ایک نظر میں
- کردار
- sultan
- خطہ
- west-africa-sahel
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
کہانی میں مقام
نامعلوم (نامعلوم)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
محمد الطاهر ثانی (وفات 1915) مغربی افریقہ کی خلافت سوکوتو کے تیرہویں سلطان تھے، جن کا دورِ حکومت 1903 سے 1915 تک رہا۔ وہ خلافت کے بانی عثمان بن فودیو کے پڑپوتے اور چوتھے سلطان علی بابا بن بیلو کے بیٹے تھے۔ انگریزوں نے سوکوتو کی فتح کے بعد انہیں سلطان مقرر کیا، چنانچہ وہ نوآبادیاتی دور کے پہلے سلطان بنے۔ جن ماخذوں سے رجوع کیا گیا ان میں سے کوئی ان کی پیدائش کا سال درج نہیں کرتا۔12
تقرری
گیارہویں سلطان عبد الرحمن اتیکو کی وفات پر 1902 میں طاہر ثانی محمد الطاهر اول کی امیدواری کے بڑے حریف تھے، مگر انتخاب الطاهر اول کا ہوا۔ کہا جاتا ہے کہ اس انتخاب میں ناکامی کے بعد طاہر ثانی خلافت کے معاملات سے بڑی حد تک بے پروا ہو گئے۔ 1903 میں برطانوی افواج نے سوکوتو فتح کیا اور الطاهر اول بہت سے حامیوں کے ساتھ شہر سے فرار ہو گئے۔ کمانڈر فریڈرک لوگارد نے 21 مارچ 1903 کو محمد الطاهر ثانی کو سوکوتو کا نیا سلطان مقرر کیا، لیکن ساتھ ہی سلطان کے منصب سے اس کی سیاسی طاقت کا بڑا حصہ چھین لیا۔1
نوآبادیاتی دور کی حکومت
ان کی حکومت اپنے رعایا کی خدمت اور برطانوی نوآبادیاتی حکام کی رضا کے درمیان توازن قائم کرنے پر مشتمل رہی۔ 1906 میں سوکوتو کے باہر ساتیرو گاؤں میں ایک مہدوی بغاوت پھوٹی۔ اسے کچلنے کے لیے رائل ویسٹ افریقن فرنٹیئر فورس کے دستے بھیجے گئے؛ خبر ملنے پر طاہر نے مالام عیسیٰ کی قیادت میں سوکوتو کے تین سو سواروں اور پیادوں کی مخلوط فوج ان کے ساتھ بھیجی۔ مشترکہ فوج نے بغاوت کچل دی، جسے مضمون علاقے میں برطانوی حکومت کے خلاف مسلح مزاحمت کی آخری مثال قرار دیتا ہے۔ ان کا دور 1915 میں ان کی وفات تک جاری رہا، مضمون کے اطلاعات خانے اور ویکی ڈیٹا کے مطابق سوکوتو میں، اور محمد مائیتورارے ان کے جانشین ہوئے۔12
جو ماخذ نہیں کہتے
ماخذ طاہر ثانی کو ان کے نسب اور منصب سے پہچانتے ہیں: بانی کے پڑپوتے، ایک سلطان کے بیٹے، اور خود تیرہویں سلطان۔ نہ انگریزی مضمون اور نہ ویکی ڈیٹا ان کے لیے شخصی طور پر کوئی مسلک، فقہی مذہب یا فرقہ نامزد کرتا ہے، اور ویکی ڈیٹا میں ان کے لیے مذہب کی کوئی قیمت نہیں۔ عثمان بن فودیو سے نسب اور سلطان کا منصب نسب و منصب ہیں، جو کسی مسلک کی شہادت نہیں دیتے، لہٰذا ڈیٹا ریکارڈ میں ان کا عقیدہ نامعلوم درج ہے۔12
ماخذ
- اوپر مذکور معرّف ماخذ ادارے، جو
data/source/میں درج ہیں۔ - اس مضمون کی ہر نظرِ ثانی مؤرخ ہونی چاہیے، اور اس ماخذ کا نام لینا چاہیے جس نے ہر واقعہ بدلا۔
تعلقات
- Ruler of
- خلافة صكتو
- Successor of
- محمد الطاهر اول
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
ماخذ
- Muhammadu Attahiru II — English Wikipedia
- Muhammadu Attahiru II — Wikidata Q6932917
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “محمد الطاهر ثانی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/muhammadu-attahiru-ii/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-10-26.