحاد کی پختہ شہادت نہیں دیتا، اس لیے مذہب «نامعلوم» درج ہے۔ 3 4 1
مآخذ
- اوپر مذکور معرّف مآخذ، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہو اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے۔
ماخذ
- Mirsaid Sultan-Galiev — English Wikipedia
- Mirsaid Sultan-Galiev — Russian Wikipedia
- Mirsaid Sultan-Galiev — Wikidata Q982215
- Mirsaid Sultan-Galiev — Arabic Wikipedia
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “میر سعید سلطان غالییف”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mirsaid-sultan-galiev/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.