محمد شفیع اوکاڑوی

محمد شفيع أوكاروي

–

پاکستانی عالم اور خطیب (1930ء–1984ء) جن کا تعلق کھیم کرن، پنجاب سے تھا، 1947ء میں اوکاڑہ ہجرت کی اور پھر کراچی میں خطیب کی حیثیت سے آباد ہوئے۔ جماعت اہلِ سنت پاکستان کے بانیان اور اس کے پہلے چیئرمین تھے، اوکاڑہ میں جامعہ حنفیہ اشرف المدارس قائم کیا، 38 برس میں 18,000 سے زائد خطابات کیے اور 1985ء میں بعد از وفات ستارۂ امتیاز سے نوازے گئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
عالم · واعظ · سیاست دان
خطہ
south-asia
شناختیں
Wikidata
جائزہ

وقت میں زندگی

1875عیسوی1900عیسوی1925عیسوی1950عیسوی1975عیسوی2000عیسوی2025عیسوی
العصر الاستعماري · العصر المعاصر · العصر الحديث ہم عصر: عبد العزيز الغماري · عبد الفتاح ابو غدہ · عبد الرحمن بدوي · عبد الرزاق نوفل · عبد الله بن الصديق الغماري

کہانی میں مقام

    سنی (مستند) · sufi (مستند)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    حافظ محمد شفیع اوکاڑوی (2 فروری 1930ء – 24 اپریل 1984ء) پاکستانی عالم دین اور خطیب تھے جنھیں «خطیبِ پاکستان» کہا جاتا ہے اور جو جماعت اہلِ سنت پاکستان کے بانیان اور اس کے پہلے چیئرمین تھے۔1 اردو مضمون انھیں اہلسنت وجماعت کے ممتاز عالم دین اور مرکزی جماعت اہل سنت کے بانی قرار دیتا ہے، اور عربی مضمون ان کے القاب میں «مجدد مسلك أهل السنة» درج کرتا ہے۔23 انھوں نے 38 برس میں 18,000 سے زائد خطابات کیے۔1

    ابتدائی زندگی و ہجرت

    کھیم کرن، مشرقی پنجاب میں پیدا ہوئے، مقامی تاجر حاجی شیخ کرم الہٰی کے بڑے صاحبزادے تھے؛ انگریزی و عربی مضامین اور وکیڈیٹا ولادت 2 فروری 1930ء دیتے ہیں، جبکہ اردو مضمون سنہ 1929ء لکھتا ہے مگر اس کا اپنا ہجری اقتران (2 رمضان المبارک 1348ھ) 2 فروری 1930ء ہی بنتا ہے۔1324 1947ء میں اوکاڑہ ہجرت کر گئے جہاں والد کے ساتھ مسجد غوثیہ بنائی، اور 1954ء میں جامعہ حنفیہ اشرف المدارس کے بانیان اور سرپرستوں میں شامل تھے۔1

    بیعت و خلافت

    اردو مضمون کا باب «بیعت و ارادت» ان کے پیر و مرشد حضرت میاں غلام اللہ شرقپوری (ثانی صاحب) کو قرار دیتا ہے جن کا تعلق میاں شیر محمد شرقپوری کے سلسلۂ عالیہ نقشبندیہ مجددیہ سے تھا، اور لکھتا ہے کہ اوکاڑوی کو طریقت کے تمام سلاسل میں متعدد مشائخ سے اجازت و خلافت حاصل تھی اور ان کے مریدین ہزاروں کی تعداد میں دنیا بھر میں موجود ہیں۔2 عربی مضمون بھی لکھتا ہے کہ ان کے مرید دنیا بھر میں ہزاروں کی تعداد میں ہو گئے۔3

    خطابت و عوامی خدمات

    1956ء سے کراچی کی میمن مسجد کے خطیب و امام بنے اور جماعت اہلِ سنت کی بنیاد رکھ کر اس کے پہلے چیئرمین بنے؛ مشرقِ بعید، مشرقِ وسطیٰ، جنوبی افریقا، امارات اور ماریشس میں تبلیغ کی اور 1976ء میں جنوبی افریقا میں انجمن اہلِ سنت و جماعت قائم کی۔1 کراچی میں انھوں نے اہلِسنّت و جماعت کی طرف سے دس روزہ مجالسِ محرم اور جشنِ عید میلاد النبی کے جلوس و جلسوں کا سلسلہ شروع کیا۔2 1977ء میں قومی اسمبلی کے رکن منتخب ہوئے، 1962ء میں کراچی میں قاتلانہ حملے میں زخمی ہوئے اور 1985ء میں بعد از وفات ستارۂ امتیاز سے نوازے گئے۔1

    وفات

    تیسرے دل کے دورے کے بعد 24 اپریل 1984ء کو کراچی میں 54 برس کی عمر میں انتقال ہوا اور کراچی ہی میں دفن ہوئے۔13

    حوالہ جات

    {2} {1} {3} {4}

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Member of
    نقشبندیہ طریقہ

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    قاضی محمد· امام شامل· جماعت علی شاہ· سید سلیمان ندوی· نقشبندیہ طریقہ

    ماخذ

    1. Muhammad Shafee Okarvi — English Wikipedia
    2. Muhammad Shafee Okarvi — Urdu Wikipedia
    3. Muhammad Shafee Okarvi — Arabic Wikipedia
    4. Muhammad Shafee Okarvi — Wikidata Q4116376
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “محمد شفیع اوکاڑوی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-shafee-okarvi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-27.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    قاضی محمد

    غازی محمد بن اسماعیل الغیمراوی (1795–1832)، جو روسی مآخذ میں قاضی مُلّا کے نام سے معروف ہیں، داغستانی عالم اور نقشبندی صوفی تھے جو داغستان و چیچنیا کے پہلے امام بنے (1829–1832)۔ انہوں نے عرفی قانون (عادت) کی جگہ شریعت کے نفاذ کی مہم چلائی، 1830 میں روسی توسیع کے خلاف غزوات کا اعلان کیا، اور 17 (29) اکتوبر 1832 کو اپنے آبائی گاؤں گمری پر حملے میں قتل کیے گئے۔