مرزا کوچک خان

ميرزا كوجك خان

–

رشت، گیلان کے ایرانی انقلابی (1880–1921)؛ جوانی میں حوزوی تعلیم پائی، 1914-15 میں گیلان کے جنگلوں میں نہضتِ جنگل کی بنیاد رکھی، روسی، برطانوی اور سرکاری افواج سے لڑے، 1920 میں گیلان کی قلیل مدتی سوویت جمہوریہ کے صدر بنے، اور فرار کے دوران طالش کے پہاڑوں میں وفات پائی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
activist · سیاست دان
خطہ
persia-central-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1825عیسوی1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی تقریباً
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبادی بانو بیگم · عباس حلمی ثانی · عبد الحفیظ بن الحسن · عبد القادر المغربي

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    مرزا کوچک خان (12 اکتوبر 1880 – 2 دسمبر 1921)، پیدائشی نام یونس اور فارسی میں مرزا کوچک خان جنگلی کے نام سے معروف، ایرانی انقلابی تھے جنہوں نے گیلان کے جنگلوں میں نہضتِ جنگل کی بنیاد رکھی اور 1920-21 میں گیلان کی قلیل مدتی سوویت جمہوریہ کی قیادت کی۔ 1 2

    ان کی پیدائش کے دن میں ایک دن کا اختلاف ہے: انگریزی مضمون اور ویکی ڈیٹا 12 اکتوبر 1880 دیتے ہیں، جبکہ فارسی مضمون 21 مہر 1259 شمسی دیتا ہے جس کا تبادلہ 13 اکتوبر 1880 ہے۔ یہ ریکارڈ 12 اکتوبر اختیار کرتا ہے اور متبادل درج کرتا ہے۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ یونس نام سے رشت کے استادسرا محلے میں گیلان کے تاجر مرزا «بزرگ» کے ہاں پیدا ہوئے؛ فارسی مضمون ان کا خاندانی نام استادسرائی اور خاندان کو متوسط اور مذہبی بتاتا ہے۔ ابتدائی سال حاج حسن (صالح آباد) کی علمیہ مدرسہ اور رشت کی جامع مدرسہ میں صرف و نحو اور دینی تعلیم میں گزارے، پھر قزوین کی صالحیہ مدرسہ اور کچھ عرصہ تہران کی محمودیہ میں حوزوی تعلیم جاری رکھی۔ فارسی مضمون نوٹ کرتا ہے کہ حوزوی تربیت انہیں علماء کے زمرے میں لا سکتی تھی، مگر ملک کے حالات نے ان کا رخ دوسری طرف موڑ دیا۔ 2 1

    آئینی سال

    1908 کی تبریز بغاوت کے دوران انہوں نے ستار خان کی فوج میں شامل ہونے کی کوشش کی مگر بیماری کی وجہ سے فعال شرکت نہ کر سکے؛ آئینی جنگ میں زخمی ہو کر علاج کے لیے باکو اور تبلیسی گئے۔ جولائی 1909 میں وہ سپہ دار اعظم محمد ولی خان تنکابنی کی قیادت میں تہران پر چڑھائی کرنے والی شمالی فوج کے زیریں درجے کے کمانڈروں میں سے تھے۔ بعد میں روسیوں نے انہیں پانچ سال کے لیے گیلان سے جلا وطن کیا۔ 1 2

    نہضتِ جنگل

    روسی افواج کے گیلان کے عوام پر ظلم سے متاثر ہو کر 1914-15 میں انہوں نے شمالی جنگلوں میں بغاوت اٹھائی، جس کا پہلا صدر مقام کسما تھا، جمعیۃ اتحادِ اسلام (ہیئتِ اتحادِ اسلام) کے تعاون سے، جو آزاد علاقوں کا انتظام چلاتی تھی اور جس کے اعلامیہ مقاصد یہ تھے: غیر ملکی افواج کا اخراج، ناانصافی اور استبداد کا خاتمہ، اور عوامی حکومت کا قیام۔ جنگلی افواج نے مقامی سرکاری اور روسی فوجوں کو شکست دی؛ 12 جون 1918 کو منجیل میں ڈنسٹروِل اور بچراخوف کی مشترکہ برطانوی و سفید روسی فوج نے توپ خانے، بکتر بند گاڑیوں اور ہوائی جہازوں کے استعمال سے انہیں شکست دی۔ حاج احمد کسمائی کے ہتھیار ڈالنے اور ڈاکٹر حشمت کی رشت میں پھانسی کے بعد مرزا مشرق کی طرف پسپا ہوئے اور پھر فومنات لوٹ آئے، اور نہضت کا پہلا دور ختم ہوا۔ 1 2

    جمہوریۂ گیلان

    روس میں بالشویکوں کی فتح کے بعد مئی 1920 میں راسکولنیکوف کی قیادت میں سوویت بحریہ انزلی میں داخل ہوئی، اور مرزا نے سوویت انقلابیوں سے اس شرائط پر تعاون پر رضامندی ظاہر کی کہ گیلان کی سوشلسٹ جمہوریہ ان کی قیادت میں قائم ہو اور سوویت اس کے داخلی امور میں براہِ راست مداخلت نہ کریں؛ فارسی مضمون عوام کی مذہبی رسوم کے تحفظ پر ان کے اصرار کا اضافہ کرتا ہے۔ پھر سوویتوں اور فارسی کمیونسٹ پارٹی سے اختلافات ہوئے، جولائی 1920 میں ایک بائیں بازو کی بغاوت نے انہیں ہٹا دیا، اور 1921 کے سوویت-برطانوی معاہدے کے بعد سوویتوں نے حمایت واپس لے لی؛ کرنل رضا خان کی قیادت میں سرکاری افواج نے بکھرے ہوئے جنگلیوں کو کچل دیا۔ 1 2

    وفات

    تنہا اور فرار کی حالت میں، مرزا اور ان کے ساتھی گاؤک، ایک روسی-جرمن انقلابی، خلخال کی طرف عظمت خانم فولادلو کی پناہ کی تلاش میں جاتے ہوئے طالش کے ماسال پہاڑی علاقے کے آلالہ پشتہ چراگاہ میں برفانی طوفان کی لپیٹ میں آئے اور دونوں 2 دسمبر 1921 کو جم کر ہلاک ہو گئے۔ ایک مقامی زمیندار نے لاش کا سر کاٹا؛ سر رشت میں نمائش کے لیے رکھا گیا اور تہران میں رضا خان کو بھیجا گیا، اور رضا شاہ کی جلاوطنی کے بعد ان کے دوست سر واپس لا کر رشت کے سلیماندراب میں ان کی قبر میں جسم کے ساتھ دفن کیا۔ 1 2

    مصادر

    • اوپر مذکور معرّفہ مصادر کے ادارے، data/source/ میں درج۔
    • اس مضمون کی نظرثانیاں مؤرخ ہونی چاہئیں، اور ہر واقعہ بدلنے والے مصدر کا نام لینا چاہیے۔

    ماخذ

    1. Mirza Kuchik Khan — English Wikipedia
    2. Mirza Kuchik Khan — Persian Wikipedia
    • Mirza Kuchik Khan — Wikidata Q738907
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “مرزا کوچک خان”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mirza-kuchik-khan/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔