ایک نظر میں
- کردار
- عالم
- خطہ
- persia-central-asia · south-asia
- شناختیں
- Wikidata
- جائزہ
وقت میں زندگی
مکان میں
نقشہ: Natural Earth، عوامی ملکیت · مقامات اور راستہ گراف سے
کہانی میں مقام
sufi (مستند)
کردار تاریخ والے اور ماخذ والے ہیں؛ عجائب گھر فعل بیان کرتا ہے اور فیصلہ متعلقہ فریق سے منسوب کرتا ہے۔
خلاصہ
ملا شاہ بدخشی (1582ء–1661ء)، جن کا نام شاہ محمد تھا، بدخشان کے ایک قادری صوفی، میاں میر لاہوری کے شاگرد و خلیفہ، اور مغل شہزادے دارا شکوہ اور ان کی بہن جہاں آرا کے مرشد تھے۔ انسائیکلوپیڈیا ایرانیکا انھیں سلسلہ قادریہ کے ایک صوفی اور مصنف کے طور پر بیان کرتا ہے جو ریاضت کی سختی اور وجدانی کیفیت کے پرجوش اظہار دونوں کے حامل تھے۔ 1 2
بدخشان سے لاہور تک
وہ 990ھ/1582ء میں بدخشان کے علاقے رستاق کی بستی اراکسا میں ایک قاضی کے گھر پیدا ہوئے، ابتدائی دینی تعلیم بلخ میں پائی، تین سال کشمیر میں رہے اور آگرہ تک کا سفر کیا، پھر لاہور آ کر قادری بزرگ میاں میر کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوئے۔ 1 اردو مضمون کے مطابق وہ اکیس سال کی عمر میں علومِ عقلیہ و نقلیہ کے لیے بلخ گئے اور لاہور میں میاں میر سے بیعت کی۔ 3 میاں میر نے ابتدا میں انھیں ٹالا؛ روایت ہے کہ انھوں نے خود کو مٹانے کی عظیم ریاضتوں سے قبولیت پائی، پھر ان کی ترقی تیز رہی یہاں تک کہ ان کے شیخ نے ان کی تربیت کی تکمیل کا اعلان کر دیا۔ 1
کشمیر اور شاہی مرید
ملا شاہ لاہور میں نہ ٹھہرے بلکہ اس کی گرمی سے بچنے کے لیے کشمیر لوٹ گئے اور باقی زندگی کا بیشتر حصہ وہیں ایک تنگ حجرے میں گوشہ نشینی میں گزارا، پھر بھی ان کے گرد مریدوں کی بڑی تعداد جمع ہوئی اور وہ تربیتِ سالکین میں مشغول رہے۔ 1 ان کے مریدوں میں شہنشاہ شاہ جہاں کے دو بچے شامل تھے: دارا شکوہ، جن کی کتاب ”سکینۃ الاولیاء“ میں ان پر ایک باب ہے، اور جہاں آرا، جنھوں نے اپنی مریدی کا حال ”رسالۂ صاحبیہ“ میں لکھا۔ 1 2 دارا شکوہ خود میاں میر کے ہاتھ پر سلسلہ قادریہ میں داخل ہونا چاہتے تھے؛ میاں میر کی وفات کے بعد مرشد کی تلاش انھیں کشمیر میں ملا شاہ تک لے گئی۔ 2
عقیدہ اور آزمائش
ملا شاہ نے وحدۃ الوجود کا حلاجی لہجے میں اعلان کیا — ان کا ایک شعر ہے: ”جب عاقل خود کو پہچان لیتا ہے تو وہ خدا ہو جاتا ہے، اے دوست!“ — اور اس سے بعض ظاہر پرستوں کی دشمنی بھڑک اٹھی۔ 1 کہا جاتا ہے کہ کشمیر کے گورنر کے حکمِ قتل سے انھیں دارا شکوہ کی اپنے والد شاہ جہاں سے سفارش نے بچایا، اور 1658ء میں اورنگ زیب کے تخت نشین ہونے کے بعد جہاں آرا کو بھی اپنے شیخ کے لیے سفارش کرنی پڑی۔ اس کے تین سال بعد، 1661ء میں، وہ لاہور میں وفات پا گئے اور جہاں آرا کے بنوائے ہوئے مزار میں میاں میر کے پہلو میں دفن ہوئے۔ 1 ان کے بڑے خلیفہ ولی رام نامی ایک بزرگ تھے جن سے پنجاب میں وحدۃ الوجود پر شدید زور دینے والی ایک سلسلہ شاخ چلی۔ 1
تصانیف
ان کی ادبی شہرت بنیادی طور پر ان کی فارسی شاعری — رباعیات اور کئی مثنویوں — اور تصوف کی تکنیکی رسائل پر ہے: ”رسالۂ شاہیہ“، وحدۃ الوجود کی شرح جو دارا شکوہ اور جہاں آرا کے لیے لکھی گئی، اور قرآن کی پہلی، دوسری، تیسری اور بارہویں سورتوں کی تفسیر (تفسیرِ شاہ)۔ 1
تعلقات
وہ لوگ اور چیزیں جن پر مزید بات ہوئی
مسجد بادشاهي· احمد شاہ درانی کا لہور پر قبضہ، محرم 1161ھ/جنوری 1748ء· استيلاء الدز على لهاوور وقتله· بلبن کی تخت نشینی کے بعد لہور کی تعمیر نو، 664ھ/1266ء· لہور کا برطانوی سلطنت میں باضابطہ الحاق، مارچ 1849ء· حدود العالم میں لہور کا پہلا تحریری ذکر، 372ھ/982ء· ہمایوں کا لہور پر دوبارہ قبضہ، ربیع الثانی 962ھ/فروری 1555ء· التتمش کی فوجوں کا لہور پر قبضہ، 613ھ/1217ء
ماخذ
- Encyclopaedia Iranica — Badaḵšī, Mollā Shah
- Mulla Shah Badakhshi — English Wikipedia
- Mulla Shah Badakhshi — Urdu Wikipedia
- Mulla Shah Badakhshi — Wikidata (Q7461248)
اس صفحے کا حوالہ دیں
islam.museum کے شرکاء۔ “ملا شاہ بدخشی”. islam.museum، https://islam.museum/ur/person/mulla-shah-badakhshi/. CC BY-SA 4.0. آخری تازہ کاری 2026-11-01.