محمد حسین ہیکل

محمد حسين هيكل

–

القاهرة

مصری ادیب، صحافی اور سیاست دان (1888–1956)، ناول «زینب» (1914) کے مصنف جسے بہت سے نقاد پہلا جدید مصری ناول قرار دیتے ہیں، اور «حیات محمد» (1935) کے مصنف جو تنقیدی اسلوب میں لکھی گئی مشہور ترین جدید عربی سیرت ہے؛ وہ بارہا وزیر تعلیم رہے اور لبرل دستوری جماعت اور مجلس شیوخ کی صدارت کی۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
writer · سیاست دان · صحافی
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 3/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1850عیسوی1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: ابو القاسم فضل الحق · عبد القادر المغربي · محمد بن عبد الکریم ختابی · عبد القادر حاج علی · عبد الحمید خان بھاشانی

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد حسین ہیکل (20 اگست 1888 – 8 دسمبر 1956) ایک مصری مصنف، صحافی اور سیاست دان تھے جو وزیر تعلیم سمیت کئی کابینہ عہدوں پر فائز رہے۔ 1 وہ ناول «زینب» (1914) کے مصنف ہیں جسے بہت سے نقاد پہلا جدید مصری ناول قرار دیتے ہیں، اور «حیات محمد» کے مصنف ہیں — عربی مضمون اسے 1935 اور انگریزی و اردو مضامین 1933 بتاتے ہیں — جو تنقیدی اسلوب میں لکھی گئی مشہور ترین جدید عربی سیرت نبوی ہے۔ 2 3 1

    زندگی اور تعلیم

    وہ 20 اگست 1888 کو — عربی مضمون کے مطابق 12 ذو الحج 1305ھ — محافظہ دقہلیہ کے گاؤں کفر غنام میں پیدا ہوئے۔ 2 1 انہوں نے قاہرہ کے خدویہ لا اسکول سے 1909 میں قانون کی تعلیم مکمل کی اور 1912 میں پیرس کی سوربون یونیورسٹی سے قانون میں ڈاکٹریٹ حاصل کی؛ پیرس ہی میں انہوں نے «زینب» تصنیف کی۔ 2 3 واپسی پر دس سال وکالت اور صحافت کی، اور احمد لطفی السید، محمد عبدہ اور قاسم امین کے افکار سے متاثر ہوئے۔ 3 2

    سیاست اور صحافت

    وہ اس لجنۃ الثلاثین کے رکن تھے جس نے 1923 کا آئین تیار کیا، اور لبرل دستوری جماعت کے اخبار «السیاسہ» کے شریک بانی و مدیر رہے۔ 2 3 وہ 1937 میں وزیر مملکت بنے، پھر بارہا وزیر تعلیم رہے (1938–39، 1940–42، 1944–45)، جماعت کے نائب صدر (1941) اور صدر (1943) منتخب ہوئے، اور 1945 سے 1950 تک مجلس شیوخ کی صدارت کی۔ 2 انہوں نے 1945 میں عرب لیگ کے چارٹر پر دستخط کے موقع پر سعودی عرب کی نمائندگی بھی کی۔ 2

    تصانیف اور وفات

    ان کی اہم تصانیف میں «زینب» (1914)، «تراجم مصریہ و غربیہ» (1929)، «حیات محمد»، «فی منزل الوحی»، «الصدیق ابو بکر» (1942)، «الفاروق عمر» (1944) اور «مذکرات فی السیاسۃ المصریہ» (1951–53) شامل ہیں۔ 2 3 «حیات محمد» کا انگریزی ترجمہ اسماعیل راجی الفاروقی نے کیا۔ 3 ان کی وفات قاہرہ میں 8 دسمبر 1956 کو ہوئی — عربی مضمون کے مطابق 5 جمادی الاول 1376ھ۔ 2 1

    جائزے اور نقد

    یہ حصہ مختلف جائزے ذرائع کی زبانی پیش کرتا ہے؛ یہ عجائب گھر کا فیصلہ نہیں۔ تحقیق ان کے ابتدائی دور کو لطفی السید کے حلقے کے ایک وضعی (positivist) آزاد خیال کے طور پر پڑھتی ہے، اور غیرشونی ان کے 1927–1930 میں وضعیت سے رجوع اور تیس کی دہائی میں اسلامی موضوعات کی طرف مصری اہل قلم کے رخ کا ذکر کرتے ہیں جس کے مرکز میں «حیات محمد» تھی۔ 3 «زینب» کی «پہلا عربی ناول» کی حیثیت بھی متنازع ہے: ایلیٹ کولا کے نزدیک یہ درجہ متن سے زیادہ قومی اداروں کی ضروریات کا نتیجہ تھا۔ 3

    حوالہ جات

    • اردو ویکیپیڈیا، «محمد حسین ہیکل»، نظرثانی 12070493۔ 1
    • عربی ویکیپیڈیا، «محمد حسين هيكل»، نظرثانی 76918435۔ 2
    • انگریزی ویکیپیڈیا، "Mohammed Hussein Heikal"، نظرثانی 1362974022۔ 3
    • ویکی ڈیٹا، Q2362588۔ 4

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Died in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Muhammad Husayn Haykal — Urdu Wikipedia
    2. Muhammad Husayn Haykal — Arabic Wikipedia
    3. Mohammed Hussein Heikal — English Wikipedia
    4. Muhammad Husayn Haykal — Wikidata Q2362588
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد حسین ہیکل”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-husayn-haykal/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-24.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.