ایک نظر میں
- کردار
- حکمران
- خطہ
- egypt-nile
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
- تکمیل 2/5 · مکمل کرنے میں مدد کریں
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد توفیق پاشا (15 نومبر 1852 – 7 جنوری 1892)، جو خدیو توفیق کے نام سے مشہور ہیں، 26 جون 1879 سے 7 جنوری 1892 تک مصر اور سوڈان کے خدیو اور اسرۂ علویہ کے چھٹے حکمران تھے۔ خدیو اسماعیل کے بڑے بیٹے ہونے کے ناتے انہیں مالی اور سیاسی بحران میں گھری ریاست ورثے میں ملی؛ ان کے عہد میں عرابی بغاوت، 1882 میں اسکندریہ کی گولہ باری اور مصر پر برطانوی قبضے کا آغاز ہوا۔ 1 2
ابتدائی زندگی
وہ قاہرہ میں پیدا ہوئے۔ انگریزی مقالے کی تمہید ان کی پیدائش «30 اپریل یا 15 نومبر 1852» بتاتی ہے، جبکہ اس کا معلوماتی خانہ، عربی و فرانسیسی مقالے اور ویکی ڈیٹا 15 نومبر 1852 دیتے ہیں، اور یہی تاریخ یہاں اپنائی گئی ہے۔ اپنے چھوٹے بھائیوں کے برعکس وہ یورپ تعلیم کے لیے نہیں بھیجے گئے بلکہ مصر ہی میں پلے بڑھے، اگرچہ فرانسیسی اور انگریزی روانی سے بولتے تھے۔ 1866 میں وراثت کا قانون باپ سے بیٹے کی طرف منتقل ہونے پر وہ ولی عہد بنے اور بارہ برس قاہرہ کے قریب اپنی جاگیر پر سکون کی زندگی گزارتے رہے۔ 1878 میں انہوں نے چند ماہ نظارے کی صدارت کی۔ 1 2
دورِ حکومت
26 جون 1879 کو برطانیہ اور فرانس کے دباؤ پر سلطان عبد الحمید ثانی نے اسماعیل کو معزول کیا اور توفیق کو خدیو اعلان کر دیا گیا۔ نومبر 1879 میں دوہری نگرانی بحال ہوئی اور ایولین بارنگ جیسے حکام عملاً حکومت چلاتے رہے، جبکہ فوج کی بے چینی احمد عرابی کی قیادت میں تحریک بن گئی۔ جولائی 1882 میں برطانوی امیر البحر نے اسکندریہ کے قلعوں پر گولہ باری کی دھمکی دی تو توفیق نے شہر چھوڑنے سے انکار کر دیا کہ وہ ابھی خدیو ہیں اور خطرے کی گھڑی میں اپنے لوگوں کے ساتھ رہیں گے۔ تل الکبیر کی جنگ کے بعد انہوں نے برطانوی رہنمائی میں آئینی حکمران کا درجہ قبول کیا، 1884 میں سوڈان چھوڑنے پر رضامند ہوئے، اور آبپاشی، تعلیم اور انصاف میں گہری دلچسپی لی۔ 1 2
ذاتی زندگی اور وفات
15 جنوری 1873 کو قاہرہ میں انہوں نے شہزادی امینہ الہامی سے شادی کی، جو ان کی واحد بیوی تھیں۔ وہ 7 جنوری 1892 کو قاہرہ کے قریب حلوان محل میں انفلوئنزا سے وفات پا گئے، اور ان کے بڑے بیٹے عباس حلمی ثانی جانشین ہوئے؛ ان کی تدفین قاہرہ کے قبۂ افندینا میں ہوئی۔ 2
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
الجامع الأزهر· دار الحكمة بالقاهرة· مولد السلطنة: تولي بيبرس العرش 658هـ· أخذ القاهرة (١٥١٧)· وفاة أسد الدين شيركوه وولاية صلاح الدين· زلزلة مصر الكبرى سنة 608· قحط مصر ووباؤها سنة 695هـ· تعيين أربعة قضاة للمذاهب بمصر سنة 663هـ
ماخذ
- Tewfik Pasha — Arabic Wikipedia
- Tewfik Pasha — English Wikipedia
- Tewfik Pasha — French Wikipedia
- Tewfik Pasha — Wikidata Q374306
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “خدیوی توفیق”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammad-tawfiq-pasha/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.