خدیوی توفیق

محمد توفيق باشا

–

القاهرة

مصر اور سوڈان کے خدیو 1879 سے 1892 تک، اسرۂ علویہ کے چھٹے حکمران اور خدیو اسماعیل کے بڑے بیٹے۔ ان کے عہد میں عرابی بغاوت، 1882 میں اسکندریہ پر برطانوی گولہ باری اور برطانوی قبضے کا آغاز ہوا۔ وہ 1892 میں حلوان میں وفات پا گئے اور ان کے بیٹے عباس حلمی ثانی جانشین ہوئے۔

گہرائی

ایک نظر میں

کردار
حکمران
خطہ
egypt-nile
شناختیں
Wikidata
جائزہ
تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں

وقت میں زندگی

1820عیسوی1830عیسوی1840عیسوی1850عیسوی1860عیسوی1870عیسوی1880عیسوی1890عیسوی1900عیسوی1910عیسوی1920عیسوی1930عیسوی1940عیسوی
العصر الاستعماري · العصر الحديث ہم عصر: عبادی بانو بیگم · ابائی قنان باولی · عبد الرحمن الكواكبي · عبد الرزاق البيطار · عبد اللہ الندیم

مکان میں

القاهرة

نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے

کہانی میں مقام

    نامعلوم (نامعلوم)

    کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔

    خلاصہ

    محمد توفیق پاشا (15 نومبر 1852 – 7 جنوری 1892)، جو خدیو توفیق کے نام سے مشہور ہیں، 26 جون 1879 سے 7 جنوری 1892 تک مصر اور سوڈان کے خدیو اور اسرۂ علویہ کے چھٹے حکمران تھے۔ خدیو اسماعیل کے بڑے بیٹے ہونے کے ناتے انہیں مالی اور سیاسی بحران میں گھری ریاست ورثے میں ملی؛ ان کے عہد میں عرابی بغاوت، 1882 میں اسکندریہ کی گولہ باری اور مصر پر برطانوی قبضے کا آغاز ہوا۔ 1 2

    ابتدائی زندگی

    وہ قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مقالے کی تمہید ان کی پیدائش «30 اپریل یا 15 نومبر 1852» بتاتی ہے، جبکہ اس کا معلوماتی خانہ، عربی و فرانسیسی مقالے اور ویکی ڈیٹا 15 نومبر 1852 دیتے ہیں، اور یہی تاریخ یہاں اپنائی گئی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائیوں کے برعکس وہ یورپ تعلیم کے لیے نہیں بھیجے گئے بلکہ مصر ہی میں پلے بڑھے، اگرچہ فرانسیسی اور انگریزی روانی سے بولتے تھے۔ 1866 میں وراثت کا قانون باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہونے پر وہ ولی عہد بنے اور بارہ برس قاہرہ کے قریب اپنی جاگیر پر سکون کی زندگی گزارتے رہے۔ 1878 میں انہوں نے چند ماہ نظارے کی صدارت کی۔ 1 2

    دورِ حکومت

    26 جون 1879 کو برطانیہ اور فرانس کے دباؤ پر سلطان عبد الحمید ثانی نے اسماعیل کو معزول کیا اور توفیق کو خدیو اعلان کر دیا گیا۔ نومبر 1879 میں دوہری نگرانی بحال ہوئی اور ایولین بارنگ جیسے حکام عملاً حکومت چلاتے رہے، جبکہ فوج کی بے چینی احمد عرابی کی قیادت میں تحریک بن گئی۔ جولائی 1882 میں برطانوی امیر البحر نے اسکندریہ کے قلعوں پر گولہ باری کی دھمکی دی تو توفیق نے شہر چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ وہ ابھی خدیو ہیں اور خطرے کی گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔ تل الکبیر کی جنگ کے بعد انہوں نے برطانوی رہنمائی میں آئینی حکمران کا درجہ قبول کیا، 1884 میں سوڈان چھوڑنے پر رضامند ہوئے، اور آبپاشی، تعلیم اور انصاف میں گہری دلچسپی لی۔ 1 2

    ذاتی زندگی اور وفات

    15 جنوری 1873 کو قاہرہ میں انہوں نے شہزادی امینہ الہامی سے شادی کی، جو ان کی واحد بیوی تھیں۔ وہ 7 جنوری 1892 کو قاہرہ کے قریب حلوان محل میں انفلوئنزا سے وفات پا گئے، اور ان کے بڑے بیٹے عباس حلمی ثانی جانشین ہوئے؛ ان کی تدفین قاہرہ کے قبۂ افندینا میں ہوئی۔ 2

    تعلقات

    تعلقات دریافت کریں

    Born in
    القاهرة
    Buried in
    القاهرة

    وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی

    الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ

    ماخذ

    1. Tewfik Pasha — Arabic Wikipedia
    2. Tewfik Pasha — English Wikipedia
    • Tewfik Pasha — French Wikipedia
    • Tewfik Pasha — Wikidata Q374306
    اس صفحے کا حوالہ دیں

    islam.museum کے شرکاء۔ “خدیوی توفیق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-tawfiq-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.

    گٹ ہب پر اس صفحے کو بہتر بنائیں · غلطی کی اطلاع دیں · JSON

    پہلو

    لوگ

    نبی، صحابہ، علماء، حکمران، سائنس دان، شاعر، مسافر: وہ مرد و خواتین جنہوں نے کہانی کو شکل دی۔
    متعلقہ

    الجامع الأزهر

    Al-Azhar at Cairo: founded by the Fatimids as the mosque of their da'wa, then turned by the vizier Ya'qub ibn Killis in 378 into a university teaching the sciences and letters — from a pulpit reserved for the Fatimid call into one of Egypt's foremost centres of learning beside the mosques of Amr, Ibn Tulun and al-Hakim.