ایک نظر میں
- کردار
- سیاست دان
- خطہ
- persia-central-asia
- شناختیں
- Wikidata
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
عصرِ حاضر کے اسلام کے براؤزر میں
خلاصہ
محمد نجیب اللہ احمدزئی (6 اگست 1947ء – 27 ستمبر 1996ء) افغان سیاست دان اور فوجی افسر تھے۔ طب کی تربیت پائی، پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی آف افغانستان میں ترقی پائی، خاد انٹیلیجنس سروس کے سربراہ رہے، 1986ء میں جماعت کے جنرل سیکرٹری اور 1987ء سے اپریل 1992ء میں استعفے تک افغانستان کے صدر رہے۔ چار سال سے زائد کابل میں اقوامِ متحدہ کے احاطے میں پناہ گزین رہے، حتیٰ کہ ستمبر 1996ء میں طالبان نے دارالحکومت پر قبضے کے وقت انھیں قتل کر دیا۔ 1
ابتدائی زندگی اور تعلیم
وہ 6 اگست 1947ء کو صوبہ پکتیا کے گردیز میں پیدا ہوئے؛ ان کے آبائی گاؤں نجیب قلعہ گردیز اور سید کرم کے درمیان واقع ہے، اور وہ غلجی پشتونوں کے احمدزئی قبیلے سے تھے۔ عربی مضمون کا معلوماتی خانہ اس کی جگہ کابل دیتا ہے؛ یہ اختلاف ڈیٹا فائل میں درج ہے۔ کابل کے حبیبیہ اسکول اور بارہ مولہ کے سینٹ جوزف اسکول میں پڑھے، اور 1964ء سے جامعہ کابل میں طب کی تعلیم پائی، 1975ء میں ایم بی بی ایس مکمل کیا مگر طبابت نہیں کی۔ 1965ء میں پی ڈی پی اے کے پرچم دھڑے میں شامل ہوئے اور کارمل کے پارلیمانی برسوں میں ان کے قریبی ساتھی و محافظ رہے۔ 1 2
کارمل کے دور میں: خاد کی سربراہی
ثور انقلاب کے بعد مختصر مدت کے لیے ایران میں سفیر رہے، پھر حفیظ اللہ امین کے دور میں یورپ جلاوطن رہے۔ سوویت مداخلت کے ساتھ واپس آئے اور 1980ء میں میجر جنرل کے عہدے کے ساتھ ریاستی انٹیلیجنس سروس خاد کے سربراہ مقرر ہوئے۔ ان کے دور میں خاد کے اہلکار تقریباً 120 سے بڑھ کر 25,000 سے 30,000 کے درمیان ہو گئے اور ادارہ اپنی بے رحمی کے لیے مشہور ہوا: ہزاروں گرفتار، اذیت یافتہ اور قتل کیے گئے۔ 1981ء میں پولٹ بیورو اور 1985ء میں پارٹی سیکرٹریٹ میں شامل ہوئے۔ 1
افغانستان کے قائد، 1986ء–1992ء
سوویت حمایت سے مئی 1986ء میں کارمل کے جانشین کے طور پر پی ڈی پی اے کے جنرل سیکرٹری اور نومبر 1987ء میں صدر بنے۔ ان کی قومی مصالحت کی پالیسی نے حکومت کو سوشلزم سے افغان قوم پرستی کی طرف موڑا، یک جماعتی نظام ختم کیا اور اسلام کو سرکاری مذہب بنایا؛ 1990ء کے آئین نے کمیونزم کے تمام حوالے حذف کر کے اسلام کو ریاستی مذہب قرار دیا۔ ان تبدیلیوں سے انھیں خاص حمایت نہ ملی۔ سوویت انخلا، دسمبر 1991ء میں سوویت یونین کے خاتمے اور جنرل عبد الرشید دوستم کی بغاوت کے بعد ان کی حکومت گر گئی اور انھوں نے اپریل 1992ء میں استعفیٰ دے دیا۔ 1
آخری سال اور وفات
مذہبی ریکارڈ
اس ریکارڈ کے لیے پڑھا گیا کوئی متن نجیب اللہ کے لیے ذاتی طور پر کسی مکتب کا نام نہیں لیتا۔ ویکی ڈیٹا کی منظم مذہبی قدر «سنی اسلام» ہے — ایک ہی منظم خاندان؛ عربی مضمون کا مذہبی خانہ خالی ہے، اور عربی و اردو زمرے انھیں «مسلم سوشلسٹ» میں درج کرتے ہیں، جو درجہ بندیاں ہیں، شہادتیں نہیں۔ انگریزی مضمون میں اسلام ریاستی پالیسی ہے: قومی مصالحت، 1990ء کا آئین، اور 1990ء میں جماعت کا اعلان کہ اس کے تمام ارکان مسلمان ہیں — حکمرانی کی حکمتِ عملی، ذاتی شہادت نہیں۔ لہٰذا ان کا ایمان «نامعلوم» درج ہے اور منظم قدر ڈیٹا فائل میں محفوظ ہے۔ 1 2 3 4
ذاتی زندگی
ان کی شادی فتانہ نجیب سے ہوئی اور ان کے تین بچے تھے۔ 1
ماخذ
- اوپر جن متعین ماخذوں کا حوالہ دیا گیا ہے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرثانی مؤرخہ ہوگی اور ہر تبدیلی کا ماخذ نامزد کرے گی۔
تعلقات
- Died in
- كابل
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
باغِ وفا (کابل)· فتح كابل وإسلام ملكها في أيام المأمون· نكث أهل كابل ومقتل يزيد بن زياد· إذعان كابل شاه للمأمون· سيرة ابن سمرة إلى كابل· حرب رتبيل والربيع بن زياد· عبد اللہ عبد اللہ· احمد شاہ مسعود
ماخذ
- Mohammad Najibullah — English Wikipedia
- Mohammad Najibullah — Arabic Wikipedia
- Mohammad Najibullah — Urdu Wikipedia
- Mohammad Najibullah — Wikidata Q207728
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد نجیب اللہ”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mohammad-najibullah/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-07.